آئندہ سال شرح نمو 1.9 فیصد اور 22 لاکھ بے روزگار ہوں گے

تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سٹیٹ بینک سے تین ہزار ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لینے کے بعد آئی ایم ایف سے ڈیل سے پہلے مزید بارہ سو ارب روپے کا قرضہ لے کر معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ حکومتی دعوے کے برعکس 3.3 فیصد نہیں بلکہ ایک 1.9 فیصد تھا اور آئندہ سال یہ شرح زیادہ سے زیادہ 1.3 فیصد رہے گی۔ معاشی ماہرین اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ آئندہ سال مزید بائیس لاکھ افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔
معاشی ماہرین حیران ہیں کہ تقریباً 2 دہائیوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کے ساتھ ہی مہنگائی کی شرح بلندیوں کو چھونے لگی ہے۔ جون 2018ء میں حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے قرضے کا حجم 3 کھرب 67 ارب روپے تھا جو فروری 2019ء تک دگنا ہوکر 7 کھرب 60 ارب تک پہنچ گیا۔ قرض کی اس غیر معمولی شرح کے باعث قلیل عرصے میں ہی پیسوں کی گردش میں بڑی سطح پر اضافہ ہوا اور نتیجہ مہنگائی کی صورت میں برآمد ہوا جو مارچ 2019ء میں 9.4 فیصد تک پہنچ گئی۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایسا اس وقت ہوا جب آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد شروع ہوا اور اسی اثنا میں شرح سود میں اضافہ ہوا۔ معاشی ماہر اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق تحریک انصاف حکومت کی جانب سے اقتدار میں آنے کے بعد سٹیٹ بینک سے تین ہزار ارب روپے کا قرضہ لینے کے باوجود آئی ایم ایف سے قرض لینے سے قبل چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید بارہ سو ارب روپے کا قرضہ لیا گیا اور اس کے بعد شرح سود میں اضافہ کردیا یوں پاکستانی معیشت کا جنازہ نکل گیا۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ مہنگائی کی مالیاتی جڑیں کاٹنے کے باوجود قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے اور مہنگائی کی جس حد تک پیش گوئی کی گئی ہے ہم اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ حکومت کے اندازوں کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 11 سے 12 فیصد کے قریب اضافہ ہوگا جبکہ ماہانہ اوسط 11.6 فیصد تک پہنچی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے انتظامی وجوہات ہیں یا پھر بقول اسٹیٹ بینک یہ سب عارضی سپلائی شاک کا نتیجہ ہے۔ وزیرِاعظم اس کی وجہ مافیاز اور منافع خوروں کے گٹھ جوڑ کو قرار دیتے ہیں۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ منافع خوروں یا مافیاز کا گٹھ جوڑ ہے تو پھر وہ اس حکومت کی ناک کے نیچے سرگرم کیسے ہوگئے ہیں؟
معاشی ماہرین اس نکتے پر متفق ہیں کہ مہنگائی حد سے زیادہ پیسے بنانے سے ہوتی ہے۔ تیل کی گرتی قیمتوں اور خساروں میں کمی اور اس وقت جاری ایڈجسٹمنٹ کے بیچ مہنگائی میں اضافے کا صرف ایک مطلب ہے کہ حکومت کی گورننس ناکام ہوچکی ہے ورنہ معاشی اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بعد معیشت اور عوام کی زندگیوں میں کچھ تو بہتری آتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جی ڈی پی گروتھ 3.3 نہیں بلکہ ایک 1.9 فیصد تھی اور آئندہ سال یہ شرح زیادہ سے زیادہ سے زیادہ 1.3 فیصد رہے گی۔ آنے والے برسوں میں مزید بائیس لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
