71 لاکھ ملازمتیں،یورپ سے جاپان تک پاکستانی ہنرمندوں کی مانگ بڑھ گئی

پاکستانی ہنرمند نوجوانوں کے لیے عالمی لیبر مارکیٹ میں روزگار کے نئے امکانات سامنے آئے ہیں اور فرانس، اٹلی، ترکیہ، جاپان، جنوبی کوریا اور ملائشیا سمیت مختلف ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے مجموعی طور پر 71 لاکھ 58 ہزار سے زائد ملازمتوں کے مواقع متوقع ہیں۔ عالمی سطح پر مختلف شعبوں میں ہنرمند اور تربیت یافتہ افراد کی بڑھتی ہوئی ضرورت پاکستان کے لیے ایک اہم موقع بن سکتی ہے، تاہم ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف ڈگری یا بنیادی ہنر کافی نہیں ہوگا بلکہ زبان، پیشہ ورانہ تربیت، عملی تجربے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مہارت بھی ضروری ہوگی۔

عالمی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی ادارہ برائے فنی و پیشہ ورانہ تعلیم، نیوٹیک، نے پاکستانی نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے تیار کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں اسکل ریفریشر، پیشہ ورانہ گرومنگ اور مختلف زبانوں کی تربیت سمیت متعدد پروگرامز متعارف کرانے کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ پاکستانی امیدوار صرف ہنر کے اعتبار سے نہیں بلکہ عالمی ملازمتوں کے تقاضوں کے مطابق بھی خود کو تیار کرسکیں۔

فرانس میں پاکستانی ہنرمندوں کے لیے متعدد شعبوں میں نمایاں مواقع متوقع ہیں۔ دستیاب اندازوں کے مطابق کلینرز اور ہیلپرز کے لیے 491,310، سیلز ورکرز کے لیے 379,975 اور ڈرائیورز کے لیے 300,568 ملازمتوں کی ضرورت سامنے آئی ہے۔ اسی طرح ہیلتھ کیئر ورکرز کے لیے 269,989، تعمیراتی شعبے میں 231,158، پرسنل کیئر ورکرز کے لیے 202,349 اور جنرل کلرکس کے لیے 197,207 ملازمتوں کے مواقع متوقع ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس میں صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہی نہیں بلکہ مختلف فنی اور عملی مہارت رکھنے والے افراد کے لیے بھی روزگار کے امکانات موجود ہیں۔

اٹلی بھی پاکستانی افرادی قوت کے لیے اہم مارکیٹ کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ یہاں ٹیچنگ پروفیشنلز کے لیے 541,812 اسامیوں کے مواقع متوقع ہیں، جبکہ جنرل کی بورڈ کلرکس کے لیے 394,553، کلینرز کے لیے 349,738، تعمیراتی شعبے کے لیے 294,064 اور پرسنل کیئر کے شعبے میں 281,352 ملازمتوں کی ضرورت پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہاسپیٹلٹی اور ریٹیل منیجرز کے لیے 236,915 جبکہ ہیلتھ کیئر کے شعبے میں 236,248 مواقع متوقع ہیں۔

ترکیہ میں بھی 2030 تک مختلف شعبوں میں افرادی قوت کی طلب برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مائننگ اور کنسٹرکشن لیبر کے لیے 432,156، میٹل اور مشینری ورکرز کے لیے 360,280 اور سیلز ورکرز کے لیے 341,599 ملازمتوں کی ضرورت متوقع ہے۔ ڈرائیورز اور آپریٹرز کے لیے 145,013 جبکہ کلینرز کے لیے 133,366 اسامیاں متوقع ہیں۔ تعمیرات، صنعت، مشینری اور دیگر فنی شعبوں میں تربیت یافتہ پاکستانی نوجوان ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تربیت متعلقہ ملک کے معیار اور تقاضوں کے مطابق ہو۔

جاپان میں بھی آئی ٹی، ہاسپیٹلٹی، ہیلتھ کیئر اور تعمیراتی شعبوں کو اہم قرار دیا جارہا ہے، جبکہ جنوبی کوریا میں آٹوموبائل، مینوفیکچرنگ اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ملائشیا میں آئی ٹی، ہاسپیٹلٹی، زراعت، قالین اور خدمات کے شعبوں میں ہنرمند پاکستانیوں کی طلب متوقع ہے۔

تاہم ان اعداد و شمار کو براہ راست 71 لاکھ پاکستانیوں کے لیے یقینی ملازمتوں کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ مختلف ممالک میں مستقبل کی متوقع لیبر ڈیمانڈ سے متعلق اندازے ہیں، جبکہ حقیقی مواقع کا انحصار متعلقہ ممالک کی امیگریشن پالیسی، ورک ویزا قوانین، پیشہ ورانہ لائسنسنگ، مقامی زبان، امیدوار کی اہلیت اور آجر کی ضروریات پر ہوگا۔ اس لیے پاکستانی نوجوانوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ ان ممکنہ مواقع کے مطابق اپنی مہارتوں کو بین الاقوامی معیار تک پہنچائیں۔

زبان کی مہارت اس پورے عمل میں خاص اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ کئی ممالک میں صرف تکنیکی ہنر رکھنے والا امیدوار کافی نہیں ہوتا بلکہ مقامی زبان یا مطلوبہ بین الاقوامی زبان میں مؤثر رابطہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ نیوٹیک کی جانب سے زبان کی تربیت کے پروگرامز پر توجہ اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔ اگر فنی تربیت، زبان، عملی تجربے اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن کو ایک مربوط نظام کے تحت آگے بڑھایا جائے تو پاکستانی نوجوان عالمی روزگار کی منڈی میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے یہ ممکنہ مواقع صرف افراد کے لیے ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ملک کی معیشت کے لیے بھی اہم ہوسکتے ہیں۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی پہلے ہی ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر عالمی منڈی کی حقیقی ضرورت کے مطابق بڑی تعداد میں ہنرمند پاکستانی قانونی اور منظم طریقے سے بیرونِ ملک روزگار حاصل کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ، ہنرمند افرادی قوت کی قدر میں بہتری اور ملک میں ترسیلات زر کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

اب اصل امتحان یہ ہے کہ پاکستان ان متوقع عالمی مواقع کو محض اعداد و شمار تک محدود رکھتا ہے یا واقعی ایسی تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرتا ہے جو فرانس، اٹلی، ترکیہ، جاپان، جنوبی کوریا اور ملائشیا کی مارکیٹ کی عملی ضروریات پوری کرسکے۔ 71 لاکھ سے زائد متوقع ملازمتوں کا حجم یقیناً بڑا ہے، لیکن ان مواقع کو پاکستانی نوجوانوں کے لیے حقیقی روزگار میں تبدیل کرنے کے لیے معیاری فنی تربیت، زبان کی تعلیم، بین الاقوامی سرٹیفکیشن، قانونی ورک ویزا سہولت اور بیرونِ ملک روزگار کے شفاف نظام کی ضرورت ہوگی۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ہنر مند نوجوان پاکستان کے لیے ایک بڑا معاشی اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

Back to top button