مولانا ہدایت کی گرفتاری سے گوادر میں حالات خراب ہونے کا خدشہ

گوادر میں حق دو تحریک کے روح رواں مولانا ہدایت اللہ کی گرفتاری کے بعد اب شہر میں ایک مرتبہ پھر حالات کشیدہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ گزشتہ ماہ بلوچستان کے بندرگاہی شہر گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے دو مہینے تک جاری رہنے والے دھرنے اور احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنما اور جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمٰن کو 13 جنوری کو بلوچستان پولیس نے تب گرفتار کیا جب وہ عدالت میں خود گرفتاری پیش کرنے کے لئے داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔  واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پولیس نے ’حق دو تحریک‘ کے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے رات گئے کارروائی کرتے ہوئے تحریک کے سینئر رہنماؤں سمیت درجنوں کارکنان اور مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا، تاہم تحریک کی قیادت کرنے والے مولانا ہدایت الرحمٰن کو تب گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

مولانا ہدایت الرحمٰن نے چند روز قبل گرفتاری دینے کا اعلان کیا تھا اور وہ 13 جنوری کی صبح گرفتاری دینے کے لیے عدالت پہنچ گئے جہاں پولیس نے عدالت کے احاطے سے انہیں گرفتار کرلیا۔ گوادر پولیس نے حق دو تحریک کے رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن کے خلاف قتل، اقدام قتل، لوگوں کو تشدد کے لیے اکسانے اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ دوسری جانب، بلوچستان بار کونسل نے گوادر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے احاطے سے مولانا ہدایت رحمٰن بلوچ کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وکلا باڈی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ حق دو تحریک کے رہنما قانونی معاونت کے لیے وکلا کے ہمراہ موجود تھے اور عبوری ضمانت کے لیے عدالت کے روبرو پیش ہونا چاہتے تھے کہ گوادر کے ڈی پی او نے عدالت کے احترام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

حق دو تحریک کے ترجمان نے مولانا کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر عبوری ضمانت حاصل کرے، اس لیے ڈی پی او گوادر کا یہ اقدام خلاف قانون اور عدلیہ، وکلا کی آئینی و قانونی ذمہ داریوں میں رکاوٹ پیدا کرنے کی مترادف ہے۔ ترجمان نے کہا کہ گوادر میں اس سے قبل بھی انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست زیر سماعت ہے، آج کے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے گوادر پولیس لوگوں کی جان و مال کے تحفظ میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔ بلوچستان بار کونسل نے بھی مولانا ہدایت اللہ کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوادر میں پولیس نے اپنا قانون اور عدالت نظام قائم کیا ہوا ہے جس کے تحت جب وہ چاہیے لوگوں کو گرفتار کرے اور جیل میں ڈالے۔ بار کونسل نے کہا کہ گوادر کے ڈی پی او کی جانب سے عدالت کے احاطے سے مولانا ہدایت رحمٰن بلوچ کو گرفتار کرنے کے خلاف 14 جنوری کو بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ چیف سیکریٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس سے فوری طور پر پولیس کے اقدام کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیاہے۔

یاد رہے کہ گوادر میں گزشتہ کئی ماہ سے پُرامن احتجاج جاری تھا جس میں غیر قانونی مچھلی کے شکارکو ختم کرنے سمیت پانی، بجلی اور نوکریاں فراہم کرنے کے مطالبات کیے گئے تھے۔ گزشتہ ماہ صوبائی حکومت نے حق دو تحریک کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن مظاہرے کے دوران نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد دسمبر کے آخر میں صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی تھی۔ پولیس اہلکار کی ہلاکت سے ایک روز قبل پولیس کے مظاہرین سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد حق دو تحریک کے مظاہرین نے پولیس کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ جب صورتحال سنگین ہوگئی تو حکومت نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کردی جس کے تحت شہر میں پانچ سے زائد مجمع پر پابندی عائد کی گئی تھی ، اسی دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور 100 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔ حق دو تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مولانا ہدایت اللہ کی گرفتاری سے گوادر کے عوام میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے جاری جدوجہد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوگا۔

Back to top button