مولانا فضل الرحمان اور فوجی قیادت آمنے سامنے کیسے آگئے؟

ماضی میں پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چلنے والے مولانا فضل الرحمان اب اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی رول کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی اپوزیشن اتحاد کی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے فوجی قیادت کے سامنے آ گئے ہیں اور اب نواز شریف کی طرح سینئر فوجی افسران کا نام لے کر تنقید شروع کر دی گئی ہے۔
قومی احتساب بیورو کی جانب سے مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کے خلاف نت نئے مقدمات کے اندراج کے بعد جمیعت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے 24 دسمبر کو یہ بڑا اعلان کر دیا ہے کہ اگر نیب والے اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو انکی جماعت راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے باہر دھرنا دے گی اور ان تمام معاملات کی ذمہ داری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر عائد کی جائے گی جو کہ اداروں کے دباؤ میں جے یو آئی کی قیادت کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام اس وقت قومی منظرنامے پر خاصی اہم حیثیت کی حاصل کر چکی ہے کیونکہ اس کے امیر مولانا فضل الرحمن اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں اور حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ شاید جی یو آئی اس وقت پاکستان کی واحد بڑی دینی جماعت ہے جو کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خلاف تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سے پہلے ماضی میں پاکستان کی تمام بڑی دینی جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ کے سہولت کار ٹٹو کا کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ چوتھے ملٹری ڈکٹیٹر جنرل مشرف کے دور تک جاری رہا۔ پاکستانی سیاست سے فوج کی مداخلت کا ایجنڈا لے کر چلنے والی پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حلیف سے اس کے حریف کیسے بنے؟ یہ جاننے کے لیے جمیعت علمائے اسلام اور مولانا کے سیاسی سفر پر ایک نظر ڈالنا ہوگی۔
جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد 1919 میں متحدہ ہندوستان میں رکھی گئی تھی۔ تاہم اس وقت اس کا نام جمعیت علمائے ہند رکھا گیا تھا۔ اس کے بانی رہنماوں میں مولانا محمود الحسن، مولانا عبیداللہ سندھی، مفتی کفایت اللہ جیسے دیوبند مکتبہ فکر کے چوٹی کے علما شامل تھے۔ سینیئر صحافی اور اینکرپرسن حامد میر کے مطابق جمعیت علمائے ہند ایک سامراج دشمن اور برطانوی قابض حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والی جماعت بن کر سامنے آئی تھی۔ اس کے رہنماؤں کو انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں مالٹا میں بھیج کر سزا دی گئی۔ اس جماعت نے ریشمی رومال تحریک چلائی اور ہندو، مسلم اور سکھ اتحاد بنا کر سیکولر پہچان بنائی۔ جماعت کی اکثریت برصغیر کی تقسیم کی مخالف تھی اور اس کو انڈیا کی جماعت کانگریس کا حامی سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی مخالفین جماعت کو پاکستان کے قیام کی مخالفت کا طعنہ دیتے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کا ایک حصہ مولانا شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں 1945 میں ہی اس سے الگ ہو گیا جس نے پاکستان کی آزادی کی تحریک میں بانی پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ حصہ لیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے جماعت کا نام بدل کر جمعیت علمائے اسلام کر دیا۔ جماعت کے پاکستان کے حامی حلقے کو تھانوی گروپ کہا جاتا تھا اور متحدہ ہندوستان کے حامی حلقے کو مولانا حسین احمد مدنی کی مناسبت سے مدنی گروپ کہا جاتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جماعت دودھڑوں میں تقسیم رہی۔ تاہم 1956 میں دونوں دھڑوں میں اتفاق ہوگیا اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت مولانا احمد علی لاہوری نے سنبھال لی۔
جمعیت علمائے اسلام کا حقیقی معنوں میں سیاسی کردار 1962 میں موجودہ سربراہ مولانا فضل الرحمن کے والد مفتی محمود کے منظر عام پر آمد کے ساتھ شروع ہوا جنہوں نے جماعت کو سیاسی طور پر فعال کیا اور اس وقت کے فوجی صدر جنرل ایوب کے آخری دونوں میں مارشل لا کے خلاف بھی تحریک چلائی۔
