مولانا فضل الرحمان اپوزیشن اتحاد سے الگ، نیا اتحاد بنا لیا

مولانا فضل الرحمن کی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے ناراضگی میں شدت آ گئی ہے جس کے بعد سربراہ جے یو آئی نے بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اوراے این پی کے ساتھ مشاورتی عمل ختم کرتے ہوئےعلیحدہ اتحاد بنالیا ہے
جس کے تحت کراچی سے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔
پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی مفاہمتی پرواز کو دیکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اتحاد سے عملاً علیحدگی اختیار کرلی.جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پیپلزپارٹی، ن لیگ، اے این پی کےساتھ مشاورتی عمل ختم کر کے چھ جماعتی اپوزیشن الائنس بنا لیا ہے۔ الائنس میں جے یوآئی، نیشنل پارٹی ،جمیعت اہلحدیث، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، قومی وطن پارٹی اور جمیعت علمائے پاکستان شامل ہیں۔
چھ جماعتی اپوزیشن الائنس نے وسط فروری سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 23 فروری کو کراچی سے مولانا فضل الرحمن حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا آغاز کرینگے۔ 23 فروری کو کراچی میں چھ اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ جلسہ ہوگا، 13مارچ کو مینار پاکستان لاہور میں جےیوآئی کےتحت جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمن چھ فروری کو خصوصی دورے پر کراچی پہنچیں گے۔ جہاں علما اور مدارس کے منتظمین سےملاقات کرینگے۔
یاد رہے کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کرنے پر سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان بڑی اپویشن جماعتوں سے سخت نالاں ہیں جس کا وہ مختلف موقع پر برملا اظہار بھی کر چکے ہیں
