مولانا فضل نے حافظ حسین احمد کی چھٹی کیوں کروائی؟

جمعیت علماء اسلام ف کے سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد کو ہٹائے جانے کی وجہ صرف ان کی نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی مخالفت ہی نہیں بلکہ جماعت کی اندرون خانہ سیاست بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حافظ حسین احمد پارٹی کے سیکریٹری جنرل بننے کے خواہش مند تھے جبکہ مولانا فضل الرحمن کو خدشہ تھا کہ وہ بلوچستان میں اپنے سابق حریف مولانا شیرانی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے پارٹی پر قبضہ کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے چند روز قبل حافظ حسین نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو آستین کا سانپ اور سابق ڈکٹیٹر ضیاالحق کا بیٹا قررا دیا تھا۔ ان کا کہنا تھاکہ میں اس ملک کا رہنے والا ہوں، یہ ملک ہے تو ہم ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک ریڈ لائن ہوتی ہے، ایک حد ہوتی ہے اور نواز شریف نے وہ حد کراس کرلی۔ مولانا دراصل نواز شریف کے فوج مخالف بیانیہ پر ایک ٹی وی پروگرام میں تبصرہ کر رہے تھے۔
اس بیان کے بعد انہیں پارٹی عہدے سے برطرف کرکے اسلم غوری کو مرکزی سیکرٹری اطلاعات لگا دیا ہے۔
بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی رشید بلوچ کے مطابق پی ڈی ایم کےجلسوں میں سخت موقف اپنانے والی دو جماعتوں جمعیت علماء اسلام ف اور مسلم لیگ ن کے اندر زلزلے کے چھوٹے چھوٹے جھٹکے صوبہ بلوچستان سے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ن لیگ بلوچستان کی تقریباً نصف قیادت پہلے سے ہی صوبائی صدر کی قیادت میں اپنی جماعت سے علیحدگی اختیار کر چکی ہے،اب جمعیت علما اسلام کے مرکزی قیادت نے اپنے سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد کو انکے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ حافظ حسین احمد کو انکے عہدے سے ہٹائے جانےکی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انہوں نے ایک ذمہ دار پوزیشن پر ہوتے ہوئے جماعت کی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔ حافظ حسین احمد کو پاکستانی سیاست میں اپنے مخصوص انداز بیان سے جانا جاتا ہے۔ گزشتہ 20 سال سے حافظ حسین احمد کو انکی جماعت میں کوئی بڑی زمہ داری نہیں دی گئی تھی۔
رشید بلوچ کہتے ہیں کہ حافظ حسین احمد کو عملا غیر فعال کرنے میں جمعیت علماء اسلام کے سابق صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی اور جمعیت کے طویل عرصہ سیکرٹری جنرل بننے والے مولانا عبدالغفور حیدری کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ واضح رہے مولانا محمد خان شیرانی دو عشرے تک جمعیت کے بلوچستان میں بلا شرکت غیرے طاقت ور امیر رہ چکے ہیں ، انکے دور میں جمعیت بلوچستان میں ایک مضبوط پارلیمانی جماعت کی صورت میں ابھری تھی ،خصوصا جنرل پرویز مشرف کی دور حکمرانی میں جمعیت کو بلوچستان میں بہت زیادہ سیاسی قوت ملی تھی۔طالبان سے متعلق اپنی جماعت سے کھل کر اختلاف کے باوجود مولانا شیرانی کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مولانا شیرانی نے مرکزی قیادت کیلئے مولانا فضل الرحمان کے خلاف الیکشن لڑا تھا ،جماعتی الیکشن میں مولانا فضل الرحمان تو جیت گئے لیکن مولانا شیرانی نے الزام لگایا تھا کہ انکو مولانا فضل الرحمان کی حامی عمومی شوری نے دھاندلی سے ہرا دیا ہے ،یہ پہلا موقع تھا مولانا فضل الرحمان کو اپنی جماعت کے اندر چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔
جماعت کے اندر حافظ حسین احمد کو زیادہ سنجیدہ اور معاملہ فہم مانا جاتا تھا۔ وہ 1988سے 1990اسکے بعد مشرف دور میں 2002 سے 2007 تک رکن قوی اسمبلی رہ چکے ہیں جبکہ 1991سے 1994 تک سینیٹ کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ مولانا شیرانی کی صوبائی قیادت سنبھالنے اور حیدری صاحب کی شیرانی سے قربت کے بعد آہستہ آہستہ حافظ حسین احمد کھڈے لائن ہوتے گئے تاآنکہ ایک مضبوط لابی نے انتھک کوشش کے بعد مولانا شیرانی کو جماعت کے صوبائی سربراہی سے ہٹانے میں کامیابی حاصل کر لی،جمعیت کی نئی صوبائی قیادت وجود میں آنے اور مولانا شیرانی کے غیر فعال ہونے کے بعد حافظ حسین احمد کو دوبارہ اہمیت بلنا شروع ہوگئی اسکے بعد انہیں جماعت میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی اہم زمہ دار سونپ دی گئی۔حالیہ پی ڈی ایم کے کوئٹہ جلسے کے بعد حافظ حسین احمد نے متعدد بار اپنے ٹی وی ٹاک شوز میں نہ صرف فوج مخلاف بیانیے اور نواز شریف کو رگیدا بلکہ اپنے پارٹی قائد کو بھی نہ بخشا۔ حافظ حسین احمد نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ اداروں سے متعلق مولانا فضل الرحمان کابیانیہ جماعت کا نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمان کا اپنا زاتی موقف ہے۔
