معیشت کی بحالی کیلئے مزیدمشکل فیصلے کرنے پڑے تو کریں گے

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے ناقص کارکردگی اور بد ترین معاشی پالیسیوں کے سبب ہمیںبڑا معاشی چیلنج ملا لیکن ہم اس ذمے داری کو نبھائیں گے، ہم نے مشکل فیصلے کیے ہیں اور اگر ملک کی معیشت کو سدھارنے کیلئے مزید مشکل فیصلے کرنے پڑے تو وہ بھی کریں گے۔

اتحادی رہنمائوں کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہناتھا بدقسمتی سے ہمیں جو حکومت ملی اس میں پچھلی حکومت کی بدترین معاشی پالیسیوں، ناعاقبت اندیشی اور بے انتہا ناقص کارکردگی کی بنا پر ہمیں بہت بڑا معاشی چیلنج ملا،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دنیا میں تیل اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں لیکن پچھلی حکومت نے جاتے جاتے ان کی قیمتیں کم کر کے حکومت کے لیے ایک جال بچھایا جو 100فیصد بدنیتی پر مبنی فیصلہ تھا، اگر ان کو عوام کی خوشحالی اور مسائل کا درد ہوتا تو وہ ساڑھے تین سال حکومت کے دوران کوئی تو مثال چھوڑ جاتے جس سے ہم یہ کہتے کہ انہوں نے عوام کی بہبود کے لیے کام کیا۔

انہوں نے کہادنیا میں معاشی صورتحال بے انتہا گمبھیر ہے، تیل، پیٹرول اور دیگر اجناس کی عالمی قیمتیں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں لیکن ہم نے اس بجٹ میں فیصلہ کیا کہ جہاں ہمیں پیٹرول اور تیل کی قیمتیں مجبوراً بڑھانی پڑیں، وہیں ہم نے سات کروڑ لوگوں کے لیے ریلیف مہیا کیا جس کے ذریعے دو ہزار روپے مہینہ ہیلپ لائن کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو دیا جا رہا ہے،ہم نے بجٹ میں فیصلہ کیا کہ غریب آدمی پر پڑنے والے بوجھ کو بانٹیں گے اور صاحب ثروت لوگوں پر ٹیکس لگائیں گے تاکہ غریب کو یقین ہو جائے کہ اگر ان پر بوجھ آیا ہے تو ہم امیر ترین طبقے پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ وہ اس موقع پر خوشی کے ساتھ قوم کا ساتھ دیں گے، ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کریں گے جس کی بدولت ہم کئی سو ارب ٹیکس اکٹھا کریں گے۔

شہبازشریف نے کہاہم اس ذمے داری کو نبھائیں گے، ہم نے مشکل اور بے باک فیصلے کیے ہیں، مزید بھی کرنے پڑے تو کریں گے تاکہ اس ملک کی معیشت کو سدھارا جا سکے اور پاکستان کی معیشت کو ہم مضبوط کر سکیں، اس کے لیے ہم کسی بھی قدم سے نہیں ہچکچائیں گے،مجھے امید ہے کہ یہ اتحادی حکومت کی دعاؤں کے ساتھ ان مراحل کو عبور کرے گی اور عوام کے لیے آنے والے وقتوں میں ان فیصلوں کے بعد ضرور اچھا وقت آئے گا اس کے لیے ہم محنت کریں گے۔

وزیراعظم کاکہنا تھا آئی ایم ایف کے ساتھ پچھلی حکومت نے جو معاہدہ کیا اس کی انہوں نے اپنے ہی دور میں دھجیاں اڑائیں اور ان سے ٹیکس سمیت جن دیگر اقدامات کا وعدہ کیا، اس کی خلاف ورزی کی، اگر انہیں معاہدہ کرنا تھا تو اس کی پاسداری کرتے، اس کی انہوں نے دھجیاں اڑائیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ جو مشکلات پیش آ رہی ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں۔انہوں نے قوم کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل وقت ضرور ہے لیکن ہم سب مل کر پاکستان کو اس مشکل سے نکال کر اچھے وقتوں میں لے کر جائیں گے۔

دریں اثناوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی بحث ہوئی۔

باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ایک بار پھر زیر عتاب رہے، اراکین نے تابڑ توڑ سوالات پوچھ لیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مفتاح صاحب میں آپ کا دفاع نہیں کروں گا، ٹیکسوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے پر اپنے ساتھیوں کو مطمئن کریں۔

اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے ہم سب جماعتوں کا عوامی گراف گرا ہے جس پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف سے جلد اچھی خبر ملے گی، امیروں کے لیے ٹیکس بڑھایا، مجھے قیمتیں بڑھانے کا شوق نہیں مگر عالمی منڈی کو دیکھ لیں۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ایف اے ٹی ایف کے اہداف حاصل کرنے پر افواج پاکستان اور متعلقہ اداروں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انشاء اللہ جلد گرے سے وائٹ لسٹ میں جائیں گے، قومی سلامتی کے اداروں اور ان کے سربراہان کے خلاف تحریک انصاف کا بے بنیاد پروپیگنڈا قابل مذمت ہے۔

Back to top button