اسرائیل، لبنان معاہدے پر حزب اللہ کا سخت ردعمل آگیا

امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کا سخت ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے ایک سینئر عہدیدار نے معاہدے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو طاقت کے ذریعے غیرمسلح کرنے کی کوشش کی تو ملک ایک نئی خانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے۔
حزب اللہ کا مؤقف ہےکہ اسے مذاکرات میں شامل نہیں کیاگیا اور وہ اپنے ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہے۔جنوبی لبنان میں مرحلہ وار سکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ کے رکن پارلیمان حسن فضل اللہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں جو کچھ ہوا وہ اسلام آباد ٹریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔حزب اللہ لبنانی حکام کے ہر اقدام کا مقابلہ کرےگی۔
لبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد ریاستی خودمختاری کو مضبوط بنانا اور ملک کے تمام علاقوں پر لبنانی فوج کا اختیار بحال کرنا ہے۔
امریکا کا اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدے کا اعلان
یاد رہے کہ معاہدے میں حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے اور ان کے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے کےلیے فریم ورک وضع کیاگیا ہے۔علاوہ ازیں امریکا ایک مشترکہ فوجی رابطہ گروپ تشکیل دینےکے علاوہ لبنان کےلیے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد بھی فراہم کرےگا۔
