ملک بھر میں آٹے کے شدید بحران کے بعد چینی کی قلت کا خدشہ

ملک بھر ميں آٹے کے بعد چينی کا بحران بھی سر اُٹھا رہا ہے. مختلف شہروں میں فی کلو گرام چينی کی قيمت 85 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صورتِ حال ایسی ہی رہی تو چینی 100 روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔
گندم کے بحران کے بعد پاکستان کے وزيراعظم عمران خان نے ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے کی سربراہی ميں تحقيقاتی کميٹی قائم کر دی ہے تاکہ گندم بحران کے اصلی ذمہ داروں کا تعين کر سکے۔ جبکہ دوسری طرف وفاقی وزير سائنس و ٹيکنالوجی فواد چوہدری کہتے ہیں کہ اتنا بڑا بحران نہیں ہے۔ جتنا میڈیا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ اس صورتِ حال کے ذمہ داروں کو سزا دی جا سکے۔
تاجر برادری کے مطابق کراچی کی پرچون مارکيٹ ميں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران چينی کی قيمت ميں دس روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ کراچی پرچون فروش ايسوسی ايشن کے سيکريٹری جنرل فريد قريشی کا کہنا ہے کہ دلچسپ امر يہ ہے کہ يہ اضافہ ايسے وقت ميں ہو رہا ہے جب ملک ميں گنے کا کرشنگ سيزن چل رہا ہے. اس کے باوجود شوگر مل مالکان نے چینی کی قیمت میں چھ روپے فی کلو اضافہ کر دیا ہے۔
239ABEE1 504C 4270 90DE 12680F7C8568 w650 r1 s
ياد رہے کہ گزشہ ماہ چينی کی مارکيٹ ميں فی کلو قيمت 62 روپے تھی۔ فريد قريشی نے بتايا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ چونکہ گنے کا سيزن شروع ہو چکا ہے تو چينی کی قيمت مزيد کم ہو جائے ليکن ايسا لگتا ہے کہ حکومت نے زیادہ چینی برآمد کر دی ہے اور آٹے کی طرح چینی کے بحران کا بھی خدشہ ہے۔
5205ECA0 C6A0 4141 8EF7 2ADF958691E9 w1023 r1 s
پاکستان شوگر ملز ايسوسی ايشن کے ترجمان محمد وحيد چوہدری کے مطابق حاليہ بحران ملک ميں چينی کی کم پيداوار کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے بتايا کہ کسانوں نے کم نرخ ملنے کے خدشے کے پیش نظر گنے کی فصل کم لگائی گئی۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ رسد اور ترسیل کا معاملہ ہے۔ جب گنا زیادہ پیدا ہوتا ہے تو ملز مالکان اس کی قیمت کم لگاتے ہیں لیکن جب گنا کم پیدا ہوتا ہے تو مل مالکان کو مہنگے نرخوں پر کسان سے خریدنا پڑھتا ہے۔ جس کا لامحالہ اثر چینی کی قیمت پر پڑتا ہے۔وحید چوہدری نے بتایا کہ شوگر ملز جو گنا 190 روپے فی من کے حساب سے کاشت کاروں سے خرید رہی تھیں۔ اب مارکيٹ ميں اس کی قيمت 240 تک پہنچ گئی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ گنا مہنگا ہونے کے باعث شوگر ملز ایسوسی ایشن کو ملیں بند کرنا پڑیں لیکن حکومتی دباؤ کی وجہ سے ملوں نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب ايک عام تاثر ہے کہ شوگر مل مالکان کسانوں کے گنے سے لدے ٹرکوں کو طويل لائنوں ميں ہفتوں کھڑا رکھتے ہيں جس سے گنے کا وزن کم ہو جاتا ہے اور کسانوں کو پيسے وزن کے حساب سے کم دينے پڑتے ہيں۔ تاہم وحيد چوہدری اس تاثر کو رد کرتے ہيں۔ انکے مطابق جتنی جلدی گنے کی کرشنگ ہوگی اتنی زيادہ چينی پيدا ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسان بغير پرمٹ اپنے ٹرک لے کر آ جاتے ہيں اور يوں اُنہیں ملوں کے باہر رکنا پڑتا ہے جسکی ذمہ داری وہ ملز مالکان پر ڈالتے ہيں۔ وحید چوہدری کہتے ہیں کہ شوگر ملز مالکان نہیں چاہتے کہ کسان کا مالی نقصان ہو۔ شوگر ملز اور کسان ایک دُوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں مگر کسانوں کو مالی نقصان حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وحید چوہدری نے بتایا کہ پاکستان میں چینی کی ڈیمانڈ 60 لاکھ ٹن ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کرشنگ سیزن کے اختتام تک پاکستان میں ڈیمانڈ کے مطابق چینی موجود ہو گی۔
4AF41152 E90C 4FC2 80D9 E958AAEAA84B w650 r1 s
شوگر ملز ايسوسی ايشن کے مطابق گزشتہ ايک سال ميں سات لاکھ 63 ہزار تين سو تريپن ٹن چينی برآمد کی گئی۔ اس کے علاو وفاقی بجٹ سال 2019-20 ميں بھی چينی پر 3.60 روپے فی کلوگرام سيلز ٹيکس لگايا گیا۔
دوسری طرف صوبہ خيبر پختونخوا کسان بورڈ کے صدر رضوان اللہ شوگر ملز ايسوسی ايشن سے اختلاف کرتے ہيں۔ اُن کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان اور حکومت کسانوں کو مناسب نرخ نہیں دیتے۔ مہنگائی کے باعث گنے کی کاشت پر لاگت زيادہ آ رہی ہے جبکہ حکومت بہت کم ريٹ کا تعين کرتی ہے۔ رضوان اللہ کے مطابق ملز مالکان حکومتی مقررہ ريٹ سے بھی کسان سے گنا کم داموں ميں خريدتے ہيں اور اُن کا استحصال کيا جاتا ہے کيوںکہ اُنہیں پتا ہے کہ شوگر مل کے علاوہ گنے کی کوئی اور مارکيٹ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button