ملکہ کی وفات کے بعد کن چیزوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟

دنیا کے بیشتر ممالک پر حکمرانی کرنے والی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے انتقال کے بعد برطانیہ سے مختلف قیمتی اشیا کی واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا۔

ایک رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پرصارفین کی جانب سے کوہ نورہیرا، ٹیپو سلطان کی انگوٹھی،ایلگن ماربلز، افریقہ کا عظیم ستارہ اورروزیٹا پتھرسمیت دیگر قمیتی اشیا کی واپس کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کوہ نورسمیت متعدد قیمتی اشیاء ایسی ہیں جنہیں برطانیہ نے نوآبادیاتی دورمیں اپنے زیرتسلط ممالک سے چھینی یا لوٹی تھیں۔

صارفین کی جانب سے برطانیہ سے کوہ نور ہیرا بھارت کو واپس لوٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو ملکہ برطانیہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ انگریزوں نے 1799 میں ٹیپو سلطان کے خلاف جنگ میں فتح کے بعد اس جسم سے انگوٹھی اتار لی تھی جسے ایک نیلامی کے دوران 1 لاکھ 45 ہزار پاؤنڈز میں نامعلوم شخص کو نیلام کیا گیا۔اور اس کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا جا رہاہے۔

برطانیہ سے ایلگن ماربلز کی واپسی کا بھی مطالبہ سامنے آیا ہے ۔ مؤرخین کے مطابق 1803 میں لارڈ ایلگن نے یونان سے ہارتھینن کی بوسیدہ دیواروں سے سنگ مرمر کو نکال کر لندن منتقل کروا دیا تھا جو اب بھی برطانوی عجائب گھر(برٹش میوزیم) میں موجود ہے اور 1925 سے یونان اپنی قیمتی اشیاء کی واپسی کا مطالبہ کررہا ہے جو آج تک پورا نہ ہوسکا۔ یار ہے کہ لارڈ ایلگن کی وجہ سے ان قیمتی یونانی سنگ مرمر کو ایلگن ماربلز کے نام سے جانا جاتا ہے۔

دیگر اشیاء کی برطانیہ سے افریقہ کے عظیم سےستارے کی واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔جسے برطانوی سرکار نے 1905 میں افریقہ سے برآمد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ہیرے ’دی گریٹ اسٹار آف افریقہ‘ کو بھی لوٹ لیا تھا جو اس وقت ملکہ برطانیہ کے تخت میں جڑا ہوا ہے۔ ہیرے کا وزن 530 قیراط ہے جس کی مالیت کا تخمینہ 40 کروڑ امریکی ڈالرز لگائی ہے۔ تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’افریقہ کے عظیم ستارے‘ نامی ہیرے کو ایڈورڈ ہفتم کو بطور تحفہ پیش کیا گیا تھا تاہم نا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہیرا چوری کیا۔

اسی طرح برطانیہ سے مصر کے روزیٹا پتھر کی واپسی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ مصری حکام اور ماہرین آثار قدیمہ روزیٹا پتھر کو واپس مصر لانا چاہتے ہیں لیکن دیگر نوادرات اور قیمتی اشیاء کی اس کا مطالبہ بھی پورا نہ ہوسکا۔ 196 سال قبل مسیح کے پتھر سے متعلق ماہرین آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ اس پتھر کو برطانوی حکومت نے سن1800 میں فرانس کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کرنے بعد چوری کیا تھا۔ روزیٹا پتھر بھی ایلگن ماربلز کی طرح اس وقت برطانیہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق روزیٹا پتھر دریائے نیل کے ایک کنارے روزیٹا کے مقام پر 1799 میں فرانسیسی فوجیوں کو اتفاقاً ملا تھا، جس میں ایک ہی عبارت تین زبانوں یعنی مصری تصویری خط میں، مصری عوامی خط اور یونانی خط میں کندہ ہے۔

Back to top button