رشید بلوچ کا کہنا ہے کہ ایسی سخت بیان بازی کے بعد حافظ حسین احمد کے خلاف انضباطی کاروئی غیر متوقع نہ تھی۔ حافظ حسین احمد کے خلاف جمعیت اگر یہ کاروئی نہ کرتی تو یقیناً پی ڈی ایم میں موجود جماعتوں کے سامنے مولانا فضل الرحمان کا کردار مشکوک سمجھا جاتا لہذا غیر ذمہ دارانہ بیان بازی پر کارروائی جماعت کیلئے مجبوری بن گئی تھی۔ حافظ حسین احمد کے کلاف جمعیت نے کارروائی کرکے پی ڈی ایم میں موجود دیگر پارٹیوں کے سامنے اپنی پوزیشن کلیئر کردی ہے۔ حافظ حسین احمد کی اپنے قیادت سے ناراضگی آج کی نہیں ہے،بلکہ دل بھاری ہونے کا یہ قصہ کافی پرانا ہے ،حالیہ دنوں میں حافظ حسین احمد کی والدہ انتقال کر گئیں ،مرکزی قیادت کی جانب سے حافظ حسین احمد سے تعزیت کرنے کیلئے کوئی نہیں آیا ،جب کوئٹہ میں پی ڈی ایم کا جلسہ ہوا تھا مولانا فضل الرحمان سمیت جمعیت کی ساری قیادت کوئٹہ میں موجود ہونے کے باوجود کسی نے حافظ حسین احمد کےگھر جاکر فاتحہ خوانی کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی ، جلسے کے دن حافظ حسین احمد کو بتا یا گیا کہ مولانا فضل الرحمان انکے گھر آرہے ہیں ،روٹ پر سیکورٹی لگا دی گئی ،حافظ حسین احمد انتظار کرتے رہے لیکن مولانا بروری روڈ تشریف نہیں لے جاسکے۔ حافظ حسین احمد کا خیال ہے کہ مولانا عبدالغفور نے انکے اور مولانا فضل الرحمان کے بیچ دیوار حائل کردیا ہے۔ مولانا عبدالغفور کو خوف ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور حافظ حسین احمد کے درمیان نزدیکیاں انکے کیلئے جماعت کے اندر مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ جنرل سیکرٹری کا عہدہ حافظ حسین احمد کے پاس جا سکتا ہے ،جماعت میں نچلی سطح پر ایک بڑی اکثریت کے اندرمولانا عبدالغفور سے متعلق اچھی رائے نہیں پائی جاتی ہے ،کارکنوں کے خیال میں بڑی مدت سے مولاناعبدالغفور جماعت کے دوسرے بڑے عہدے پر فائز ہوتے رہے ہیں اب انکی جگہ جنرل سیکرٹری کا عہدہ حافظ حسین احمد کو ملنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان اور حافظ حسین احمد کے درمیان تعلقات میں دراڑ کا ایک بڑا سبب مولانا شیرانی کو بھی تصور کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانافضل الرحمان کو بتا گیا ہے کہ حافظ حسین احمد اور مولانا شیرانی کے درمیان خفیہ مزاکرات کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ مولانا شیرانی چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں حافظ حسین احمد کے ساتھ مل کر ایک مضبوط گروپ تشکیل دیا جائے ،صوبے کے عمومی شوری میں اپنی گرفت مستحکم کرکے بلوچستان کی قیادت اپنے ہاتھ میں لیا جائے ،ظاہر ہے مرکزی قیادت سے بالا بالا صوبائی سطح پر ایسا گٹھ جوڑ مرکزی قیادت کیلئے قابل قبول نہیں ،ایسی بہت ساری وجوہات نے مولانا فضل الرحمان اور حافظ حسین احمد کے تعلقات میں شگاف ڈال دیا ہے لیکن غالب گمان یہی ہے کہ حافظ حسین احمد سابق لیگی رہنما جنرل ر عبدالقادر بلوچ کی طرح اپنی جماعت سے مستعفی نہیں ہوں گے۔
رشید بلوچ کے مطابق حافظ حسین احمد اور مرکزی قیادت کے درمیان جاری اس کشمکش میں مولانا محمد خان شیرانی خاموش بیٹھنے والے نہیں ہیں ،لوہا گرم ہے وہ اپنی وار کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے ۔ سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے اندر بھی مولانا شیرانی کے ہم خیال لوگ موجود ہیں۔ جمعیت میں شامل دیگر ناراض عناصر مولانا شیرانی اور حافظ حسین احمد کے گرد جمع ہوکر مرکزی قیادت کو کھلا چیلنج دے سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم سے متعلق مولانا محمد خان شیرانی نے بھی وہی موقف اپنایا ہے جو حافظ حسین احمد کا ہے،لیکن چونکہ مولانا شیرانی کے بیان کو میڈیا کوئی خاص اہمیت نہیں ملی اس لئے مرکزی قیادت کی نگاہ مولانا شیرانی کو انکی جماعت کی طرف سے کوئی شوکاز نہیں دیا گیا۔
