کمسن بچیوں کے اغوا کی وارداتوں میں اچانک ہوشربااضافہ کیوں؟

کمسن بچیوں کے اغوا کے بعد انہیں ملک کے دوسرے صوبوں میں منتقل کیے جانے کے واقعات نے پولیس کے موجودہ بین الصوبائی تفتیشی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک طرف اغوا کے مقدمات میں ہر گزرتا لمحہ مغوی بچی کی حفاظت اور بازیابی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے، جبکہ دوسری جانب دوسرے صوبے میں چھاپہ مار کارروائی یا مغوی بچی کو بازیاب کرانے کے لیے طویل انتظامی اجازت کا طریقہ کار پولیس کی فوری کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ جب تک ضروری اجازت کا مرحلہ مکمل ہوتا ہے، اغوا کار اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنے یا مغوی بچی کو مزید کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق بین الصوبائی کارروائی کے لیے تفتیشی افسر کی جانب سے تیار کی جانے والی درخواست کئی انتظامی مراحل سے گزرتی ہے اور بالآخر سیکریٹری داخلہ کے دفتر تک پہنچنے میں کم و بیش ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ کمسن بچیوں کے اغوا جیسے حساس مقدمات میں یہ تاخیر تفتیشی ٹیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے، کیونکہ اغوا کاروں کے پاس جگہ تبدیل کرنے، شواہد مٹانے اور مغوی کو مزید دور منتقل کرنے کے لیے کافی وقت دستیاب ہوجاتا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ایسے مقدمات میں بروقت کارروائی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بعض معاملات میں تفتیشی ٹیموں کو مشتبہ ملزمان، ان کے ممکنہ ٹھکانوں یا مغوی بچی کی موجودگی سے متعلق اہم معلومات بھی بروقت حاصل ہوجاتی ہیں، لیکن بین الصوبائی کارروائی کے لیے درکار اجازت کا طویل عمل فوری ایکشن کی راہ میں حائل ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً جس مقام پر پولیس چند گھنٹوں یا چند دنوں میں کارروائی کرکے بازیابی کی کوشش کرسکتی تھی، وہاں کئی ہفتوں کی تاخیر کے بعد پہنچنے تک حالات تبدیل ہوچکے ہوتے ہیں۔

کمسن بچیوں کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور ایسے حساس مقدمات کی پیشہ ورانہ تفتیش کے لیے پولیس میں خصوصی جنسی جرائم کی تفتیشی یونٹ، یعنی ایس ایس او آئی یو، بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس خصوصی یونٹ کا بنیادی مقصد حساس نوعیت کے مقدمات کی تفتیش کو زیادہ منظم، مؤثر اور پیشہ ورانہ بنانا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق افرادی قوت، وسائل اور بین الصوبائی کارروائیوں سے متعلق انتظامی پیچیدگیاں اب بھی تفتیشی عمل کی رفتار کو متاثر کررہی ہیں۔

یہ معاملہ محض پولیس کی کارکردگی کا نہیں بلکہ پورے بین الصوبائی قانون نافذ کرنے والے نظام کی استعداد کا سوال بن چکا ہے۔ اگر ایک صوبے کی پولیس کو دوسرے صوبے میں موجود مغوی بچی یا مشتبہ ملزم تک پہنچنے کے لیے طویل اجازت کے مراحل سے گزرنا پڑے تو جدید جرائم کی رفتار کے مقابلے میں روایتی انتظامی نظام غیر مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اغوا کار موبائل فون، سفری ذرائع اور مختلف شہروں میں رابطوں کے ذریعے چند گھنٹوں میں مقام تبدیل کرسکتے ہیں، جبکہ سرکاری اجازت کا عمل اگر ہفتوں لے تو تفتیشی ٹیموں کے لیے فوری برتری برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

کمسن بچیوں کے اغوا جیسے مقدمات میں اصل ضرورت ایسے طریقہ کار کی ہے جس کے ذریعے قانونی تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر بین الصوبائی پولیس کارروائی ممکن بنائی جاسکے۔ واضح رابطہ نظام، فوری منظوری کا طریقہ، متعلقہ صوبوں کی پولیس کے درمیان براہ راست تعاون اور حساس مقدمات کے لیے خصوصی ہنگامی پروٹوکول ایسے اقدامات ہوسکتے ہیں جن سے تفتیشی ٹیموں کو غیر ضروری تاخیر سے بچایا جاسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خصوصی تفتیشی یونٹس کو مطلوبہ افرادی قوت، جدید وسائل اور بین الصوبائی رابطے کے مؤثر ذرائع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ کمسن بچی کے اغوا کا مقدمہ محض ایک ایف آئی آر یا ایک تفتیشی فائل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ ایک خاندان کی زندگی، ایک بچے کا مستقبل اور فوری تحفظ کا سوال وابستہ ہوتا ہے۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر پولیس کو مغوی بچی کے ممکنہ ٹھکانے کی بروقت اطلاع مل جائے تو کیا اسے فوری کارروائی کا ایسا قانونی راستہ دستیاب ہے جس کے ذریعے بچی کو مزید نقصان پہنچنے سے پہلے بازیاب کرایا جاسکے؟ اگر موجودہ نظام میں اجازت کے مراحل ہفتوں لے رہے ہیں تو ان حساس مقدمات کے لیے ہنگامی طریقہ کار وضع کرنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اغوا کاروں کے لیے چند گھنٹے بھی کافی ہوسکتے ہیں، جبکہ ایک ماہ کی تاخیر کسی معصوم بچی کی بازیابی کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

Back to top button