مفتاح اسماعیل IMF سے مذاکرات کے لئے دوحہ کیوں نہیں گئے؟


سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات کیلئے اس لئے امریکہ نہیں جا رہے کیونکہ مسلم لیگ والوں کو یہ بھی یقین نہیں کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ان کی حکومت رہے گی بھی یا نہیں۔

24 نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف آئندہ 48 گھنٹوں میں اسمبلی تحلیل کر دیتے ہیں تو اچھا تو نہیں لگے گا کہ مفتاح اسماعیل ایسے موقع پر آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی لئے آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات کیلئے صرف اقتصادی ٹیم کو بھیجا گیا ہے، وہ لوگ بھی شریف برادران کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ ان کی طرف سے مستقبل بارے کیا احکامات اور فیصلہ سامنے آتا ہے۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہم نے معیشت کی بحالی کیلئے مشکل فیصلے کرنے ہیں تو پھر مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کیساتھ ملاقات کیلئے چلے جائیں گے، اور اگر فیصلہ نہ ہوا تو نہیں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کبھی بھی اتنے مشکل معاشی فیصلے نہیں کرے گی، جب تک ان کو فوجی اسٹیبشلمنٹ کی طرف سے یہ گارنٹی نہیں مل جاتی کہ ان کی حکومت ڈیڑھ سال تک اقتدار میں رہے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت 200 روپے کا ہندسہ کراس کر چکی ہے اور معیشت تباہی کی جانب گامزن ہے۔ سیاسی اور معاشی بحرانوں کے شکار پاکستان کی نئی حکومت آخری سانسیں لیتی معیشت بچانے کے لیے اپنی پیشروحکومتوں کی طرح آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑی ہے۔ پاکستانی سرکاری وفد دوحہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے نمائندوں کےساتھ ملکی معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے اہم مذکرات کر رہا ہے لیکن وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ابھی تک پاکستان میں بیٹھے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی اقتصادی ٹیم کی کوشش ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے فوری طور پرکم ازکم ایک ارب ڈالر کی پہلے سے طے شدہ قسط حاصل کر لے۔ تاہم ملک میں اقتصادی اصلاحات کی سست رفتار کی وجہ سے حکومتی وفد کے لیے آئی ایم ایف کے نمائندوں کو قائل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومتیں گزشتہ 75 سالوں سے آئی ایم ایف کے سہارے ہی ملک چلاتی آرہی ہیں۔ لیکن درحقیقت آئی ایم ایف کے پاس جانا ایسے ہی ہے جیسے ملکی معیشت کو ہمیشہ کے لیے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کروا کر وینٹی لیٹر پر ڈال دیا جائے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے 2019 میں بیمار ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ چھ ارب ڈالر کے تین سالہ پروگرام کا معاہدہ کیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف کی حکومت عوام کو دی جانیے والی تیل اور بجلی کی سرکاری سبسیڈیز کوختم نہیں کر پائی اور نہ ہی محصولات کی وصولی کو اس ہدف تک پہنچا سکی، جس کا آئی ایم ایف سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اسی صورتحال کے سبب آئی ایم ایف کے اس پروگرام کا ابھی تک بھی مکمل نفاذ نہیں ہو سکا۔ پاکستان کو اب تک صرف تین ارب ڈالر مل سکے ہیں اور اس معاہدے کا اختتام رواں برس ہونا ہے۔

موجودہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اس معاہدے کو جون 2023 تک توسیع دلوا سکے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ دونوں فریقین کوئی ‘درمیانی راستہ’ ڈھونڈ لیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہو گی وہ آئی ایم ایف کو اس بات پر قائل کر لے کہ ملکی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے کچھ رعایات بحال رکھنے کی اجازت مل جائے۔

معاشی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی زمینی حقائق کے بجائے سیاسی مصلحتوں کو مد نظر رکھا تو اس بات کا امکان نہیں کہ پاکستانی معیشت کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔ دوسری جانب ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدرمیں ریکارڈ گراوٹ اور نتیجتاً افراط زر کی مسلسل بڑھتی ہوئی شرح نے عوام کو مہنگائی سے بدحال کر رکھا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ہفتے تک دوحہ میں جاری رہنے والے مذاکرات مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہے، جہاں اسے ایک جانب آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا سامنا ہو گا اوردوسری جانب آئندہ انتخابات سے قبل عوام کو تیل و بجلی پر دی جانے والی رعایتیں ختم نہ کرنے کے چیلنج کا سامنا بھی ہو گا۔

Back to top button