مستونگ میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 2 مبینہ دہشتگرد ہلاک

سی ٹی ڈی کی مستونگ میں کارروائی کے دوران 2 مبینہ دہشتگرد ہلاک ہوگئے، فائرنگ کے تبادلے میں انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) کے نو اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔سی ٹی ڈی بلوچستان کے ڈی آئی جی اعتزاز احمد گورائیہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کارروائی اور اس میں ہلاکتوں کی تصدیق کی، زخمیوں میں ایک ڈی ایس پی بھی شامل ہیں تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
بلوچستان پولیس کے ایک اور افسر نے اردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے اینٹی ٹیررسٹ فورس نے ایک گھر کا گھیراؤ کیا۔
ان کے مطابق گھر میں موجود دہشتگردوں نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے بعد پولیس پارٹی نے جوابی کارروائی کی اس طرح فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ فائرنگ میں دو دہشتگرد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے، پولیس افسر نے بتایا کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے ایک ڈی ایس پی، سب انسپکٹر، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، دو حوالدار اور چار اے ٹی ایف سپاہی بھی زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لیے کوئٹہ کے فوجی ہسپتال سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔
ادھر ڈگری کالج مستونگ کے سابق پرنسپل پروفیسر صالح محمد شاد کی صاحبزادی بی بی سلمی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر چیف عطاء اللہ بلوچ ایڈووکیٹ کی والدہ نے مستونگ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ فورسز اُن کے خاندان کے آٹھ افراد کو اپنے ہمراہ لے گئی ہیں جن میں پروفیسر صالح محمد شاد، عطاء اللہ بلوچ ایڈووکیٹ شامل ہیں، انہوں نے گرفتار افراد کو فوری رہائی یا عدالتوں میں پیش کرنے اور واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
