ملکی سیاسی منظر نامہ بدلنے والے لاہور ہائیکورٹ کے انوکھے فیصلے

بلاشبہ لاہور ہائی کورٹ کے حصے میں یہ اعزاز آیا کہ اس کے دئیے گئے کچھ فیصلوں نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔گزشتہ ایک عشرےمیں بھی لاہور ہائی کورٹ کے بعض فیصلے ایسے ہیں جنہوں نے ملک کے سیاسی اور سماجی معاملات پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی سزائے موت کا ختم کیا جانا ایسا ہی ایک فیصلہ مانا جا رہا ہے۔
سابق صدر زرداری کے دو عہدوں کا معاملہ
مئی 2011 میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری کے دو عہدوں سے متعلق کیس پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ آصف علی زرداری کو فوری طور پر ایک عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ اس وقت سابق صدر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بھی تھے۔ اس فیصلے میں عدالت عالیہ نے ہدایت دی تھی کہ صدر پاکستان جتنی جلدی ممکن ہوسکے خود کو سیاسی عہدے سے الگ کرلیں۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایوان صدرکو کسی سیاسی جماعت کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنانا، اس کے تقدس، وقار اور صدارتی عہدے کی غیر جانبدار حیثیت کے منافی ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران ہی پیپلز پارٹی کے وکلا کی ٹیم نے احتجاجاً عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ بعد ازاں فیصلہ آنے پر بھی پارٹی نے کھل کر ردعمل کا اظہار کیا تھا کہ صدر مملکت کے عہدے سے متعلق عدالت ایسا کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔
آسیہ بی بی
2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے توہین مذہب کے مقدمہ میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیل خارج کرتے ہوئے ان کی سزا برقرار رکھی تھی۔ آسیہ بی بی کو 2010 میں ضلع ننکانہ کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ جسٹس مولوی انوارالحق اور جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس فیصلہ کے خلاف اپیل پر اپنے فیصلے میں مقامی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو اس مقدمے سے بری کیا اور ساتھ ہی مقدمے کی کمزوریوں پر کھل کر بات کی اور ایک مرتبہ پھر سول سوسائٹی اور نامور وکلا نے لاہور ہائی کورٹ پر اس وجہ سے تنقید کی کہ یہی ساری خامیاں عدالت عالیہ نے نظر انداز کیوں کیں۔
بانی ایم کیو ایم الطاف حسین پر پابندی
حالانکہ متحدہ قومی موومنٹ بنیادی طور پر کراچی کی جماعت تھی اور زیادہ اثر و رسوخ وہیں پر ہے لیکن لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس مظہر اقبال سدھو اور جسٹس ارم سجاد گل پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اس کے قائد الطاف حسین پر تقریروں کے ذریعے انتشار پھیلانے کے الزام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی تھی۔ 2015 میں الطاف حسین کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ عبداللہ ملک، ایڈووکیٹ آفتاب، ایڈووکیٹ مقصود اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الطاف حسین نے اپنی تقاریر میں پاک فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف انتشار آمیز بیان بازی کی، لہٰذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت عالیہ نے الطاف حسین کی کوریج، ان کے بیانات اور تصاویر نشر یا شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس فیصلے پر بعض حلقوں نے یہ اعتراض اٹھایا تھا کہ عدالتوں کو سیاسی معاملات سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیے۔
شریف خاندان پر قائم مقدمات
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں گزشتہ سال کے آخر میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے جسمانی ریمانڈ پر نیب حراست کے دوران ضمانت منظور کی اور انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی بھی اجازت دی، اسی مقدمے کی دوسری ملزمہ مریم نواز کو جب لاہور ہائی کورٹ کے اسی بنچ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور رمضان شوگر ملز میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم بھی دیا تو یہ فیصلہ بھی مخالف سیاسی قوتوں کو پسند نہ آیا اور انہوں نے فیصلوں پر کھل کر تنقید کی۔ شریف خاندان سے متعلق مقدموں میں سب سے زیادہ کھل کر بات تب ہوئی جب نیب کی ایک ٹیم اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز کو گرفتار کرنے ان کی رہائش گاہ پہنچی تو اس وقت کے چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان نے ہفتہ کو اپنے چیمبر میں مختصر سماعت کرتے ہوئے نیب کو گرفتاری سے عارضی طور پر روک دیا تھا۔
پرویز مشرف سنگین غداری مقدمہ
لاہور ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ جس میں سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والی خصوصی عدالت کو نہ صرف غیر آئینی قرار دیا گیا بلکہ پرویز مشرف کے ٹرائل اور سزا کو بھی کالعدم کردیا۔ اس کے علاوہ عدالت عالیہ نے کریمنل لاء اسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976 کی دفعہ 9 کو بھی کالعدم کردیا جو کہ خصوصی عدالت کو یہ اختیار تفویض کرتی تھی کہ وہ ملزم کی غیر حاضری میں بھی قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے سزا سنا سکتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کے مختصر فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 6 کے تحت ترمیم کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ فیصلہ بھی آج کل شدید تنقید کی زد میں ہے اور نہ صرف سول سوسائٹی بلکہ اپوزیشن کی مختلف سیاسی جماعتیں اور وکلا برادری نے بھی اس پر مختلف طریقوں سے تنقید کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button