لہکن صحیح معنوں پاکستانی سیاست میں جے یو آئی کی دھوم 1970 کے انتخابات میں مچی جب یہ مغربی پاکستان میں ایک بڑی جماعت کے طورپر ابھری ۔ انتخابات کے بعد 1972 میں جمعیت علمائے اسلام نے قوم پرست جماعت نیشنل عوامی پارٹی یعنی نیپ کے ساتھ اتحاد کر کے صوبہ بلوچستان اور صوبہ سرحد میں حکومتیں بنا لیں اور مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ سرحد بن گئے جبکہ نیپ رہنما عطا اللہ مینگل وزیراعلیٰ بلوچستان۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جماعت براہ راست حکومت میں آئی۔
حامد میر کے مطابق یہ ایک ثبوت ہے کہ جے یو آئی کا پہلا اتحاد لبرل اور سیکولر جماعت کے ساتھ تھا۔ جمعیت کے رہنما دعویٰ کرتے ہیں کہ مفتی محمود کے وزیراعلیٰ بنتے ہی جمعیت علمائے اسلام کے منشور پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ۔ شراب پر پابندی عائد کی گئی۔ پختون آبادی کا اکثریتی صوبہ ہونے کے باوجود صوبہ کی سرکاری زبان اردو قرار دی گئی اور ہفتہ وار تعطیل اتوار کی بجائے جمعہ کو قرار دی گئی تاہم ان کا دور اقتدار نو ماہ سے زیادہ نہ چل سکا اور فروری 1973 میں اس وقت کے وزیراعظم زوالفقار علی بھٹو کی جانب سے بلوچستان میں اپنی اتحادی نیپ کی حکومت کی برطرفی پر احتجاجا مفتی محمود بھی وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہو گئے۔
جمعیت علمائے اسلام کے ایک سینئیر رکن اسماعیل حسینی، جو کہ مولانا شیرانی کے دھڑے سے تعلق رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ مفتی محمود نے یوں تو نیپ کی حکومت کے خاتمے کے خلاف احتجاجا استعفی دیا تھا مگر یہ بات درست ہے کہ ان کی حکومت ڈلیور کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اسماعیل حسینی کے مطابق اقتدار علما کے بس کا روگ نہیں اور بیورو کریسی اور دیگر گھاگھ سیاستدانوں نے مفتی محمود کے لیے حکومت چلانا مشکل کر دیا تھا۔ اسماعیل حسینی جو اس وقت مولانا فضل الرحمن کے مخالف ہیں، کا کہنا ہے کہ مفتی محمود تیز مزاج کے حامل تھے اور وہ پارٹی کے عہدے کے ساتھ ساتھ حکومتی عہدہ رکھنے پر تنقید کا شکار ہوئے تو انہوں نے تنقید کرنے والے کارکن کی بنیادی رکنیت معطل کر دی جس کی وجہ سے ان کا اپنی پارٹی کے سینیئر رہنما مولانا غلام غوث ہزاروی سے اختلاف پیدا ہوگیا۔ اسماعیل حسینی کے مطابق مولانا فضل الرحمن اپنے والد کے مقابلے میں خاصے متحمل مزاج ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اختلافات کے باجود اب تک مولانا شیرانی کو برداشت کیے رکھا ہے۔
مولانا غلام غوث ہزاروی رکن اسمبلی کے طور پر 1970 کی دہائی میں مولانا مفتی محمود کی پالیسی سے اعلانیہ اختلاف کرتے تھے۔ تاہم حامد میر کے مطابق سیاسی طور پر سمجھدار وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مولانا غلام غوث ہزاروی کو ساتھ ملا لیا تھا اور پارٹی میں پھوٹ ڈال دی تھی۔ ان کے مطابق 1973 کے آئین کی تشکیل اور مشترکہ منظوری میں مفتی محمود کا اہم کردار تھا جس پر مولانا فضل الرحمن اب تک کریڈٹ لیتے ہیں۔ اس کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 1977 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر اپوزیشن نے تحریک چلائی تو مفتی محمود اس کے روح رواں تھے اور اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات میں بھی حصہ لیا تاہم جب اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے تو اسی دن فوج کے سربراہ جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔
تب مفتی محمود کی جمعیت علمائے اسلام نے ضیاالحق کی حمایت سے انکار کیا اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کی بنیاد رکھی۔ اس اتحاد کی تشکیل ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسی دوران 1980 میں مفتی محمود کی وفات ہوگئی۔ لیکن پھر بھی ان کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن ایم آر ڈی کے اجلاس میں شریک ہوئے اور اس کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
حامد میر کے مطابق جے یو آئی کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی کی ایک تاریخ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی ایم آر ڈی اجلاس میں شرکت کا بدلہ جنرل ضیا الحق نے جے یو آئی کو تقسیم کر کے دیا اور نتیجے میں عبداللہ درخواستی کی سربراہی میں ایک اور دھڑا بن گیا۔ گو کہ سمجھا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا افغانستان کے مجاہدین میں اثر ورسوخ تھا تاہم روس کے خلاف لڑائی میں مولانا فضل الرحمن گروپ نے کھل کر ضیا الحق کا ساتھ نہیں دیا اور خود کو زیادہ تر روس مخالف جنگ سے الگ ہی رکھا۔ مبصرین کے مطابق اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ تاریخی طور پر مولانا عبیداللہ سندھی کے دور سے لے کر جمعیت علمائے اسلام سوشلزم کی حامی اور کیپٹلزم کے خلاف رہی اور خود کو امریکی حمایت سے دور رکھا۔ تاہم بعد میں وکی لیکس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ مولانا فضل الرحمن نے 2007 میں پاکستان میں اس وقت کی امریکی سفیر اینی پیٹرسن سے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ملاقات میں ملک کا وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ کو سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہیں ڈالنے چاہئیں جس سے ان کی مراد پیپلزپارٹی کے لیے مبینہ امریکی حمایت تھی۔ ان کے مطابق جب 1988 میں پیپلز پارٹی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا تو مولانا فضل الرحمن نے اس کا حصہ بننے سے انکار کر دیا مگر پارٹی کا دوسرا دھڑا مولانا سمیع الحق کی قیادت میں نہ صرف اس کا حصہ بنا بلکہ مولانا سمیع الحق اتحاد کے نائب صدر بن گئے۔ اسی طرح جب 1988 کے انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں اور انہوں نے غلام اسحق خان کو صدارت کا امیدوار نامزد کیا تو مولانا فضل الرحمن نے ان سے اختلاف کیا کہ غلام اسحق اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے ہیں اس لیے انہوں نے بزرگ جمہوریت پسند سیاستدان نوبزادہ نصراللہ کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا۔
1993 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور جے یو آئی اتحادی بن گئے اور مولانا فضل الرحمن کو خارجہ امور کمیٹی کا چئیرمین بنا دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو رہی تھی اور ایک ہی مکتبہ فکر سے تعلق کی وجہ سے فضل الرحمن کا اثر و رسوخ پاکستانی حکومت کے لیے خاصا مفید ہو سکتا تھا۔ فضل الرحمن کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو اس وقت ٹھیس پہنچی تھی جب ان کے بنائے گئے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے 2002 کے انتخابات کے بعد جنرل مشرف کو لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے غیر آئینی اقدامات پر قانونی تحفظ فراہم کیا۔ اسی دوران ایم ایم اے نے صوبہ سرحد میں حکومت بنائی اور جے یو آئی کے ایک اور رہنما اکرم درانی صوبے کے وزیراعلیٰ بن گئے ۔
یہ حقیقی معنوں میں مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا عروج تھا جب ایک صوبے میں ان کی حکومت تھی اور صوبہ بلوچستان میں وہ مخلوط حکومت کا حصہ تھے۔ وفاق میں ان کی حمایت کے بغیر کوئی آئینی ترمیم ممکن نہیں تھی اور جنرل مشرف اور ان کے ساتھی ان کے ساتھ ہر وقت مذاکرات کے متمنی رہتے تھے۔
2008 کے انتخابات کے بعد گو کہ ان کی جماعت کو ویسی اکثریت نہ مل سکی مگر پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو مولانا فضل الرحمن حکومت کے ایوانوں میں اکثر نظر آئے۔ اپوزیشن اتحاد کے سربراہ کے طور پر اس وقت مولانا فضل الرحمن سابق وزیراعظم نواز شریف کے سب سے بڑی اتحادی ہیں تاہم 1997 کے انتخابات میں شکست کے بعد مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف حکومت کے خلاف تحریک بھی چلائی تھی۔ حامد میر کے مطابق وہ تحریک بھی اسی طرح تھی جس طرح آج کی حکومت کے خلاف تحریک ہے۔ حتیٰ کہ ستمبر 1999 کو نواز شریف کی حکومت نے مولانا فضل الرحمن کو ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار بھی کر لیا تھا تاہم اسی سال اکتوبر میں ملک میں ایک بار پھر مارشل لا لگ گیا اور نواز شریف حکومت کو گھر بھیج دیا گیا۔
آج اپوزیشن جماعتیں جس طرح حکومت کے خلاف استعفوں کے آپشن پر غور کر رہی ہیں مشرف دور حکومت کے اختتام کے قریب اس وقت کی اپوزیشن نے بھی اس آپشن پر غور کیا تھا تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت جے یو آئی کے وزیراعلیI اکرم درانی نے کہا تھا کہ باقی جگہوں سے اپوزیشن چاہے استعفے دے دے مگر وہ اپنی صوبائی حکومت برقرار رکھنا چاہیں گے۔ آج اسی دوراہے پر پاکستان پیپلز پارٹی کھڑی ہے جسے استعفوں کی صورت میں سندھ حکومت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔
اس سلسلے میں جب جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل غفور حیدری سے پوچھا کہ وہ نواز شریف کی مخالفت سے حمایت تک کیسے آ گئے تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ہر حکومت کے اچھے کام کا ساتھ دیا اور برے کام پر تنقید کی چاہے وہ پیپلزپارٹی کی حکومت ہو یا مسلم لیگ نواز کی ماضی کی حکومتیں۔ یہ سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عمران خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ٹٹو کا کردار ادا کر رہا ہے اور اپوزیشن اتحاد کا بنیادی مقصد پاکستانی سیاست سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کا خاتمہ کرنا ہے۔ لہذا اپوزیشن کی تحریک عمران حکومت اور اور اسٹبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
