ملک میں اب تک کورونا وائرس انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوا، ظفر مرزا

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ملک میں اب تک کورونا وائرس انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوا اور تمام متاثرہ افراد بیرون ملک وائرس کا شکار ہوئے۔ڈان نیوز کے پروگرام ‘نیوز وائز’ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘مجھے پاکستان میں کورونا وائرس کے سامنے آنے والے آخری کیس کی تفصیلات کا علم نہیں لیکن اس سے قبل جو کیسز سامنے آئے ہیں وہ انسانوں سے انسانوں کو منتقل نہیں ہوئی، جو باہر سے اپنے جسم میں وائرس لے کر آئے ہم انہیں پرائمری کیسز کہتے ہیں، ہم نے ایسے لوگوں کو ایئرپورٹ پر پکڑا اور وائرس نہ ہونے پر گھر جانے کی اجازت دے دی۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم بیرون ملک سے آنے والوں اور ان کے عزیزوں کی صحیح طریقے سے اسکریننگ کر لیں تو اس وائرس میں ملک میں پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔ظفر مرزا نے وائرس سے متاثرہ افراد کو پکڑنے والے مانیٹرنگ سسٹم میں کمزوری سے متعلق کہا کہ ‘میں خود وزیر اعلیٰ سندھ سے رابطے میں ہوں، معاملے پر وفاق اور صوبائی حکومت مل کر کوششیں کر رہے ہیں، جہاں تک بات اسکریننگ کمزور ہونے کی ہے تو یہ سسٹم چند ہفتے قبل ہی بنایا گیا ہے، اس سے قبل ہم نے بیرون ملک سے آنے والوں کی ہیلتھ اسکریننگ کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جبکہ اس سسٹم کے ذریعے ایئرپورٹس پر یکم فروری سے اب تک تقریباً 8 لاکھ لوگوں کو اسکرین کیا جاچکا ہے۔
سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ سامنے آنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘کراچی کا ایئرپورٹ ملک کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے، ہمارے ایس او پیز کے مطابق اسکریننگ کے دوران جن لوگوں میں وائرس کی موجودگی کی علامات پائی گئیں انہیں ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے جبکہ دیگر کو ہدایات کے ساتھ گھر بھیجا جارہا ہے اور انہیں زبردستی ہسپتال منتقل نہیں کر سکتے۔کراچی میں پی ایس ایل کے میچز کے انعقاد کے حوالے سے معاون خصوصی نے کہا کہ ‘جب تک وائرس انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہو رہا ہمیں اس طرح کے مجمع سے متعلق بڑے اقدامات اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں کورونا وائرس کے زیادہ تر کیسز ایران، عراق و دیگر ممالک سے آئے، چین سے ایک کیس بھی پاکستان نہیں آیا، جب تک ہم نے انسان سے انسان میں وائرس کی منتقلی کو روکا ہوا ہے کیسز صرف بیرون ملک سے آئیں گے، خدا نخواستہ انسان سے وائرس کی منتقل شروع ہوگئی تو گراف بہت اوپر چلا جائے گا۔’
