پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے گڈز ٹرانسپورٹرز پریشان کیوں؟

27 ستمبر کواسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل انتظامیہ کی جانب سے بڑی تعداد میں کنٹینرز جمع کیے جانے کا معاملہ ایک نئے تنازع میں تبدیل ہوگیا ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے نجی ٹرانسپورٹرز کے کنٹینرز مبینہ طور پر زبردستی حاصل کرکے سڑکوں کی بندش کے لیے استعمال کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تمام گاڑیوں اور کنٹینرز کو فوری طور پر چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایک طرف اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز نظر آرہے ہیں اور دوسری طرف ان کنٹینرز میں موجود کروڑوں روپے مالیت کا سامان خراب ہونے اور کاروباری نقصان کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری کے مطابق اسلام آباد میں 1,000 سے زائد کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا سڑکوں پر موجود کنٹینرز کی بڑی تعداد تو دکھا رہا ہے، لیکن یہ سوال نہیں اٹھایا جارہا کہ یہ کنٹینرز کہاں سے آئے اور ان کے مالکان کو اس عمل سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ نجی اثاثے ہیں جو کاروباری سرگرمیوں اور ملکی معیشت کے لیے استعمال ہوتے ہیں، انہیں احتجاجی راستے روکنے کے لیے استعمال کرنے سے ٹرانسپورٹرز براہ راست مالی نقصان سے دوچار ہورہے ہیں۔
اسلام آباد میں موجودہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا، جبکہ جماعت اسلامی بھی مہنگائی، پیٹرولیم لیوی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کو لانگ مارچ میں تبدیل کرتے ہوئے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کرچکی ہے۔ ان اعلانات کے بعد انتظامیہ نے دارالحکومت کے حساس مقامات اور داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی انتظامات بڑھا دیے ہیں اور بڑی تعداد میں کنٹینرز بھی مختلف مقامات پر پہنچائے گئے ہیں۔
فی الحال اسلام آباد کے تمام راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے، تاہم ڈی چوک، کشمیر ہائی وے، اسلام آباد ایکسپریس وے اور جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد کے قریب سڑکوں کے کناروں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز موجود ہیں۔ ان انتظامات کا مقصد ممکنہ طور پر احتجاجی قافلوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور حساس مقامات کی سکیورٹی برقرار رکھنا ہے، تاہم ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ اس مقصد کے لیے نجی شعبے کے اثاثوں کا استعمال ان کے لیے سنگین کاروباری مسئلہ پیدا کررہا ہے۔
محمد اویس چوہدری کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز سے کنٹینرز لے کر انہیں راستے بند کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جبکہ بعض کنٹینرز میں پہلے سے تجارتی سامان موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ سامان طویل وقت تک کنٹینرز میں پڑا رہا تو اس کے خراب ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں مالکان، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔ ان کا سوال ہے کہ اگر حکومت کسی نجی کاروباری اثاثے کو اپنے انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے تو اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کا کاروبار پہلے ہی مختلف مشکلات کا شکار ہے اور روزانہ کی بنیاد پر گاڑیوں اور کنٹینرز کے غیر معمولی استعمال یا روک دیے جانے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ایک کنٹینر صرف ایک لوہے کا ڈبہ نہیں بلکہ اس کے ذریعے ملک بھر میں اربوں روپے کا سامان ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتا ہے۔ اگر یہی نظام احتجاجی سرگرمیوں کے باعث رک جائے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹرز تک محدود نہیں رہتے بلکہ تاجر، صنعت کار، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور صارفین بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
محمد اویس چوہدری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پکڑے گئے تمام کنٹینرز اور گاڑیاں فوری طور پر مالکان کے حوالے کی جائیں اور مبینہ پکڑ دھکڑ کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصان کا بھی ازالہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے اثاثے ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے ہیں، سڑکیں بند کرنے کے لیے نہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر احتجاج یا لانگ مارچ کے انتظامات کے لیے کنٹینرز درکار ہیں تو اس کے لیے واضح قانونی طریقہ کار، مالکان کی رضامندی اور نقصان کے ازالے کا نظام موجود ہونا چاہیے۔
دوسری جانب لانگ مارچز کے اعلان کے بعد حکومت اور انتظامیہ کے لیے امن و امان برقرار رکھنا بھی ایک اہم انتظامی چیلنج بن چکا ہے۔ دارالحکومت میں حساس مقامات کی سکیورٹی، شہریوں کی آمدورفت، احتجاج کرنے والوں کی نقل و حرکت اور اہم شاہراہوں کو کھلا رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں کنٹینرز کو بطور رکاوٹ استعمال کرنے کی حکمت عملی اگر اختیار کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ نجی ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ تنازع اس بڑے سوال کو بھی سامنے لے آیا ہے کہ سیاسی احتجاج اور شہری و کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ حکومت کے لیے امن و امان اور اہم تنصیبات کا تحفظ ضروری ہے، احتجاج کرنے والی جماعتوں کے لیے اپنے سیاسی مؤقف کے اظہار کا حق اہم ہے، جبکہ ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کے لیے اپنے اثاثوں اور سامان کو نقصان سے محفوظ رکھنا بنیادی معاشی ضرورت ہے۔ اگر کسی ایک فریق کے اقدامات دوسرے فریق کے مالی مفادات کو متاثر کرتے ہیں تو اس کے لیے واضح قانونی اور انتظامی طریقہ کار کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔
20 ستمبر اور 27 ستمبر کے قریب آتے ہی اسلام آباد میں سکیورٹی اور انتظامی سرگرمیاں مزید اہم ہوسکتی ہیں، لیکن کنٹینرز کی موجودگی نے لانگ مارچز سے پہلے ہی ایک الگ محاذ کھول دیا ہے۔ اب توجہ صرف اس بات پر نہیں کہ احتجاجی قافلے اسلام آباد میں داخل ہوپاتے ہیں یا نہیں، بلکہ اس سوال پر بھی ہے کہ راستے بند کرنے کے انتظامات میں استعمال ہونے والے نجی کنٹینرز اور ان میں موجود سامان کے ممکنہ نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔ ٹرانسپورٹرز نے اپنا احتجاج واضح کردیا ہے اور حکومت سے فوری رہائی، نقصان کے ازالے اور آئندہ ایسے اقدامات کے لیے واضح طریقہ کار کا مطالبہ کیا ہے۔
