کیا مولانا فضل کے خلاف اسٹیبلشمنٹ سپانسرڈ بغاوت کامیاب ہوگی؟


جمیعت علمائے اسلام کے دو سینیئر رہنماؤں مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد کی جانب سے پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر کھلے عام تنقید اور پالیسی سے اعلانیہ اختلاف نے اس انتہائی منظم جماعت کو ایک بحرانی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔ تاہم مولانا کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندررخنہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش کے پیچھے پاکستانی فوجی اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اور مولانا شیرانی اسی کے ایما پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف مولانا فضل الرحمن کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی کوشش کتنی کامیاب رہتی ہے؟
سب جانتے ہیں کہ 2018 کے الیکشن کے بعد سے مولانا فضل الرحمان کی سیاست کا بنیادی مقصد فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سلیکٹڈ عمران خان حکومت کا خاتمہ رہا ہے۔ انتخابات کے بعد ہی مولانا نے اعلان جنگ کر دیا تھا لیکن انہیں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاسی چھتری کی ضرورت تھی۔ پھر نواز شریف اور آصف زرداری نیب مقدمات کے گرداب میں پھنسے ہوئے تھے۔ ہچکچاہٹ، فیصلہ سازی میں کمی، ماضی کی تلخیاں، ناراضگیاں اور باہمی عدم اعتماد بھی حکومت مخالف اتحاد کی تشکیل میں رکاوٹ بنا رہا۔ مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیے کے مابین رسہ کشی سے تھک ہار کر، بالآخر نواز شریف اور آصف زرداری راضی ہو گئے اور حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم تشکیل پایا۔ یہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے لئے ایک بہت مشکل فیصلہ تھا کیونکہ اس لڑائی میں انہوں نے ملک کی طاقتور ’اسٹیبلشمنٹ‘ کو فریق بنایا ہے۔
اب نواز شریف اور زرداری خود تحریک کے میدان سیاست میں ورچوئل موجودگی سے اور پس پردہ بڑے فیصلوں میں حصہ لے رہے ہیں، تاہم ان کے جانشین مریم اور بلاول اتحاد کا چہرہ نظر آتے ہیں اور مولانا اتحاد کے نگراں اور سربراہ۔ لیکن اب جبکہ حکومت مخالف اتحاد کی تحریک حتمی مراحل میں داخل ہو رہی ہے تو پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل کو اپنی جماعت کے کچھ پرانے ساتھیوں کی جانب سے ایک سپانسرڈ بغاوت کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ بلوچستان سے مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد اور خیبر پختونخواہ سے مولانا گل نصیبب نے مولانا کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ 
یہ دونوں صوبے، جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں، ستر کی دہائی سے مولانا کی جے یو آئی کا سیاسی اور مذہبی گڑھ رہے ہیں۔ اور مولانا کے لیے بلوچستان اور خیبر پختوانخواہ میں اپنی گرفت مضبوط رکھنا ہمیشہ سے ہی اہم رہا ہے، کیونکہ اپنی اسی طاقت کی بنیاد پر وہ نہ صرف عالمی طاقتوں بشمول امریکا، چین، مسلم ریاستوں بالخصوص سعودی عرب اور خود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے سکیورٹی عدسوں کا محور رہے ہیں۔ مولانا پر جماعت میں موروثی سیاست، بادشاہت قائم کرنے اور نظریات سے انحراف جیسے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ان شخصیات کی ’بغاوت‘ اور الزامات، مولانا کے لیے ایک ذہنی اور سیاسی الجھن تو کھڑی کر سکتے ہیں، حکومتی شخصیات کو مولانا پر سیاسی تیر چلانے کا موقع بھی مل سکتا ہے لیکن مولانا اور ان کی جماعت کے لیے سیاسی بحران پیدا کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ مولانا کی پارٹی پر گرفت بہت مضبوط ہے۔ 
مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد اور ان رہنماؤں نے مولانا کی قیادت کو ماضی میں چیلنج کیا تھا لیکن بقول ذرائع مولانا نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پارٹی انتخابات میں انہیں شکست دلوائی اور بتدریج سائیڈ لائن کیا۔ مولانا کے ساتھی اس ‘بغاوت کو سازش‘ اور جماعتوں کی توڑ پھوڑ کی سیاسی تاریخ کے داغدار آئینے میں عکس تلاش کرتے نظر آرہے ہیں۔
دوسری طرف مولانا شیرانی اور ان کے حمایتی ارکان یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن بڑے فیصلے کرتے وقت پارٹی سے مشاورت نہیں کرتے اور اپنی من مانی کرتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے دستور کے مطابق پارٹی کے تین اہم ادارے ہیں۔ مجلس عمومی، مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ۔ اس میں سب سے اہم مجلس عمومی ہے جو تحصیل سے لے کر مرکز تک نمائندگی رکھتی ہے اور پارٹی قیادت کا الیکٹورل کالج بھی ہے۔ مجلس شوریٰ ہر سطح کی لیڈر کی کچن کیبنٹ ہوتی ہے جس کا انتخاب بھی مجلس عمومی سے ہی کیا جاتا ہے اس کی زیادہ سے زیادہ تعداد 45 ہو سکتی ہے۔ جبکہ مجلس عاملہ ہر سطح پر پارٹی کے عہدیداران پر مشتمل ہوتی ہے۔ پارٹی میں پہلے ہر تین سال بعد الیکشن ہوتے تھے جبکہ 2015 میں دستوری ترمیم کے ذریعے انتخابات کا درمیانی وقفہ پانچ سال کر دیا گیا۔