ملک میں انتخابی گہما گہمی ماند کیوں پڑ گئی؟

انتخابات کی تاخیر کی بازگشت، ملک میں جاری معاشی بحران اورمہنگائی کے طوفان کی وجہ سے بپھرے عوام کے پیش نظر ملک میں انتخابی سرگرمیاں فوری شروع ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، مبصرین کے مطابق ملکی حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم چلانے سے گریزاں ہیں اور لگتا یہی ہے کہ نوازشریف کی وطن واپسی آئندہ الیکشن کے لئے انتخابی مہم کا نقطہ آغاز ہوگا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری میں عام انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے الیکشن کمیشن کو محنت شاقہ سے کام لینا ہوگا۔کمیشن کو انتخابی حد بندیوں کی حتمی تاریخ 14 دسمبر سے 30 نومبر پر لاکر ہی جلد انتخابات کے مطالبات کو پورا کرنا ممکن ہوگا کیونکہ اب 90 روز میں عام انتخابات کا ہونا ممکن العمل نہیں رہا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم عجلت میں شروع کرنے کا ار ادہ نہیں رکھتیں۔ ویسے بھی انتخابات کی تاریخ بارے ماضی قریب کی بڑی اتحادی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن بھی ایک پیج پر نہیں رہیں کیونکہ سیاسی جماعتیں انتخابی حلقہ بندیوں کے سوال پر دو خیموں میں بٹ چکی ہیں۔اپنے عوامی موقف سے قطع نظر کسی بھی سیاسی جماعت نے اس وقت نئی حلقہ بندیوں کے منصوبے کی مزاحمت نہیں کی تھی جب اس کا ڈول ڈالے جانے کا فیصلہ ہورہا تھا حالانکہ انہیں علم تھا کہ اس کے باعث عام انتخابات میں تاخیر واقع ہوگی۔ان جماعتوں میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف دونوں ہی شامل تھیں تحریک انصاف جس نے 2019ء میں مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں آئندہ انتخابات کو نئی حلقہ بندیوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب وہ اقتدار میں تھی جبکہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھ کے وزیراعلیٰ نے کراچی سے وفاقی دارالحکومت آکر مشترکہ مفادات کی کونسل کے قومی اسمبلی توڑے جانے سے چندروز قبل نئی حلقہ بندیوں کی حمایت میں رائے دیکر اسے ممکن بنایا تھا۔ اگر سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اپنے ووٹ کی تائید فراہم نہ کرتے تو حلقہ بندیوں کا فیصلہ ممکن نہیں تھا اور اس طرح عام انتخابات کا انعقاد نوے روز سے آگے لے جانا قرین ممکن نہیں تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کی بعض جماعتیں اور متحدہ پاکستان نے اس مردم شماری کے بارے میں بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس میں پیپلزپارٹی بھی اپنی وجوہ سے شامل تھی۔ پیپلزپارٹی نئی حلقہ بندیوں کی مزاحمت کرنے میں تنہا تھی اب جماعت اسلامی بھی اس کی اس معاملے میں ہمدم بن گئی ہے۔ اب یہ جماعتیں قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے دنوں میں عام انتخابات کے انعقاد کا تقاضا کررہی ہیں اس مقصد کے لئے بعض تنظیموں نے اعلیٰ ترین عدالت کے دروازے پر بھی دستک دی ہے اور ایوان صدر اچانک اس معاملے میں کود گیا ہے۔ تاہم سیاسی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یہ پوری مشق آخرکار رائیگاں چلی جائے گی کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ بندیوں کے کام پر تیزی سے پیشرفت شروع کردی ہے ان حالات میں کمیشن کے لئے عملاً اب نوے روز کی ڈیڈ لائن پر واپس آنا ممکن العمل نہیں رہا۔

دوسری جانب پاکستان کی سیاسی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ملک کی موجودہ صورت حال میں کسی سیاسی گہما گہمی کا نہ ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت کے بجائے اگلے سال ہوں گے اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی کا مطلب ہے کہ اندرونی طور پر ان کی مقتدرہ سے مفاہمت ہے۔’لیکن اس بات کا ہر گز مطلب نہیں کہ میں انتخابات میں کوئی غیر معمولی تاخیر بھی دیکھ رہا ہوں ہے۔ یہ صرف چند ایک مہینوں کا معاملہ ہے۔ مطلوبہ صورت حال بنتے ہی الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے دے گا تو پھر یہ گہما گہمی بھی نظر آنا شروع ہو جائے گی۔‘

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جو اس وقت ملک کی معاشی صورت حال ہے، خاص طور پر بجلی کے بلوں نے لوگوں کو متاثر کیا ہے اس سے بھی سیاسی معاملات ماند پڑے ہیں۔

پاکستان میں انتخابات اور جمہوری عمل پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ ’اس وقت فیصلہ ساز چاہے وہ سیاسی ہوں یا اسٹیبلشمنٹ ان کے سامنے ملکی معیشت کی صورت حال ہے۔ یہ بات درست ہے کہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد کبھی بھی پاکستان میں اتنا سیاسی سناٹا نہیں دیکھا گیا۔ یہ ایک نئی بات ضرور ہے لیکن سمجھ میں آنے والی بات بھی ہے۔‘’میرا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کی اکثریت چونکہ پچھلی حکومت میں تھی اس لیے انہیں حالات کا بخوبی ادراک ہے۔ اس سب کو اندازہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے جب بھی تاریخ کا اعلان کرے گا تو اس کے بعد ہی وہ میدان عمل میں آئیں گے۔‘

Back to top button