امریکا ایران جنگ سے اربوں ڈالرز کمانے والی بڑی کمپنیاں کون سی؟

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے جہاں عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور مالیاتی نظام کو شدید متاثر کیا، وہیں بعض عالمی صنعتوں اور بڑی کمپنیوں نے اس بحران سے اربوں ڈالر کا مالی فائدہ بھی حاصل کیا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق دفاعی صنعت، تیل و گیس کمپنیاں، شپنگ، انشورنس اور سرمایہ کاری کے شعبے اس جنگ کے سب سے بڑے معاشی فائدہ اٹھانے والوں میں شامل رہے اور اس جنگ کے سب سے بڑے مالی فاتح بن کر سامنے آئے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور ایک مرحلے پر برینٹ کروڈ کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ قیمتوں میں اس اضافے سے دنیا کی بڑی توانائی کمپنیاں، جن میں سعودی آرامکو، برٹش پیٹرولیم (BP)، شیل اور ٹوٹل انرجیز شامل ہیں، قلیل مدت میں نمایاں اضافی منافع حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگی ماحول کے باعث اسلحے اور جدید دفاعی نظام کی عالمی طلب میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن، آر ٹی ایکس (سابقہ ریتھیون) اور نارتھروپ گرومن سمیت بڑی دفاعی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے نئے آرڈرز موصول ہوئے۔ اسی تناظر میں امریکا میں دفاعی اخراجات میں مزید 200 ارب ڈالر اضافے کی تجویز بھی سامنے آئی، جس سے دفاعی صنعت کے مستقبل کے منافع میں مزید اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری راستوں کو لاحق خطرات نے عالمی شپنگ انڈسٹری کو بھی براہ راست متاثر کیا۔ جنگ کے دوران مال بردار جہازوں کے کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ جنگی خطرات کے باعث بحری انشورنس پریمیم بھی کئی گنا بڑھ گئے۔ اس صورتحال سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں نے غیر معمولی مالی فوائد حاصل کیے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود بڑی امریکی سرمایہ کاری بینکوں نے بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بڑی امریکی سرمایہ کاری بینکوں نے مجموعی طور پر تقریباً 48 ارب ڈالر منافع کمایا، جس کی ایک بڑی وجہ مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر لین دین تھا۔
رپورٹ میں ایک اور اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پیش گوئی پر مبنی تجارتی پلیٹ فارمز پر بھی جنگ سے متعلق شرطوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے بعض افراد نے لاکھوں ڈالر کمائے۔ بعض معاملات میں اندرونی معلومات کے مبینہ استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن پر متعلقہ اداروں کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں، تاہم مختصر مدت کے اس تنازع نے کئی عالمی کمپنیوں، سرمایہ کاری اداروں اور دفاعی صنعت کو غیر معمولی مالی فوائد پہنچائے ہیں۔ ان کے مطابق ہر بڑی جنگ کی طرح اس بحران نے بھی کچھ شعبوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے، جبکہ عام صارفین، درآمد کنندہ ممالک اور عالمی معیشت کو مہنگائی، توانائی کے بڑھتے اخراجات اور تجارتی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ عالمی تنازعات جہاں ایک جانب انسانی اور معاشی نقصانات کا باعث بنتے ہیں، وہیں دوسری جانب توانائی، دفاع، شپنگ، انشورنس اور سرمایہ کاری سے وابستہ بعض عالمی صنعتوں کے لیے غیر معمولی منافع کے مواقع بھی پیدا کر دیتے ہیں۔
