اسٹیبلشمنٹ ایمان مزاری کو معاف کیوں نہیں کر رہی؟

 

 

 

سپریم کورٹ کی جانب سے ریاست مخالف ٹویٹس کے مقدمے میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل اور ضمانت منظور کیے جانے کے باوجود دونوں کو رہا کرنے کی بجائے ایک اور مقدمے میں عدالتی کارروائی کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس عمل سے صاف ظاہر ہے کہ طاقتور اسٹیبلشمنٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 

ایک ایسے وقت میں جب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے اہل خانہ اور وکلا سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ان کی رہائی کے منتظر تھے، دونوں کو رات گئے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں تھانہ کوہسار میں درج مقدمے میں پیش کیا گیا، جہاں ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ عدالت نے کارروائی کے بعد دونوں کا ریمانڈ دیتے ہوئے انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ یوں نو ماہ کی قید کے بعد رہائی کی امید پانے والے میاں بیوی اب دوبارہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہو چکے ہیں۔

 

اس سے قبل سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کی معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے دونوں کے لیے دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھی مقرر کیے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نتیجے میں جنوری 2026 میں سنائی گئی سزا پر عمل درآمد عارضی طور پر رک گیا ہے۔ اسلام آباد کی سیشن عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17،17 سال قید اور جرمانوں کی سزا سنائی تھی۔ مقدمے میں ان کی سوشل میڈیا پوسٹس کو استغاثہ کی جانب سے ریاست مخالف بیانیے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

 

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں درخواست گزار وکیل ہیں اور عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے، تاہم انہیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ عدالت نے یہ ریلیف اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ان کی اپیلوں کے حتمی فیصلے تک محدود رکھا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے اپنی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم ان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر طویل عرصے تک پیش رفت نہ ہونے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھی مقدمے میں زیر التوا درخواستوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ہائی کورٹ میں دونوں کی درخواستوں پر کارروائی آئندہ مرحلے میں جاری رہے گی۔

 

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے اگست 2025 میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزمان نے سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا، لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی اور ریاستی اداروں کے خلاف عوامی اعتماد کو متاثر کرنے والا مواد پھیلایا۔ دونوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

 

اس مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے سوشل میڈیا پوسٹس کو مختلف دفعات کے تحت قابل تعزیر قرار دینے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد جنوری میں ٹرائل کورٹ نے دونوں کو سزا سنائی۔ بعد ازاں عدالت عالیہ میں سزا معطلی کی درخواستیں دائر ہوئیں اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف اس مقدمے کے علاوہ اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق مقدمات بھی پہلے سے زیر سماعت رہے ہیں۔ دونوں کو جنوری میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج سے متعلق ایک الگ مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔

 

ان مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے مختلف مواقع پر ضمانت بھی دی گئی، تاہم دوسرے زیر التوا مقدمات کے باعث ان کی رہائی عملی طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔ فروری 2026 میں انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ سیکریٹریٹ اور تھانہ کوہسار میں درج مقدمات میں ان کی ضمانت منظور کی تھی، مگر اس وقت بھی ریاست مخالف ٹویٹس کیس میں سنائی گئی سزا ان کی حراست کی وجہ بنی رہی۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا کیس اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ دونوں وکیل انسانی حقوق اور جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ ان کے خلاف کیسز پر انسانی حقوق کی بعض بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کے ٹرائل میں منصفانہ سماعت اور اظہارِ رائے کے حق سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔

پی ٹی آئی کا احتجاج کاؤنٹر کرنے کے لیے کریک ڈاؤن تیز

دونوں وکلا کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات ان کی انسانی حقوق کی وکالت، بالخصوص جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کے تناظر میں قائم کیے گئے۔ دوسری جانب حکام اور استغاثہ نے سوشل میڈیا مواد کو ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال اور ریاست مخالف بیانیے سے جوڑا ہے۔ یوں معاملہ اظہارِ رائے، سائبر قوانین اور ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ جرائم سے متعلق ایک مسلسل قانونی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

 

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے معاملے میں اب بنیادی قانونی سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد زیر التوا دوسرے مقدمات میں عدالتیں کیا فیصلہ کرتی ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ ان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر حتمی طور پر کیا فیصلہ سناتی ہے۔ اس دوران دونوں وکلا بدستور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی حراست مختلف مقدمات کے قانونی نتائج سے منسلک ہے۔

 

Back to top button