مستنصر تارڑ موت کے بعد شروع ہونے والے سفر کیلئے تیار


50 سے زیادہ ناول اور سفر نامے لکھنے والے مشہور مصنف اور ادیب مستنصر حسین تارڑ کا کہنا ہے کہ وہ زندگی کے آخری ایڈونچر پر جانے کے لیے تیار ہیں۔ اپنے ایک تازہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ موت کے بعد شروع ہونے والا سب سے بڑا سفر ہوتا ہے اور ایک ہارٹ اٹیک کے بعد زندہ بچ جانے کے بعد اب وہ ذہنی طور پر اس آخری سفر پر جانے کے لیے تیار ہیں۔
مارچ 1939 میں لاہور میں پیدا ہونے والے مستنصر تارڑ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے ممالک کا رخ کیا، جہاں انہیں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس یورپ میں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔ پھر انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔ 1969ء میں بذریعہ سڑک 17 ممالک کی سیاحت کی اور کئی سفرنامے لکھے، بلکہ آج تک لکھ رہے ہیں۔ ان کی کئی کتابوں کے تراجم انگریزی سمیت دنیا کی کئی زبانوں میں ہوچکے ہیں، روس کی ماسکو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ان کے ناول وہاں کے نصاب کا حصہ بھی ہیں۔
مستنصر 1970ء میں شادی کے بندھن میں بندھے، ان کے 2 بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ شادی سے پہلے اوائل جوانی میں ماڈلنگ اور اداکاری کی، پھر ٹیلی ویژن میں مستقل طور پر خود کو صرف میزبانی تک محدود کرلیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی صبح میں پیش ہونے والی نشریات میں بطور بچوں کے چاچا جی ملک گیر شہرت حاصل کی۔ انگریزی اور اردو اخبارات میں کالم لکھنے کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے۔ صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی اور وزیراعظم ادبی ایوارڈ سمیت متعدد اہم ملکی و غیرملکی اعزازات بھی وصول کرچکے ہیں۔ اب تک ان کے 31 سفر نامے کتابی صورت میں شائع ہوچکے ہیں، جب کہ 2 ناولٹ، 2 افسانوں کے مجموعے اور 3 کتابیں خاکوں اور خطوں پر مشتمل ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے ڈراموں کی تعداد 7 ہے، جب کہ کالموں کے 13 مجموعے بھی شاملِ اشاعت ہیں۔ اس کے علاوہ 11 ناول اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔
مستنصر حسین تارڑ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں اب ان کا علم، فہم اور ادراک ایک محقق اور تاریخ شناس ہونے کی گواہی بھی دیتا ہے۔ ایک انٹرویو میں انکا کہنا تھا کہ میرا تعلق چونکہ ایک کاشتکار خاندان سے ہے اس لیے ہمارے گاؤں میں پڑھنے لکھنے کا رجحان نہیں تھا۔ میرے دادا ان پڑھ کسان تھے۔ دادی پڑھے لکھے خاندان سے تھیں۔ یہ تقسیم سے بھی بہت پہلے کا ذکر ہے۔ میرے والد روزگار کی تلاش میں لاہور آگئے، بہت محنت کی، زراعت کے شعبے میں کاروبار کیا، اس موضوع پر متعدد کتابیں بھی لکھیں اور ساری زندگی زمین سے جڑے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری جتنی بھی رشتے داریاں تھیں، وہ سب زمین کے ساتھ تھیں۔ میں زمین کی قدر جانتا تھا، اس سے کیا پھوٹتا ہے، کیا اُگتا ہے، مٹی کی مہک کیا ہوتی ہے، یہ سب مجھے والد کی طرف سے ورثے میں ملا تھا۔ پھر والدہ کی طرف سے تربیت ملی، اس طرح میں فطرت سے قریب ہوگیا۔ میں نے جن لوگوں کو پڑھا انہوں نے بھی مجھے بہت متاثر کیا، جیسے لیو ٹالسٹائی، یاسر کمال اور فریدالدین عطار، ان سب کی تخلیقات میں فطرت اور چرند و پرند سے جڑے ہوئے استعاروں اور تشبیہات سے میں بہت مستفید ہوا ہوں۔
جب سوال کیا گیا کہ اس عمر میں ان کو باہر جانے کا موقع ملے تو وہ کس ملک جائیں گے، تو تارڑ بولے ملک کوئی بھی سوہنا یا خوبصورت نہیں ہوتا، وہاں کے باشندے خوبصورت ہوتے ہیں۔ ان کے رویے ہوتے ہیں، وہ لوگ ہوتے ہیں، جن سے آپ ملتے ہیں۔ اور صرف لوگ ہی نہیں وہاں کا لینڈ اسکیپ، صحرا، شجر سبھی چیزیں مشترکہ طور پر مل کر کسی جگہ کو خوبصورت بناتی ہیں۔ ملک خوبصورت نہیں ہوتے۔ اگر کسی خوبصورت ترین ملک میں آپ کو بدتمیز لوگ مل جائیں تو آپ اس سے نفرت کریں گے۔ ہاں اگر صرف لینڈ اسکیپ کی بات کی جائے تو افغانستان کی کیا ہی بات ہے، ابھی تک اوریجنل لینڈ اسکیپ ہے وہاں۔ باقی ملک بھی ہیں۔ میں نے کوئی پندرہ کتابیں اپنے شمالی علاقوں کے بارےمیں لکھی ہیں تو اس لینڈ اسکیپ میں بھی کوئی خاص بات ہو گی ناں۔ لیکن ویسے مجھے اب کسی خاص ملک جانے کا شوق نہیں رہا۔ اب بس اپنے شہر اور اپنے گھر کی خواہش ہے۔
جب سوال کیا گیا کہ کیا ماضی میں ایڈونچر پسند کرنے والے مستنصر حسین کا سفر ختم ہو گیا ہے؟ تو بولے کہ بالکل نہیں، یہ سفر اس لیے ختم نہیں ہوا کہ موت کے بعد شروع ہونے والا سب سے بڑا سفر تو ابھی باقی ہے، سب سے بڑا ایڈونچر ابھی شروع ہونا ہے اور میں اسکے لیے تیار ہوں۔ جب مستنصر تارڑ سے پوچھا گیا کہ چند برس پہلے ‘ہارٹ اٹیک کے بعد سے آپ نے موت کا ذکر بہت کثرت سے کیوں کرنا شروع کر دیا ہے، تو بولے کہ موت کا ذکر میں پہلے بھی کرتا تھا لیکن ظاہر ہے اب ایک ذاتی تجربہ بھی ہو گیا۔ جب مجھے آپریشن کے لیے لے جایا جا رہا تھا تو مجھے یوں لگا جیسے میری والدہ وہاں پہنچ گئی ہیں، سادہ سے کپڑے تھے، ویسے ہی جیسے ایک دیہات کی ماں ہوتی ہے۔ سنا تو ہوا تھا کہ مرنے سے پہلے آپ کو لینے والے آ جاتے ہیں۔ میں نے امی سے پوچھا کہ آپ کیا کر رہی ہیں تو انہوں نےکہا کہ میں تمہاری خیریت معلوم کرنے آئی ہوں۔ مجھے حوصلہ ہوا کہ چلو شکر ہے لینے نہیں آئیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہارٹ اٹیک کے بعد سے وہ مذہب کے زیادہ قریب ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں ایسا قطعی نہیں ہے۔ میں آج بھی وہاں ہی کھڑا ہوں، جہاں پہلے کھڑا تھا۔ میں وہ ڈرپوک شخص نہیں ہوں، جو موت کو سامنے دیکھ کر تسبیح پکڑ لیتا ہے۔ جو میں ہوں، وہ میں ہوں، میں تو بلھے شاہ کا مرید ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button