الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کر دیا

اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ملتوی کر دیا گیا ہے، نئے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔وفاقی حکومت نے اسلام آباد کی یونین کونسلز کی تعداد 101 سے بڑھا کر 125 کر دی تھی جس کے بعد نئی یونین کونسلز کی حد بندی سے متعلق کام ہونا باقی تھا۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں قانونی نکات اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 23 دسمبر کے فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام آباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول وقتی طور پر ملتوی کیا جاتا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ فریقین کو سن کر اس بارے میں فیصلہ کرے کیونکہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا تھا کہ الیکشن کمیشن کو حکومت کی طرف سے نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں بتایا گیا اور ان سے ان انتخابات کو ملتوی کرنے کی استدعا کی تو الیکشن کمیشن نے حکومت کی یہ استدعا مسترد کردی تھی اور کہا تھا کے الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے اس کی سماعت کی تھی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون اور سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف جبکہ سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے درخواست گزار علی نواز اعوان کے وکیل بابر اعوان اور جماعتِ اسلامی کی جانب سے میاں اسلم الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔
