مشتعل ہجوم کی ہندو بزرگ کی سمادھی میں توڑ پھوڑ، نذرآتش کردیا

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں مشتعل ہجوم نے ایک ہندو بزرگ کی سمادھی (مزار) میں توڑ پھوڑ کی اور اسے نذر آتش کردیا۔ضلعی پولیس حکام اور مقامی افراد نے مذکور واقعے کی تصدیق کی ہے۔واقعہ کرک کے دور دراز علاقے ٹیری ٹاؤن میں پیش آیا۔اس حوالے سے پولیس نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے تشدد کے بعد ہجوم کو منتشر کردیا۔تشدد کے دوران اس جگہ پر موجود ایک مقامی رہائشی نے ڈان نیوز ٹی وی کو بتایا کہ ’ایک مذہبی جماعت کے کچھ مقامی عمائدین کی سربراہی میں ایک ہزار سے زیادہ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ہندوؤں کی عبادت گاہ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقاریر ہونے کے بعد ہجوم سمادھی کی طرف بڑھا اور توڑ پھوڑ شروع کردی۔سمادھی 1920 سے پہلے تعمیر کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہجوم نعرے لگاتے ہوئے سمادھی کی عمارت کو منہدم کرنے سے قبل نذر آتش کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ہجوم کے ہاتھوں ہندو برادری کے ایک ممبر کے زیر تعمیر زیر تعمیر مکان کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔
رہائشی نے کہا کہ ’قریبی دیہات کے رہائشیوں نے کچھ دن پہلے ہی ایک احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا تھا جسے پولیس نے مکمل طور پر نظرانداز کردیا ‘۔رہائشی نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ سمادھی کی حفاظت میں ناکام رہے۔سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں ایک بہت بڑا مجمع دکھایا گیا جس میں ہجوم کی جانب سے نعرے لگائے جارہے ہیں اور سمادھی کی دیواریں توڑی جارہی ہیں۔ویڈیو میں آگ اور دھواں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔کرک ڈسٹرکٹ پولیس افسر عرفان اللہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے علاقے میں امن وامان کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکینوں نے احتجاج کی کال کی تھی لیکن اس گارنٹی کے ساتھ کہ وہ پرامن رہیں گے تاہم ایک عالم نے ہجوم کو بھڑکایا جس کے بعد ہجوم نے سمادھی پر حملہ کردیا۔پولیس افسر نے بتایا کہ سمادھی کے رکھوالے نے ’چپکے سے‘ پراپرٹی کے ساتھ ہی ایک مکان حاصل کیا تھا، مظاہرین اس کی تعمیر کے خلاف تھے کیونکہ ہجوم کے خیال میں یہ تعمیرات سمادھی کی توسعی منصوبہ تھا۔ڈی پی او نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس علاقے میں کوئی ہندو نہیں ہے اور یہ واحد سمادھی کا گھر تھا۔انہوں نے کہا کہ ہجوم نے زیر تعمیر گھر کو تباہ کردیا جس کی وجہ سے اس کے ساتھ والے سمادھی کو بھی ’اجتماعی طور پر‘ نقصان پہنچا۔ ’مظاہرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور پولیس نے صورتحال کو قابو کیا‘۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر 2015 میں اسے دوبار تعمیر کیا گیا تھا اسے 1997 میں مسمار کردیا گیا تاہم اب اس پر دوسری مرتبہ حملہ ہوا۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔دوسری جانب انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ کرک میں ایک ہجوم کی جانب سے ہندو مندر کو نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنائیں۔شیریں مزاری نے کہا کہ ان کی وزارت بھی اس واقعے پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’بطور حکومت ہماری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنائے‘۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نےکرک کے علاقہ ٹیری میں مندر کو آگ لگانے اور مسمار کرنےکے واقعےکا نوٹس لے لیا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے واقعےکا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کردیے۔وزیراعلیٰ محمود خان کا کہنا ہےکہ واقعہ انتہائی قابل مذمت اور افسوس ناک ہے، واقعے میں ملوث عناصرکو جلد انصاف کےکٹہرے میں لایا جائےگا۔ان کاکہنا ہےکہ اقلیتوں کے جان ومال اورعبادت گاہوں کے تحفظ کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا۔
