امریکہ میں چرس کے استعمال کی قانونی منظوری

تین نومبر کو امریکا کی 50 ریاستوں کے عوام نے صدر کے انتخاب کے لیے ووت کاسٹ کیا، تاہم کم از کم 34 ریاستوں کے ووٹرز نے نئے قوانین بنانے کے لیے بھی ووٹ ڈالے۔
امریکا میں انتخابات والے دن ہی عوام نے ’بیلٹ میژرس‘ کے لیے بھی اپنا حق رائی دہی استعمال کیا۔ ’بیلٹ میژرس‘ دراصل عوام کی رائے کے ذریعے کی جانے والی قانون سازی کو کہا جاتا ہے، یہ عمل ریفرنڈم کی طرز کا ہوتا ہے۔ تین نومبر کو امریکا کی کم از کم 34 ریاستوں میں مختلف مسائل پر قانونی ترامیم کے لیے ’بیلٹ میژرس‘ کے لیے ووٹنگ ہوئی اور اسی دوران کم از کم 5 ریاستوں نے ’چرس‘ کو قانونی طور پر تفریحا یا علاج کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دےدی۔ ’بیلٹ میژرس‘کے ذریعے کم از کم 5 ریاستوں نے ’چرس‘ کو قانونی قرار دے کر اس کے ادویات میں استعمال سمیت بالغ افراد کی جانب سے تفریح کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری دے دی۔ ’بیلٹ میژرس‘ کے ذریعے ریاست نیو جرسی، ایریزونا، جنوبی ڈکوتا، مسیسپی اور مونٹانا کے عوام نے ’چرس‘ کے استعمال کو جرم سے نکالنے کے لیے ووٹ کاسٹ کیے۔ تمام ریاستوں نے ’چرس‘ کو مختلف بیماریوں کے لیے بنائی جانے والی ادویات میں استعمال کرنے کی قانونی اجازت دینے سمیت بالغ افراد کی جانب سے اسے تفریحی طور پر استعمال کرنے کی اجازت بھی دی۔ ریاست مونٹانا اور مسیسپی میں ’چرس‘ کے استعمال کو قانونی قرار دینے کے حوالے سے حتمی نتائج جاری نہیں کیے گئے۔ تاہم بتایا گیا کہ ایریزونا، جنوبی ڈکوتا اور نیو جرسی ریاستوں میں ’چرس‘ کے حوالے سے قوانین میں ترمیم کی اجازت دے دی گئی۔ نئی ترامیم کے مطابق ریاست ایریزونا میں اب 21 سال یا اس سے زائد عمر کے بالغ مرد و خواتین تفریحی کے لیے بھی ’چرس‘ استعمال کر سکیں گے اور ایسا کرنے پر کوئی بھی قانونی سزا نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی مذکورہ ریاست میں قانون میں یہ ترمیم کرنے کی اجازت بھی دی گئی کہ ’چرس‘ کی خرید و فروخت پر 16 فیصد ٹیکس نافذ کرکے ریاستی کمائی میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح نیو جرسی میں بھی 21 سال سے زائد العمر افراد کو ’چرس‘ استعمال کرنے کی قانونی اجازت دینے اور اس کا کاروبار کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ ریاست جنوبی ڈکوتا نے بھی 21 سال یا اس سے زائد عمر کے مرد و خواتین کے ’چرس‘ استعمال کرنے کو قانون قرار دینے سمیت اس پر 15 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی منظوری بھی دی۔ ساتھ ہی جنوبی ڈکوتا میں ’چرس‘ کی کاشت اور کاروبار کرنے کی اجازت بھی دی گئی اور مختلف امراض کے علاج کے لیے بھی اسے استعمال کرنے کی منظوری دی گئی۔ امریکا میں تین نومبر کو ہونے والے انتخابات کے دوران مجموعی طور پر 34 ریاستوں میں 202 نئے قوانین بنائے گئے، جن میں چرس کے استعمال، اسقاط حمل، تارکین وطن کو شہریت دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے سمیت ریاست کے لیے نئے جھنڈے بنانے جیسے قوانین کی بھی منظوری دی گئی۔ ’بیلٹ میژرس‘ بنائے گئے نئے قوانین پر اب ریاستی حکومتیں عمل کرکے نئے ضوابط بنائیں گی، جس کے بعد ضوابط کو عام عوام کے لیے جاری کرکے نئے قوانین کو نافذ کردیا جائے گا۔ امریکا میں بڑے پیمانے پر ’چرس‘ کا استعمال ہوتا ہے، صرف گزشتہ سال ہی اس سے 15 ارب ڈالر کا کاروبار ہوا تھا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اب اس کا کاروبار بڑھ کر 30 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ امریکا میں پہلے ہی 11 ریاستوں میں ’چرس‘ کے قانونی استعمال کی اجازت ہے اور وہاں پر اسے نشے کے ضمرے میں شمار کرکے استعمال کرنے والے افراد کو فوجداری سزائیں نہیں سنائی جاتیں، البتہ چرس استمال کرنے والے کی جانب سے کسی کو نقصان پہچانے پر اسے بھاری جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔
