مسلم لیگ ق کی وزیراعظم کے دئیے گئے ظہرانے میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سامنے آ گئی

پاکستان مسلم لیگ ق کی وزیراعظم کے دئیے گئے ظہرانے میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سامنے آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے خلاف بھرپور انداز میں میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے اسی سلسلے میں انہو ں نے اتحادی جماعتوں کو ظہرانے کی دعوت دی۔
بتایا گیا تھا کہ ظہرانے میں مسلم لیگ ق، ایم کیوایم ، جی ڈی اے، بی اے پی شامل ہوں گی، تاہم مسلم لیگ ق نے ظہرانے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی اور طارق بشیر چیمہ ظہرانے میں شرکت نہیں کریں گے۔ تاہم اب ق لیگ نے ظہرانے میں نہ جانے کی وجوہات بتا دیں۔ وفاقی وزیر راجہ بشارت نے ظہرانے میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے بتایا کہ مسلم لیگ ق کا کوئی رہنما ظہرانے میں شرکت نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم ہاؤس میں دئیے گئے ظہرانے میں شریک نہیں ہو رہے۔ ہمارے تحفظات کا ازالہ آج تک نہیں کیا گیا۔راجہ بشارت نے مزید کہا کہ آج تک فیصلہ سازی کے کسی عمل میں شریک نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں دئیے جانے والے ظہرانے میں موجودہ سیاسی صورت حال پر گفتگو ہوگی۔ وزیراعظم کی جانب سے اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ جب کہ اپوزیشن سے نمٹنے کےلیے بھی مشاورت ہوگی۔
وزیراعظم سیاسی معاشی اور قومی سلامتی کی صورت حال پر اتحادی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت بھی کریں گے۔ وزیراعظم نے رواں ہفتے پارٹی وحکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں اس حوالے سے حکمت عملی بھی طے کی کہ اپوزیشن کے حکومت اورریاست مخالف بیانیئے کو کس طرح کاؤنٹر کیا جائے۔ اس صورت حال پر مشاورت کےلیے وزیراعظم عمران خان نے 5نومبر کو اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، ایم کیوایم ، جی ڈی اے، بی اے پی ودیگر کو ظہرانے پر مدعو کیا۔ اتحادی جماعتوں سے قومی سلامتی اور معاشی و سیاسی معاملات پر مشاورت کی جائے گی۔ اسی طرح اتحادی جماعتوں کی تجاویز پر آگے بڑھنے پر غور کیا جائے گا۔
