میرا جہاز، میری مرضی، مریم نواز کا ناقدین کو جواب

 

 

 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے سرکاری جہاز کے استعمال پر جاری تنقید کا بھرپور جواب دیتے ہوئے "میرا جہاز، میری مرضی” کا موقف اپنا لیا ہے۔ انہوں نے اپنی پرائیویٹ لندن یاترا کے لیے سرکاری جہاز کے استعمال کا کھل کر دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لیے مختص جہاز ان کا ذاتی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا طیارہ ہے، جسے وہ اپنی سرکاری ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جب لندن میں میڈیا کے لوگوں نے مریم سے گفتگو کی کوشش کی تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ وہ پرائیویٹ وزٹ پر ہیں لہذا بات نہیں کریں گی۔

 

اگلے روز ملتان میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اس حرکت پر طویل وضاحت دی اور کہا کہ وہ سرکاری جہاز کے استعمال کو قابل اعتراض نہیں سمجھتیں اور جہاں عوامی خدمت کے لیے جانا ہو، وہاں وقت بچانے کے لیے دستیاب سرکاری وسائل استعمال کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری جہاز کے اخراجات کی ادائیگی کے معاملے پر مریم نواز نے کہا کہ انہیں کسی وی لاگر، یوٹیوبر یا میڈیا پرسن کو وضاحت دینے کی ضرورت نہیں، تاہم وہ خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے انہوں نے سرکاری جہاز کے استعمال پر ہونے والے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے ہیں اور اس کی رسید بھی موجود ہے۔

 

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مریم نواز نے سخت عوامی تنقید کی زد میں آنے کے بعد جہاز کے اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ مریم نواز کے دورہ لندن میں طیارے پر اٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی اب دستاویزی طور پر بھی سامنے آ گئی ہے۔ 17 ستمبر 2026 کی ایک رسید کے مطابق 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے حکومت پنجاب کے خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔ یہ رقم نیشنل بینک کی ویلنشیا برانچ لاہور میں پنجاب حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی، جبکہ ادائیگی بینک آف پنجاب کے چیک کے ذریعے کی گئی۔

ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو کبھی گاڑی اور کبھی جہاز سے مختلف علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب گزشتہ برس پنجاب میں شدید سیلاب آیا تو وہ متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے بھی پہنچی تھیں، اس لیے ان کے لیے اصل مقصد عوام تک پہنچنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہے۔

 

مریم نواز نے کہا کہ جس جہاز پر تنقید کی جا رہی ہے وہ ان کا ذاتی جہاز نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا سرکاری طیارہ ہے اور وہ اسے اپنے گھر رائیونڈ لے کر نہیں جا سکتیں۔ ان کے مطابق چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو سرکاری فضائی سہولت حاصل ہے، تاہم تنقید صرف ان پر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر دیگر صوبوں کے حکمران سرکاری طیارے استعمال کرتے ہیں تو ان کے معاملے میں یہی معیار کیوں اختیار نہیں کیا جاتا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی تقریر میں سرکاری جہاز کے استعمال کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور اپنی مصروفیات سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کا اصل اثاثہ ان کا وقت ہے، جو انہیں عوامی خدمت کے لیے صرف کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن کے دو بجے دفتر شروع کرنے والی وزیراعلیٰ نہیں بلکہ رات گئے تک کام کرتی ہیں اور صبح دوبارہ اپنے دفتری امور شروع کر دیتی ہیں، اس لیے مختلف اضلاع کے دوروں میں سفر کا وقت کم کرنا ان کے لیے اہم ہے۔

 

مریم نواز نے کہا کہ انہیں ملتان، سرگودھا، راولپنڈی، ڈی جی خان، بھکر اور لیہ سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنا ہوتا ہے اور اگر ہر سفر سڑک کے ذریعے کیا جائے تو ان کا قیمتی وقت سفر میں صرف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لاہور سے ملتان تک میٹرو یا گرین بس کی سہولت موجود ہوتی تو وہ اس میں سفر کرتیں، تاہم وزیراعلیٰ کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ علاقوں تک کیسے پہنچ سکتی ہیں۔

 

تاہم ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پنجاب کے سوا نہ تو کسی دوسرے صوبے کے وزیر اعلی نے 17 ارب روپے کا مہنگا جہاز سرکاری خزانے سے خریدا ہے اور نہ ہی وہ ایسا کوئی جہاز لے کر بیرون ملک پرائیویٹ دورے پر جاتے ہیں۔  انہوں نے سرکاری جہاز سے جڑی تنقید کو اپنی حکومت کی کارکردگی پر تنقید قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بعض حلقوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ دوسرے صوبوں کے حکمران پنجاب کا نام لینے کے بجائے اپنے صوبوں میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی مثالیں پیش کریں۔

 

مریم نواز نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ اعتراض اس بات پر ہے کہ سرکاری جہاز کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے یہ حقیقت نظرانداز کی جا رہی ہے کہ وہ لندن کے سفر کے دوران بھی حکومتی امور سے لاتعلق نہیں تھیں اور حکومتی معاملات چلاتی رہیں۔ مریم نواز کے مطابق وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کے لیے مکمل طور پر چھٹی کا تصور مختلف ہے کیونکہ وہ جہاں بھی موجود ہوں، ان کی ذمہ داریاں اور حکومتی معاملات جاری رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مری، لندن، گاڑی یا جہاز، وہ جہاں بھی ہوتی ہیں، ان کا دفتر اور عوامی خدمت کا کام جاری رہتا ہے۔

 

مریم نواز نے اپنی تقریر میں جہاز کے استعمال کی ایک اور پچگانہ جسٹی فکیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ لندن سے واپسی کے دن وہاں کے تمام ایئر پورٹس بند ہو گئے تھے لہٰذا کہ اگر وہ سرکاری جہاز کے بجائے کمرشل پرواز سے لندن گئی ہوتیں تو ان کی واپسی میں کئی دن کی تاخیر ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیرون ملک دورے بھی محض ذاتی نوعیت کے نہیں ہوتے کیونکہ چین، جاپان، ترکی، آذربائیجان اور دیگر ممالک کے دوروں میں وہ پنجاب کی نمائندگی اور صوبے کے منصوبوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر انہیں پنجاب کے منصوبوں اور صوبے کی ترقی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بیرون ملک جانا پڑے تو وہ آئندہ بھی جائیں گی۔

 

مریم نواز نے کہا کہ وہ کسی وی لاگر، یوٹیوبر یا میڈیا شخصیت کے سامنے جواب دہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بعد عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گی اور نہ ہی سرکاری جہاز ان کے ساتھ ان کے گھر جائے گا، اس لیے چند برس بعد جب وہ حکومت سے رخصت ہوں گی تو ان کی کارکردگی کا فیصلہ عوام کریں گے۔

مریم نواز نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ اگر عوام ان کی خدمت سے مطمئن ہوئے تو انہیں ووٹ دیں گے اور اگر مطمئن نہ ہوئے تو وہ عوام کے فیصلے کو قبول کریں گی۔ ان کے مطابق سرکاری عہدہ، جہاز جیسی سہولتیں مستقل نہیں ہیں بلکہ عوامی خدمت کے لیے ہیں، جنہیں وہ آئیندہ بھی استعمال کرتی رہیں گی۔ یعنی تنقید کرنے والے جائیں بھاڑ میں کیونکہ میرا جہاز، میری مرضی۔

 

 

Back to top button