کیا ملک ریاض کو تازہ اپیل کے بعد کوئی رعایت ملے گی؟

پاکستان چھوڑ کر دبئی جا بسنے والے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض حسین نے وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت سے اپیل کی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف جاری ضبطی، نیلامی، منتقلی اور قبضے کی کارروائیوں کو تب تک روکا جائے جب تک متعلقہ قانونی تنازعات کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ ملک ریاض کا کہنا ہے کہ مسلسل کارروائیوں سے نہ صرف انکا پراپرٹی کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے بلکہ بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں، ملازمین اور دیگر کاروباری حلقوں کی جمع پونجی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ملک ریاض کی تازہ اپیل اگست 2025 میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد سے حکومتی اور عسکری حلقوں سے کی جانے والی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی املاک کی ضبطی اور نیلامی کے ساتھ ترقیاتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث ایک ایسا کاروباری نظام متاثر ہو رہا ہے جس میں بڑی تعداد میں عام پاکستانیوں کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کا حل کسی ایک فریق کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ریاست، سرمایہ کاروں، خریداروں، ملازمین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے مفادات کو سامنے رکھ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔
ملک ریاض کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے تقریباً 238 ارب روپے مالیت کے اثاثے مختلف کارروائیوں کے نتیجے میں ضبط، نیلام یا فروخت کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں جبکہ تقریباً 372 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے بھی تعطل کا شکار ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس کا اثر صرف بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان لوگوں پر بھی پڑے گا جنہوں نے بحریہ کے منصوبوں میں اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا دی ہے۔ ملک ریاض نے خاص طور پر بعض املاک کی نیلامی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ قانونی تنازعات کے حتمی فیصلے سے قبل جائیدادوں کی فروخت یا قبضے کا عمل روکا جانا چاہیے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے کئی اثاثے ان کی حقیقی مارکیٹ ویلیو سے کم قیمت پر فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے واجبات کی وصولی کے ساتھ سرمایہ کاروں کے مفادات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے تجویز دی ہے کہ فیصلہ سازوں اور ان کے مابین تنازعات کے حل تک کم قیمت پر کی جانے والی نیلامیوں، جائیدادوں کی منتقلی اور قبضوں کو مؤخر کیا جائے۔
ملک ریاض نے بحران کے ممکنہ حل کے طور پر یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کو حکومتی نگرانی میں دوبارہ ترقیاتی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی جائے جن سے حاصل ہونے والی آمدن کا ایک متفقہ حصہ واجبات کی ادائیگی کے لیے مختص کر دیا جائے۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار سے ایک طرف ریاست کے واجبات کی وصولی جاری رہے گی اور دوسری طرف منصوبوں میں پھنسی ہوئی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ملک ریاض کا پاکستانی حکام کے ساتھ اصل تنازع صرف نیلامی یا اثاثوں کی ضبطی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی برس سے جاری قانونی اور احتسابی معاملات موجود ہیں۔ نیب نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے سرکاری اراضی کی غیر قانونی منتقلی کے معاملے میں 2025 میں ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں ملک ریاض سمیت 33 افراد کو نامزد کیا گیا۔ نیب کے مطابق تقریباً 17000 ایکڑ سرکاری اراضی کو 2013 اور 2014 کے دوران غیرقانونی طریقے سے بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے منتقل کیا گیا جس سے قومی خزانے کو 708 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ لیکن یہ نیب کے الزامات ہیں جنہیں متعلقہ عدالتی کارروائی میں ثابت ہونا باقی ہے۔
اسی کیس میں مئی 2026 میں احتساب عدالت نے ملک ریاض، ان کے صاحبزادے اور دیگر ملزمان کے خلاف دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور انہیں اشتہاری قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو گرفتاری کی ہدایت کی۔ عدالت نے پاسپورٹ بلاک کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس پیش رفت نے ملک ریاض کی پاکستان واپسی کو مزید پیچیدہ بنا رکھا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ایمان مزاری کو معاف کیوں نہیں کر رہی؟
اس پس منظر میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملک ریاض کی تازہ اپیل کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے میں ایک ایسا راستہ نکالے جس میں عدالتوں اور قانون کی کارروائی اپنی جگہ جاری رہے لیکن بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں میں پھنسے سرمایہ کاروں کا سرمایہ مزید منجمد نہ ہو، ترقیاتی سرگرمیاں مکمل ہوں، جائیدادوں کی نیلامی شفاف اور مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہو اور واجبات کی ادائیگی کے لیے کاروبار کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کی جائے۔ ملک ریاض کے لیے یہ اپیل اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کی جانب سے مذاکرات اور کسی قابل قبول حل کی پیشکشیں متعدد مرتبہ سامنے آ چکی ہیں۔ اگست 2025 میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں سنجیدہ مذاکرات اور باعزت حل کی طرف واپس آنے کا موقع دیا جائے تو وہ کسی بھی ثالثی کے فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ملک ریاض کی اپیل اور ان کی تجاویز تو سامنے آئی ہیں، لیکن وزیر اعظم کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسا ردعمل سامنے نہیں آیا جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ ملک ریاض کو کوئی رعایت دی جائے گی یا نہیں؟