لیکن مولانا شیرانی کے حامی پارٹی رکن اسماعیل حسینی کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن پارٹی انتخابات میں اپنی مرضی کے مجلس عمومی ارکان، الیکشن کمشنر چن کر اور مخالفین کو ان کے ذریعے راستے سے ہٹا کر 1995 سے مسلسل پارٹی پر اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے 1995 کے جماعتی انتخابات میں سینیئر رہنما حافظ حسین احمد کا راستہ روکا اور انہیں بلوچستان سے پارٹی کی بنیادی رکنیت ہی حاصل نہیں کرنے دی جس کی وجہ سے وہ پارٹی کے الیکٹورل کالج یعنی مجلس عمومی کے رکن ہی نہ بن سکے۔ اسی طرح ان کے مطابق 1995 میں پارٹی کے سینیئر ترین رہنما مولانا شیرانی امارت کے مضبوط امیداوار تھے اور ان کی بلوچستان میں مضبوط سیاسی حثیت کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن ان سے خائف تھے اس لیے انہوں نے پارٹی اجلاس میں دلچسپ طریقے سے ان کا راستہ روکا۔ جمیعت کے دستور کے مطابق کوئی شخص خود اپنے آپ کو صدارت کے لیے نامزد نہیں کر سکتا اس لیے اجلاس کے دوران دوسرے کسی دوسرے شخص کو آپ کا نام پیش کرنا ہوتا ہے جس کی دو مزید ارکان تائید کرتے ہیں تو آپ عہدے کے امیدوار بن جاتے ہیں۔ اسماعیل حسینی کے مطابق اس وقت مولانا فضل الرحمن نے اپنے ایک حامی رکن سے کہا کہ وہ مولانا شیرانی کا نام صدارت کے لیے پیش کریں۔ چنانچہ ان کا نام پیش کر دیا گیا ۔ تاہم کچھ دیر بعد نام پیش کرنے والے نے نام واپس لے لیا اور پارٹی دستور کے مطابق جس امیدوار کا نام ایک بار واپس لے لیا جائے اس کا نام دوبارہ امیدوار کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یوں مولانا فضل الرحمن ہی جیت گئے۔
مولانا کے مخالفین کہتے ہیں کہ انکی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان کی پارٹی بلوچستان میں حکومت سے باہر ہوگئی جبکہ 1970 سے لے کر 2013 تک یہ جماعت بلوچستان میں زیادہ تر حکومت میں ہی رہی ہے۔ لیکن ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے پارٹی کے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ جتنی جمہوریت جے یو آئی میں ہے وہ جماعت اسلامی کے علاوہ کسی جماعت میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے والے پارٹی کا نظم نہیں سمجھتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پارٹی کی باقاعدہ رکن سازی ہوتی ہے پھر وہ الیکشن کے ذریعے ہر سطح کی مجلس عمومی بنتی ہے۔ تحصیل کی سطح کی مجلس عمومی ضلع کی سطح کے لیے مجلس عمومی کے ارکان منتخب کرتی ہے پھر اسی طرح مرکز تک مجالس عمومی بنتی ہیں جو کہ بعد میں مرکزی عہدیداران کا انتخاب کرتی ہیں۔ عبدالغٖفور حیدری کے مطابق مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے جبکہ ہر مرکزی رکن تین ہزار ابتدائی ارکان کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس طرح جماعت کے رجسٹرڈ اراکین کی تعداد 30 لاکھ بنتی ہے۔ اس طرح کے الیکشن باقی جماعتوں میں نہیں ہوتے۔
سینیئر صحافی حامد میر بھی اتفاق کرتے ہیں کہ جے یو آئی کے انتخابات میں دھاندلی نہیں ہو سکتی کیونکہ اسکے انتخابات کا نظام کافی شفاف ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پارٹی پر ایک تنقید تواتر سے ہوتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بھائی عطا الرحمن پارٹی کے صوبائی سربراہ ہیں ان کے بیٹے اسد محمود رکن اسمبلی ہیں اور رشتہ دار اہم عہدوں پر ہیں تو جس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز پر ایک خاندان کی اجارہ داری ہے اس طرح اس جماعت پر بھی ایک خاندان حاوی ہے لیکن عبدالغفور حیدری کہتے ہیں کہ ایسا بالکل نہیں ہے، اصل بات صلاحیت کی ہوتی ہے۔ ’موروثی سیاست کی رٹ تو ہر کوئی لگاتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ ہر پارٹی میں باصلاحیت افراد کو آگے آنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمن اس وقت تمام جماعتوں کی قیادت کر رہے ہیں ایسی صلاحیت ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ کسی کا بیٹا اگر باصلاحیت ہے تو وہ کیوں سیاست میں نہ آئے جس طرح بلاول بھٹو صلاحیت کے ساتھ اپنی پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں اس میں کیا حرج ہے۔
اس سوال پر کہ پارٹی کے اندر سے مولانا فضل الرحمن کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، اب بھی جائیں گے مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جماعت اسلامی میں بھی تقسیم ہوئی۔ پیپلزپارٹی میں بھی اختلافات سامنے آئے۔ جے یو آئی میں بھی سمیع الحق دھڑا الگ ہو گیا مگر جماعت قائم رہی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء، جنرل مشرف کے ادوار ہوں یا موجودہ دور، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں دراڑیں ڈالنے کی کوششیں کی گئیں لیکن ناکام ہی رہیں۔ بینظیر بھٹو کے انکل کھر، جتوئی یا ممتاز بھٹو ہوں، سب سیاسی بدنامی اور گمنامی کا شکار ہی رہے ہیں۔ ان کی مثال بھی پرندوں کے غول سے جدا ہونے والے پرندے کی طرح ہوتی ہے۔ لہذا مولانا فضل الرحمن کے خلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سپانسرڈ بغاوت بھی ناکامی سے دوچار ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button