چرچ آف انگلینڈ نے طاہر اشرفی سے اعزاز کیوں چھین لیا؟

 

 

 

بھائی لوگوں سے قربت کا دعوی کرنے والے سرکاری مولوی علامہ طاہر محمود اشرفی ایک مرتبہ پھر ایک تنازع کا شکار ہو کر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ آرچ بشپ آف کینٹربری Arch Bishops of Canterbury نے پاکستانی مذہبی رہنما طاہر محمود اشرفی کو دیا گیا اعزاز 48 گھنٹوں کے بعد ہی واپس لے لیا ہے۔ یہ اعزاز موصوف کو بین المذاہب ہم آہنگی اور مفاہمت کے فروغ کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔

 

خیال رہے کہ آرچ بشپ چرچ آف انگلینڈ کا سب سے سینئر بشپ سمجھا جاتا ہے جس کا بنیادی کام مختلف مسیحی فرقوں اور دوسرے مذاہب کے رہنماؤں کے ساتھ بین المذاہب تعلقات اور مکالمے کو فروغ دینا ہے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی کو یہ اعزاز آرچ بشپ آف کینٹربری، ڈیم سارہ ملالی نے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر لندن میں منعقدہ تقریب کے دوران دیا تھا۔ انہیں پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور بالخصوص مسیحی برادری کے لیے کام کرنے پر اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ اسامہ بن لادن کے حوالے سے طاہر اشرفی کا سال 2007 میں دیا گیا بیان دوبارہ سامنے آ گیا جس میں انھوں نے القاعدہ کے سربراہ کو روس، امریکا اور برطانیہ کے خلاف اسلام کے لیے لڑنے والا مجاہد قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ’’سیف اللہ‘‘ یعنی ’’اللہ کی تلوار‘‘ کا لقب دینا چاہیں گے۔

 

لیکن یہ معاملہ تب متنازع بن گیا جب 11 ستمبر کی برسی کے موقع پر طاہر اشرفی کو اعزاز برطانیہ میں اعزاز دیا گیا تھا۔ طاہر اشرفی کا اعزاز واپس لیتے وقت آرچ کے آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ طاہر اشرفی کے سابقہ تبصرے سامنے آنے کے بعد ادارے کو اس اعزاز پر نظرثانی کرنا پڑی اور اب اس کی واپسی کی تصدیق کی جاتی ہے۔ برطانوی نیشنل سیکولر سوسائٹی سمیت بعض حلقوں نے ایوارڈ واپس لینے کا خیرمقدم کیا، تاہم یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ 9/11 کی برسی کے موقع پر ایک مشکوک کردار کے آدمی خو ایسا اعزاز دیا ہی کیوں گیا۔

 

ادھر طاہر اشرفی نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ 2007 کے ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف ردعمل ایک غیر منصفانہ مہم کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق یہ گفتگو تب کی گئی تھی جب برطانوی حکومت کی جانب سے سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ Knighthood دیے جانے پر پاکستان سمیت مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا، تاہم انھوں نے اسامہ بن لادن اور سلمان رشدی کے درمیان کیے گئے اپنے تقابلی بیان کا دفاع بھی کیا۔ خیال رہے کہ طاہر محمود اشرفی گزشتہ کئی برس سے پاکستان میں مذہبی، سیاسی اور میڈیا حلقوں میں خاص طور پر نمایاں رہے ہیں اور مختلف حکومتوں کے ساتھ ان کے روابط بھی موضوع بحث بنتے رہے ہیں۔ ناقدین انہیں ایک ایسے مذہبی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو مختلف ادوار میں جنرل پرویز مشرف، نواز شریف، عمران خان اور دیگر حکمرانوں کے قریب دکھائی دیتے رہے، اسی بنا پر ان کے لیے ’’سرکاری مولوی‘‘ کی اصطلاح بھی تنقیداً استعمال کی جاتی رہی ہے۔

 

ان کی شخصیت اس سے قبل بھی مختلف تنازعات کی زد میں آتی رہی ہے، جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے اختلافات اور ٹی وی پروگراموں میں ان کی شرکت شامل ہے۔ ان کے ناقدین سوشل میڈیا پر ان کی مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں، حکومتی حلقوں سے روابط اور سعودی عرب کے ساتھ ان کی نمایاں وابستگی کو بھی مسلسل زیر بحث لاتے رہے ہیں۔

طاہر اشرفی کو حالیہ اعزاز دیے جانے کی ایک بڑی وجہ 2012 میں رمشا مسیح کے مقدمے کے دوران ان کا کردار بھی قرار دیا گیا تھا۔ کم عمر مسیحی لڑکی رمشا مسیح پر توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اس معاملے میں طاہر اشرفی نے مذہبی کشیدگی کم کرنے اور مقدمے کے حل میں کردار ادا کیا تھا۔ تاہم ناقدین اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ طاہر اشرفی عمومی طور پر پاکستان کے توہین مذہب قوانین کے حامی رہے ہیں۔

طاہر اشرفی کا مؤقف رہا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روک کر جانیں بچاتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے ان قوانین پر مختلف نوعیت کے اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے ان قوانین کے غلط استعمال، مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے اور بعض معاملات میں ذاتی یا معاشی مفادات کے لیے ان کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کیا ملک ریاض کو تازہ اپیل کے بعد کوئی رعایت ملے گی؟

حالیہ تنازع نے اس سوال کو بھی دوبارہ نمایاں کر دیا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والے کسی مذہبی رہنما کی مجموعی عوامی اور مذہبی حیثیت کا تعین کرتے وقت اس کے سابقہ بیانات اور متنازع مواقف کو کس حد تک مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ان کے ماضی کے بیانات کو غلط تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسے بیانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

آرچ بشپ کے دفتر کی جانب سے اعزاز واپس لینے کے فیصلے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر بھی زیر بحث آ گیا ہے۔ یوں بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے دیے گئے ایک اعزاز سے شروع ہونے والا معاملہ طاہر اشرفی کے 2007 کے اسامہ بن لادن سے متعلق بیانات، ان کے مذہبی و سیاسی روابط اور مختلف ادوار کے حکمرانوں کے ساتھ ان کی قربت کے حوالے سے جاری بحث کو دوبارہ سامنے لے آیا ہے۔

 

Back to top button