مظہر عباس نے عارف علوی کو جھوٹا کیوں قرار دے دیا؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے صدر عارف علوی کی جانب سے جاری کردہ تردیدی بیان کو رد کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ اس تقریب میں موجود تھے جہاں عارف علوی نے عمران خان کی جماعت کو جنرل باجوہ کی جانب سے الیکشن 2018 اور سینیٹ انتخابات میں مدد فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کے صدر علوی اب جس بات کی تردید کر رہے ہیں وہ انہوں نے انہی کے ایک سوال کے جواب میں کی تھی۔ یاد رہے کہ صدر عارف علوی نے کراچی میں کرسمس کے روز ہونے والی ایک تقریب میں صحافیوں، بزنس مین اور سفارتکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا جس کے بعد ان سے سوال جواب کا سیشن بھی ہوا تھا۔

اس حوالے سے مظہر عباس نے بتایا کہ اس تقریب میں انہوں نے صدر علوی سے سوال کیا تھا کہ عمران خان نے اب جنرل باجوہ کے خلاف ایک چارج شیٹ بنا لی ہے کہ جب وہ وزیراعظم تھے تو انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا، اس چارج شیٹ میں کتنی سچائی ہے۔ اس پر صدر علوی نے جواب دیا کہ 2018 کے جنرل الیکشن اور پھر سینیٹ کے الیکشن میں جنرل باجوہ نے عمران کی مدد کی تھی۔ تاہم جب اس بیان کے حوالے سے عمران پر مخالفین کی جانب سے تنقید شروع ہوئی تو علوی نے ایسے بات کرنے کی تردید کر دی۔ ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ صدر کی گفتگو کو مرضی کا رنگ دے کر پیش کیا گیا۔ تاہم ایوان صدر کی وضاحت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ علوی کس بات کی تردید کر رہے ہیں۔ بقول مظہر عباس، بہتر ہوتا کہ ایوان صدر تفصیل سے بتاتا کہ کون سی بات صدر نے کی تھی اور کون سی بات من گھڑت اور خود ساختہ ہے۔

نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو ‘خبر سے آگے’ میں گفتگو کرتے ہوئے مظہر عباس نے بتایا کہ کراچی کی تقریب میں صدر علوی کی گفتگو کا محور آڈیو عمران خان کی نازیبا آڈیو لیکس تھیں۔ صدر نے سیاسی حالات پر بھی بات چیت کی اور کہا کہ نیب کے معاملات میں مداخلت ہوتی تھی اور اسے سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اکا کہنا تھا کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مسائل اکتوبر 2021 سے چل رہے تھے جب جنرل فیض حمید کی جگہ نیا آئی ایس آئی چیف لگایا گیا۔ صدر علوی نے بتایا کہ اس دوران جب تحریک عدم اعتماد کی بات چل رہی تھی تو آرمی چیف نے مجھے کہا کہ آپ کوئی کردار ادا کریں۔ میں نے جواب میں آرمی چیف سے کہا کہ آپ تو خود پلیئر ہیں، آپ بھی کردار ادا کیجئیے۔ تقریب میں صدر نے کچھ باتوں میں عمران خان سے اتفاق کیا اور کچھ میں اختلاف کیا۔ آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر علوی کا کہنا تھا کہ میں ہی جانتا ہوں کہ میں نے اس نازک معاملے کو کس طرح سنھبالا اور یہ میرے لیے بہت بڑی آزمائش تھی۔

مظہر عباس نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں عمران خان کو کراچی میں ریکارڈ ووٹ پڑا تھا مگر پنجاب میں وہ (ن) لیگ کا ووٹ بینک نہیں توڑ پا رہے تھا۔ لہذا ان کی سیٹیں پوری کرنے کے لیے کراچی میں مصطفیٰ کمال کے ذریعے کوشش کی گئی۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کو توڑ کر بلوچستان عوامی پارٹی بنائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران کے کل کے اتحادی آج پی ڈی ایم کے اتحادی ہیں، تو یہ کام غلط ہے۔ اس کھیل میں اگر کسی کو فائدہ ہوا ہے تو وہ (ق) لیگ ہے۔ مظہر عباس کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پورا سچ بولنا چاہئیے کہ جو لوگ انکی حکومت لے کر آئے، انہوں نے ہی ان کی حکومت گرائی بھی۔ انکا کہنا تھا کہ عمران دور میں واضح طور پر اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ کھڑی تھی اور انکے مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیوں میں مصروف تھی۔ عمران خان اپنے اتحادیوں کے خلاف بھی کیسز بنوانے میں پیش پیش رہتے تھے۔ عمران کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے 2016 سے ‘سیاسی عریانی’ کا مظاہرہ کیا جو کہ 2022 تک جاری رہا اور اس سارے کھیل میں فوج کے علاوہ عدلیہ نے بھی کپتان کا ساتھ دیا۔ تاہم اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

Back to top button