ملک ریاض کا دفاع کرتے ہوئے فواد کیسے کلین بولڈ ہوئے؟

برطانیہ میں بحریہ ٹائون کے کھرب پتی مالک ملک ریاض حسین کے پکڑے گئے 190 ملین پائونڈز کا دفاع کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے ہاتھوں مکمل طور پر کلین بولڈ ہوگئے اور کوئی تسلی بخش جواب دینے کی بجائے صرف ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ مطیع اللہ جان کو انٹرویو دیتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ملک ریاض کے فرزند علی ریاض کے خلاف برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے انکوائری کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ آپ کے پاس 104 ملین ڈالرز کی خطیر رقم کہاں سے آئی ؟ یہ انکوائری ابھی چل رہی تھی کہ اس دوران علی ریاض نے نیشنل کرائم ایجنسی کو ایک درخواست دی کہ میں اس معاملے کو مزید نہیں کھینچنا چاہتا کیونکہ میں کاروباری آدمی ہوں لہٰذا میں یہ پیسہ حکومت پاکستان کو واپس کر دیتا ہوں، یہ رقم واپس کرنے کے عوض علی ریاض نے استدعا کہ انکے خلاف کریمنل انکوائری بند کر دی جائے۔ اس نے برطانوی کرائم ایجنسی کو یہ بھی کہا کہ میری اور آپ کی سیٹلمنٹ خفیہ رہے گی۔ یاد رہے کہ تب عمران خان وزیراعظم تھے۔
ملک ریاض سے سیٹلمنٹ کی کہانی آگے بڑھاتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا کہ اسکے بعد ہمارے پاس دو آپشنز تھیں، پہلی آپشن یہ تھی کہ ہم یہ رقم پاکستان واپس منگوا لیںتے اور دوسری یہ کہ ہم برطانیہ سے کہتے کہ آپ انکوائری کروائیں کہ یہ 104 ملین ڈالرز پاکستان سے باہر کیسے گئے؟ اس پر وفاقی کابینہ نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ برطانیہ سے 104 ملین ڈالرز واپس منگوا لے۔ اس پر مطیع اللہ جان نے فواد سے پوچھا کہ کیا اسکے بعد یہ رقم حکومت پاکستان کو قاپو مل گئی تھی؟ اس پر فواد نے کہا کہ نہیں، یہ رقم اصل میں سپریم کورٹ کو ملی تھی۔ اس پر مطیع اللہ نے پوچھا کہ اگر رقم حکومت پاکستان کی تھی تو پھر وہ حکومت کو ہی لوٹانی چاہئے تھی کیونکہ سپریم کورٹ سے اس کا کوئی تعلق نہیں بنتا؟ اس پر فواد نے کہا کہ کیونکہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کراچی پر جرمانہ عائد کیا ہوا تھا اس لیے وہ رقم برطانیہ سے سپریم کورٹ کے پاس آئی۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ یہ تو عوام کا پیسہ تھا، اسے حکومت پاکستان کو واپس ملنا چاہئے تھا۔ سپریم کورٹ کو یہ ادائیگی کیوں کی گئی؟ اس پر فواد چودھری نے کہا کہ وہ پیسہ ملک ریاض کو نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ سیٹلمینٹ میں ملا تھا۔
لیکن جب مطیع اللہ جان نے اپنے تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو فواد چودھری بوکھلا گئے اور کہا کہ آپ ایک مرتبہ میری مکمل بات سن لیں، اس کے بعد سوال کریں۔
اس کے بعد فواد چوہدری نے ملک ریاض کے ساتھ ہونے والی ڈیل کا دفاع کرنے کی دوبارہ کوشش کی۔ فواد نے کہا کہ ملک ریاض کے معاملے میں نہ حکومت شامل تھی اور نہ ہی سپریم کورٹ۔ اور نہ ہی ہمارے کہنے پر برطانوی خفیہ ایجنسی نے یہ کیس شروع کیا تھا۔ یہ اصل میں 150 ملین ڈالرز کا معاملہ تھا لیکن دونوں پارٹیوں میں 104 ملین ڈالرز کی فائنل سیٹیلمینٹ ہو گئی تھی۔ ملک ریاض کی جانب سے کہا گیا کہ ہم یہ پیسہ پاکستان واپس بھجوا دیتے ہیں لیکن حکومت پاکستان گارنٹی کرے کہ وہ ہمارا برطانوی ایجنسی کیساتھ ہونے والے معاہدہ پبلک نہیں کرے گی۔ اس پر مطیع اللہ جان نے کہا کہ کیوں، اسکی کیا وجہ تھی؟ حکومت کا اس معاملے سے کیا تعلق تھا؟
اس پر فواد نے کہا کہ تو پھر کیا ہم پیسہ نہ لیتے اور 104 ملین ڈالرز چھوڑ دیتے؟ جواب میں مطیع اللہ نے کہا کہ فواد صاحب آپ خود ایک وکیل ہیں۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آپ جو باتیں کر رہے ہیں، ان کی کوئی منطق بنتی ہے؟
اس پر فواد چودھری نے کہا کہ بالکل بنتی ہے۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں کہ میرا اور آپ کا کوئی معاہدہ ہوا۔ آپ مجھے کہتے ہیں کہ میں آپ کو 50 ہزار روپیہ دے دیتا ہوں لیکن کچھ شرائط بھی ہونگی۔ آپ یہ معاہدہ پبلک نہیں کریں گے۔ اس کے بعد اس میں تھرڈ پارٹی شامل ہو جاتی ہے جو کہ حکومت ہے۔ اس پر مطیع اللہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ کیا حکومت اس پرائیوٹ معاہدے کی پابند ہے؟ ملک ریاض کو ڈائریکٹ پیسے قومی خزانے میں جمع کروانے چاہیے تھے لیکن آپ نے عوام کا پیسہ جرمانے کے طور پر سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا؟ مطیع اللہ جان نے کہا کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا گیا؟ اس پر فواد چودھری نے کہا کہ عوام کا پیسہ ثابت کرنے کیلئے ہمیں برطانیہ میں 15 سال کیس لڑنا پڑنا تھا۔
مطیع اللہ جان نے فواد سے پوچھا کہ اچھا یہ تو بتائیں کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اور ملک ریاض کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، اس میں سپریم کورٹ کا کہیں ذکر تھا؟ فواد چودھری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی میں نے تو وہ معاہدہ دیکھا ہی نہیں، وہ سیل بند تھا۔ مطیع اللہ جان نے پوچھا کہ عمران خان کا کونسا ایسا ذاتی مفاد تھا کہ انہوں نے وفاقی کابینہ تک کو معاہدے کی بھنک تک لگنے نہیں دی؟
اس پر فواد چودھری نے منطق اختیار کی کہ عمران کا مفاد یہ تھا کہ پیسہ پاکستان کو مل جائے۔ لیکن مطیع اللہ جان نے انہیں یاد دلایا کہ پیسہ تو حکومت کو ملا ہی نہیں، عمران کی حکومت نے تو دوبارہ اسے ملک ریاض کی جیب میں ڈال دیا۔ اس پر فواد نے کہا کہ ایسا نہیں، وہ پیسہ سپریم کورٹ کو مل گیا تھا۔ اس پر مطیع اللہ جان نے پوچھا کہ فواد صاحب اچھا آپ یہ بتائیں کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے ملک ریاض کو جو پیسہ دینے کا معاہدہ کیا وہ قانونی پیسہ تھا یا غیر قانونی؟ اس پر فواد چودھری نے کہا کہ یہ بات تو ابھی ثابت ہونا تھی۔
