مسلم لیگ ن کا ملک بھر میں مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ آٹا اور چینی وزیر اعظم کی اے ٹی ایم مشینیں کھا گئیں، حکومت سے اتحادی ہی نہیں پوری قوم ناراض ہے، موجود صورتحال کا واحد حل مڈ ٹرم الیکشن میں ہی ہے، ان کوبھاگنے نہیں دیں گے ہرمرحلے پران کا پردہ فاش کریں گے.
انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے منشیات اسمگلنگ کیس میں رانا ثناء اور پراسیکیوشن کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔
اس سے قبل لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت میں رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات اسمگلنگ کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلسے میں رانا ثناء عدالت کے روبرو پیش ہوئے جب کہ پراسیکیوشن نے کیس کا ٹرائل روزانہ کرنے کی درخواست کی۔
پراسیکیوشن کی درخواست پر رانا ثناء اللہ کے وکیل نے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ بار کے الیکشن کے باعث 29 فروری کے بعد کی تاریخ دی جائے۔ رانا ثناء کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت میں اور بھی کیسز ہیں، کیا پراسیکیوشن کو ان کیسز میں جلدی نہیں، رانا ثناءکے کیس میں جلدی کس بات کی ہے۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ رانا ثناءاللہ الزام لگاتے ہیں کہ پراسیکیوشن تاخیری حربے استعمال کررہی ہے، اس لیے چاہتے ہیں کہ مقدمے کا تیزی سے ٹرائل ہو۔ بعدازاں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے رانا ثناء اللہ کی جانب سے ویڈیو فراہم کرنے اور گاڑی واپس دینے کی درخواست مسترد کردی جبکہ پراسیکیوشن کی روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کی درخواست کو بھی مسترد کردیا گیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی اور رانا ثناء کو آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کرلیا۔
مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناء نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا مقدمے میں اب تک 10 پراسکیوٹرز کو 6 کروڑ روپے دیئے گئے، اپنے شہریوں کیخلاف منشیات کے جھوٹے کیسز بنانا شرم کی بات ہے، ہمیں مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، واٹس ایپ کے ذریعے جج کا تبادلہ کر دیا گیا، بے گناہ اور بے قصور افراد کی ضمانتیں ہو رہی ہیں، سعد رفیق، احسن اقبال، شاہد خاقان، حمزہ شہباز کی بھی ضمانت ہوگی۔ انہوں نے کہا مطالبہ ہے جتنا جلدی ہوسکے مڈ ٹرم الیکشن کرائے جائیں، (ن) لیگ وسط مدتی سیٹ اپ کے حق میں نہیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی مشرف فیصلے پر تنقید کے بعد خود ہی سرعام پھانسی کی قرادار منظورکررہی ہیں جب کہ اس قرارداد کی ہرسطح پر مذمت ہونی چاہیے۔رانا ثناء کا کہنا تھا پی ٹی آئی مشرف کے فیصلے پر واویلا مچا رہی تھی، تحریک انصاف سرعام پھانسی کی مذمت کر رہی تھی، کل قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر نے خود سر عام پھانسی کی قرارداد پیش کی، کل منظور ہونیوالی قرارداد پی ٹی آئی کیلئے پھٹکار ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مجھے عدالت کی امانت اوردیانت پرکوئی شبہ نہیں، عدالتوں سے انصاف مل رہا ہے، خصوصی عدالت کا المیہ ہے ایک خط پرجج تبدیل ہوجاتا ہے، یہ انصاف کے حصول کی جنگ ہے جوبھرپورطریقے سے لڑوں گا۔ درخواست ضمانت سننے والے جج کا واٹس ایپ پرتبادلہ کیا گیا، اتنی نفرتیں پیدا کررہے ہیں جس کا ازالہ سالوں میں نہیں ہوسکے گا، ویڈیوکومنظرعام پرلایا جائے یا معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریارآفریدی نے کہا تھا کہ وہ ایک بندے کے ذریعے مجھ تک پہنچے، یہ وہ بندہ اور ویڈیو پیش کریں، جس کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا، پراسیکیوشن بیان ریکارڈ کرا دے ہمارے پاس ویڈیو اور بندے نہیں ہم درخواست واپس لے لیں گے۔
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ موجود صورتحال کا حل مڈ ٹرم الیکشن میں ہی ہے، ان کوبھاگنے نہیں دیں گے ہرمرحلے پران کا پردہ فاش کریں گے، انھوں نے مزید کہا کہ مریم نوازپربے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا، حکومت نے غیر قانونی طورپرمریم نوازکا نام ای سی ایل میں ڈالا ہے، مریم نواز کا نوازشریف کے پاس ہونا ان کا حق ہے جبکہ مریم نواز کو روکنا ظلم وزیادتی اوربدترین سیاسی انتقام ہے۔ حکومت کسی کے نقل وحمل پرپابندی نہیں لگا سکتی۔
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ میاں شہبازشریف واپس آرہے ہیں، آل پارٹی کانفرنس بلائیں گے، مولانا فضل الرحمان ہم سے ناراض ہیں، شہباز شریف واپس آرہے ہیں، مولانا کو منائیں گے. اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کرمارچ اوراحتجاج کا لائحہ عمل بنانا چاہتے ہیں۔ رانا ثناء نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے اتحادیوں سمیت 22 کروڑ عوام ناراض ہے، اتحادی پی ٹی آئی کی کشتی سے جتنا جلدی چھلانگ لگالیں بہتر ہے۔ رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ عمران خان مدینے کی ریاست کے سربراہ بنے پھرتے ہیں ،،کہاں ہے اُن کا انصاف ۔۔۔مجھ پر نیب اور منشیات کے جھوٹے مقدمے بنائے گئے۔۔کیا آٹا اور چینی اے ٹی ٹیم کھا گئی؟
انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر و رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ کو 2 جولائی 2019 کو فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ رانا ثناء کی گاڑی سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی۔ رانا ثناء اللہ نے عدالت سے رجوع کیا اور پھر 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے رانا ثناء اللہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ رانا ثناء اللہ کی جانب سے 10، 10 لاکھ روپے کے دو حفاظتی مچلکے جمع کرائے جانے کے بعد 26 دسمبر کو انہیں رہا کر دیا گیا۔
