پی ٹی آئی مارچ میں شریک وفاقی ملازمین خمیازہ کیسے بھگتیں گے؟

27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں، جہاں ایک طرف پارٹی کارکن اسلام آباد میں طویل قیام کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب ممکنہ احتجاج میں شریک ہونے والے سرکاری ملازمین کی نگرانی بھی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد جانے والی ٹرانسپورٹ، مختلف اضلاع سے کارکنوں کی نقل و حرکت اور سرکاری ملازمین کی حاضری سے متعلق تفصیلات بھی متعلقہ اداروں تک پہنچائی جا رہی ہیں، جبکہ احتجاج میں شرکت کرنے والے وفاقی ملازمین کے خلاف کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں 27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج کے حوالے سے رپورٹس مرتب کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر احتجاج میں شرکت کرنے والے سرکاری ملازمین کی تفصیلات بھی وفاقی حکومت کو ارسال کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی محکموں میں تعینات ملازمین کے خلاف احتجاج میں شرکت کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ صوبائی محکموں میں تعینات ملازمین کے معاملے میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔ سرکاری دفاتر میں حاضری کے ریکارڈ کی جانچ اور احتجاج کے دن چھٹی لینے والے ملازمین کی نگرانی بھی زیر غور بتائی جاتی ہے، جبکہ بیماری یا ہنگامی صورتحال کے باعث غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے بارے میں بھی ریکارڈ چیک کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف خیبر پختونخوا نے ممکنہ لانگ مارچ کے لیے صوبے کے مختلف سرحدی راستوں پر کارکنوں کے کیمپ قائم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کارکنوں کو مناسب مقامات کی نشاندہی کرنے اور ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا گیا، جو صوبائی صدر جنید اکبر خان کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کارکنوں کی روانگی اور راستے میں قیام کے انتظامات کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

ادھر پشاور کے مختلف تجارتی مراکز میں بھی ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے خریداری میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض کارکنوں نے اسلام آباد میں کئی روز قیام کے لیے خشک راشن اور دیگر ضروری اشیا خریدنا شروع کر دی ہیں۔ پشاور کی پیپل منڈی سمیت مختلف بازاروں میں گزشتہ 3 سے 4 روز کے دوران خشک میووں، چائے کی پتی، خشک دودھ اور دیگر اشیائے خورونوش کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک مقامی تاجر عبدالرؤف کے مطابق 27 ستمبر قریب آنے کے ساتھ ہی تحریک انصاف سے وابستہ بعض افراد بڑی مقدار میں کھانے پینے کی اشیا خرید رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض کارکنوں نے طویل قیام کے لیے ٹینٹ بھی تیار کر لیے ہیں، جن میں سلنڈر اور دیگر ضروری سامان رکھنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ کارکنوں کی جانب سے گاڑیوں میں پیٹرول بھروانے کا سلسلہ بھی تیز ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث بعض پٹرول پمپس پر رش دیکھا جا رہا ہے۔ مردان، نوشہرہ اور چارسدہ سمیت مختلف علاقوں سے بھی بعض افراد پشاور کا رخ کر رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو آئندہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھا رہے ہیں۔

تاہم دوسری جانب پشاور کے بعض شہریوں اور تاجر برادری کی جانب سے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے مختلف رائے سامنے آ رہی ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی اور معاشی مشکلات کے دوران احتجاج کے لیے اسلام آباد جانا ان کے مسائل کا حل نہیں۔ ان کے مطابق جب عام گھرانے کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہے ہوں تو سیاسی احتجاج کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ عمران خان سے متعلق مقدمات اور ان کی رہائی یا قید کا فیصلہ عدالتوں کو کرنا چاہیے، اس لیے سڑکوں پر احتجاج کے بجائے قانونی اور عدالتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے کارکن اور قیادت ممکنہ لانگ مارچ کو سیاسی دباؤ بڑھانے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں اور 27 ستمبر کے لیے اپنی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ یوں ایک طرف خیبر پختونخوا سے کارکنوں کی ممکنہ بڑی تعداد کی روانگی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب سرکاری اداروں کی جانب سے ملازمین، ٹرانسپورٹ اور مختلف اضلاع کی صورتحال پر نظر رکھنے کی اطلاعات ہیں۔ 27 ستمبر کو تحریک انصاف کی سرگرمیاں کس شکل میں سامنے آتی ہیں اور سرکاری سطح پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔

Back to top button