معاشی گرواٹ، ملکی برآمدات متاثر، ملٹی نیشنل کمپنیاں مالا مال

پاکستان میں جاری معاشی گراوٹ کی وجہ سے ملکی برآمدات میں کمی کا سلسلہ جاری ہے رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ملکی پیداواریعنی جی ڈی پی کا حجم گزشتہ برس کے اس عرصے کے مقابلے میں 6 اعشاریہ 78 فیصد مزید کمی کے ساتھ 139 ارب 88 لاکھ ڈالر پر آگیا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے 18 ماہ کے دوران مجموعی طور پرملکی معیشت 16 اعشاریہ 5 فیصد سکڑ گئی ہے اورکل ملکی پیداواری سرگرمیوں میں 41 ارب ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوگئی ہے۔ دوسری طرف کساد بازاری کا پاکستان میں کاروبار کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر اثر نہیں پڑا اورغیر ملکی کمپنیوں کے مجموعی منافع میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 10 فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے جولائی 2019 سے دسمبر 2019 کے درمیان پاکستان سے 83 کروڑ 63 لاکھ ڈالر منافع بیرون ملک منتقل کیاہے۔
نقد ادائیگی میں سبسڈی دینے اور کرنسی کی قدر میں متعدد مرتبہ کمی کے باوجود پاکستانی اشیا کی برآمد میں مسلسل منفی نمو دیکھی جا رہی ہے۔ توقع کے برعکس جنوری 2020 میں برآمدات کی منفی نمو 3.17 فیصد ہو کر ایک ارب 97 کروڑ ڈالر ہوگئی جبکہ گزشتہ برس کے اسی ماہ کے دوران یہ 2 ارب 3 کروڑ ڈالر تھی۔ جولائی 2019اور جنوری 2020 کے دوران برآمد کی نمو میں 2.14 فیصد کمی ہوئی اور یہ گزشتہ برس کے اسے عرصے کے 13 ارب 49 ڈالر کے مقابلے میں 13 ارب 21 کروڑ ڈالر ہوگئی ہے جبکہ حکومت نے مالی سال2019 میں 24 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے رواں مالی سال کے دوران برآمدات کے لیے 26 ارب 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا ہدف مقرر کیا تھا۔
یاد رہے کہ مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں حکومت نے برآمدات کی مصنوعات میں استعمال ہونے والے خام مال اور نیم تیار اشیا کی لاگت میں کمی کردی تھی اور انہیں تمام کسٹم ڈیوٹیز سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ حکومت نے شعبہ برآمدات کو سیلز ٹیکس ریفنڈ فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ تاہم ملک کے بڑے مینوفیکچرنگ شعبوں کی شرح نمو گزشتہ برس جولائی سے منفی ہے لیکن پھر بھی وزارت کی توجہ بین الاقوامی تجارتی معاہدوں اور مارکیٹس تک رسائی پر ہے۔ اب تک کسی ترجیحی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے ملک کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان، وزارت خزانہ، سکیورٹریز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور دیگر سرکاری دستاویزات کے مطابق کساد بازاری کا پاکستان میں کاروبار کر رہی غیر ملکی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں پر اثر نہیں پڑا اور 35 ملکوں کی تقریباً 1001 غیر ملکی کمپنیوں کے مجموعی منافع میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 10 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ اسٹیٹ بینک دستاویز کے مطابق گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان سے منافع کی مد میں 2 ارب 66 کروڑ 14 لاکھ ڈالربیرون ملک گئے۔ ان میں سے جولائی 2019 سے دسمبر 2019 تک کے عرصے میں پاکستان سے 83 کروڑ 63 لاکھ ڈالر منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا۔
مسلم لیگ نون کی 5 سالہ حکومت اور پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 18 ماہ کے دوران یہ کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری کے بدلے میں 9 ارب 54 کروڑ ڈالر منافع کی مد میں بیرون ملک لے گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی عالمی سرمایہ کاری کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 42 ارب ڈالر ہے اور یہ 74 ارب ڈالر کے اثاثوں کی مالک بن چکی ہیں۔ جولائی 2013 سے دسمبر 2019 تک جو منافع بیرون ملک منتقل کیا گیا اس میں ماچس سے موبائل فون اور بجلی و گیس سے کھانے پینے اور ادویات بنانے کی کمپنیاں شامل ہیں۔ بیرون ملک جانیوالا منافع سب سے زیادہ 2 ارب 43 کروڑ ڈالرغیر ملکی بینکوں، انشورنس اور لیزنگ کمپنیوں کا ہے۔ اس کے بعد موبائل فون کمپنیوں نے 1 ارب 31 کروڑ، خوراک کی کمپنیوں نے 74 لاکھ ڈالر، کاریں اور بسیں بنانیوالی کمپنیوں نے 64 کروڑ ڈالر، سگریٹ کمپنیوں نے ساڑھے 32 کروڑ ڈالر، کولا اور دیگر مشروبات ساز 36 کروڑ ڈالر، کیمیکلز 72 کروڑ ڈالر، ادویات ساز کمپنیوں نے 26 کروڑ ڈالر باہر منتقل کئے جبکہ تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں اور ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
اسی طرح پاکستان میں کام کر رہی 5 ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت 34 بینکوں کی طرف سے اسٹیٹ بینک کو بھیجی گئی رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ ستمبر 2018 میں ان بینکوں کے نادہندہ قرضوں کا مجموعی حجم 652 ارب روپے تھا جو ستمبر 2019 تک 122 ارب کے اضافے سے 774 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نو منتخب صدرمیاں انجم نثارنے کہا کہ ملکی معیشت کی صورتحال اچھی نہیں ہے اور بینک قرضوں کی نادہندگی اس بات کا ثبوت ہے۔ انہوں نے جب تک بینک قرضوں پر شرح سود 13 اعشاریہ 25 فیصد سے کم اور بجلی کم ازکم 5 سینٹ فی یونٹ سستی نہیں ہوتی کساد بازاری کا رجحان کم نہیں ہوسکتا۔
