مونس کے خلاف پنڈورا پیپرز کی بنیاد پر بھی تحقیقات کا فیصلہ

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے اتحادی اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے بیٹے چوہدری مونس الٰہی کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے علاوہ پنڈورا پیپرز کی بنیاد پر بھی تفتیش شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقات کا فوکس مونس الٰہی کی جانب سے بیرون ملک بھاری رقوم کی منتقلی اور مہنگی ترین جائیدادیں ہیں۔ ایف آئی اے کے ہیڈکوارٹر نے لاہور آفس سے مونس الٰہی کے خلاف الزامات کی تفیصلات طلب کر لی ہیں اور تمام تر ریکارڈ اور شواہد جمع کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات اعلیٰ سطح کی ٹیم کرے گی جب کہ رقم بیرون ملک بھجوانے والوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مونس الٰہی نے اپنے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات کا جواب بسم اللہ سے دیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ مونس الٰہی کے خلاف منی لانڈرنگ اور بیرون ملک جائیدادیں بنانے کے الزامات کے علاوہ پنڈورہ پیپرز کی بنیاد پر بھی تحقیقات شروع کی جارہی ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پنڈورہ پیپرز مونس الہٰی کی بیرون ملک ایک آف شور کمپنی اور اثاثوں کے دستاویزی ثبوت سامنے لایا تھا۔ یاد رہے کہ پینڈورا پیپرز نے کچھ عرصہ پہلے پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں اور انکے بیرون ملک اثاثوں کے بارے جو پینڈورا باکس کھولا تھا اس میں مونس الٰہی کا نام آیا تھا لیکن انہوں نے تمام تر الزامات کی تردید کر دی تھی۔
تاہم بی بی سی نے ان الزامات کے دستاویزی ثبوت حاصل کر لیے تھےے جن سے پتہ چلا تھا کہ طاقتور لوگ کیسے اپنی دولت بیرون ملک جائیدادوں اور آف شور کمپنیوں میں چھپاتے ہیں۔ پینڈورا پیپرز میں 700 بااثر پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ تب کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اپنی قریبی حلقے میں شامل افراد سمیت اس لسٹ میں شامل ہر شخص کی تفتیش کریں گے۔ لیکن منہ سلاہی سمیت کسی شخص کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہوئی تھین کیونکہ وہ عمران کے اتحادی تھے۔ تب عمران خان نے وزیر اعظم انسپیکشن ٹیم کے سربراہ احمد یار ہراج کی قیادت میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی جس نے پینڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں کے بارے میں تفتیش کرنا تھی۔ اس خصوصی ٹیم میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور آئی ایس آئی کے حکام شامل کیے گے تھے جنہوں نے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طور پر کمائی گئی دولت اور بنائے گے اثاثوں کی تحقیقات کرنا تھیں۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب یہ کام شہباز شریف حکومت نے اپنے ذمے لے لیا ہے اور سب سے پہلے مونس الٰہی کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جو پنجاب میں حمزہ کی حکومت گرانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
مونس الہی کا نام پینڈورا پیپرز میں کئی بار آیا تھا لیکن وہ دو ٹوک انداز میں انکار کرتے رہے کہ انھوں نے کچھ غلط کیا ہے۔ پنڈورا پیپرز کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بی بی سی نے ایک خصوصی تحقیق کے بعد بتایا تھا کہ پینڈورا پیپرز کی فائلوں تک رسائی کے دوران جو کچھ نظر آیا وہ مونس کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا اور انکے کئی جھوٹ ثابت ہو گئے تھے۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل کنسورشیم آف جرنلسٹس یا آئی سی آئی جے کو لیک ہونے والی 12 ملین دستاویزات ملی تھیں جس کے بعد دنیا کی تاریخ کی ایک بڑی انویسٹیگیشن ہوئی۔ آئی سی آئی جے نے بی بی سی کو مونس الہی سے متعلق دستاویزات کو پہلی بار پبلک کرنے کی خصوصی اجازت دی تھی۔
پینڈورا پیپرز میں خود پر لگنے والے الزامات کے بعد مونس الہی نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’میری کوئی آف شور کمپنی نہیں اور نہ ہی میرے ایسے اثاثے ہیں جو میں نے ڈکلیئر نہیں کیے۔ میں اس سے متضاد تمام دعوؤں کو مسترد کرتا ہوں۔‘ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کو امید تھی کہ یہ ٹویٹ ان پر لگنے والے اس الزام کو ختم کر دے گی کہ وہ ایک ایسی ڈیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خفیہ آف شور ٹرسٹ میں رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے جو ایک کرپٹ بزنس ڈیل تھی۔
بی بی سی نے اپنی تحقیقات کے بعد کہا تھا کہ مونس الٰہی کہتے ہیں ان کی کوئی آف شور کمپنی نہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ انکی کبھی کوئی ایسی کمپنی نہیں رہی۔ پہلی دستاویز جس کا بی بی سی نے معائنہ کیا وہ 7 جنوری 2016 کی تھی۔ یہ مونس الہی کی سنگاپور کی ایک ویلتھ مینجمنٹ فرم کے ساتھ آف شور ٹرسٹ قائم کرنے کی خواہش کے بارے میں میٹنگ کا میمو ہے۔ لیک ہونے والے میمو سے اندازہ ہوتا ہے کہ مونس الہی پاکستان میں زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والے 33 ملین ڈالر سے ’ونتھروپ‘ کے نام سے خفیہ آف شور ٹرسٹ قائم کرنا چاہتے تھے۔ پلان یہ تھا کہ ونتھروپ رحیم یار خان شوگر ملز میں 24 فیصد حصص خریدے گی جس کے بارے میں مونس الہی نے ویلتھ مینیجمنٹ کمپنی کو بتایا تھا کہ وہ اس کمپنی میں پراکسی کے ذریعے 22 فیصد حصص رکھتے ہیں۔ اس دستاویز سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مونس الہی کی مالیت 20 ملین ڈالر تھی جس میں سے صرف 6 ملین ڈالر اس وقت پاکستان میں تھے۔
بی بی سی نے مونس الہی سے جاننے کی کوشش کی تھی کہ وہ اپنا کیش آف شور ٹرسٹ میں کیوں چھپانا چاہتے تھے لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا تھا۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ انھوں نے رحیم یار خان شوگر ملز میں اپنے شیئر گمنام کیوں رکھے لیکن اس کا بھی جواب نہیں ملا۔ بی بی سی نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ وہ براہ راست رحیم یار خان شوگر ملز میں مزید شیئر خریدنے کے بجائے اپنے ونتھروپ ٹرسٹ کے ذریعے کیوں خریدنا چاہتے تھے لیکن انھوں نے اس کا بھی جواب نہیں دیا۔ دوسری دستاویز بھی ایک اور میمو ہے اور یہ ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کے ایک اہلکار اور مونس الہی کے درمیان 29 اگست 2017 کی فون کال کے بارے میں ہے۔ اس دستاویز میں لکھا ہے کہ مونس الہی ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے بنائے گئے دو آف شور اکاؤنٹ، ونتھروپ جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور گرین ہلز، بند کرنا چاہتے تھے۔
اس کی وجہ یہ لکھی گئی ہے کہ ’مونس کو ان اثاثوں کے بارے میں حکومت پاکستان کو آگاہ کرنے کے سی آر ایس رپورٹنگ کے تقاضوں کے بارے میں تشویش ہے۔‘
سی آر ایس یا ’کامن رپورٹنگ سٹینڈرڈ‘ ایک معاہدہ ہے جس کا پاکستان بھی حصہ ہے۔ اس کا مقصد سرحد پار ٹیکس کی عدم ادائیگی روکنا اور بین الاقوامی طور پر ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ اس دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ قانونی مشورہ ملنے کے بعد فنڈ اپنی آف شور کمپنیوں کو منتقل کرنے کی بجائے انھوں نے برطانیہ میں، جہاں ان کی اہلیہ اور بچے رہتے ہیں، ایک ادارہ قائم کیا جس کا بظاہر ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
دونوں آف شور اکاؤنٹ، ونتھروپ اور گرین ہلز، بند کر دیے گئے تھے اور مونس الہی کو سنگاپور کی ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے سات ہزار ڈالر کا بل پیش کیا گیا جو ایک کمپنی L089 نے ادا کر دیا۔ اس کمپنی کا آگے چل کر مزید ذکر آئے گا۔
بی بی سی کے مطابق ان دستاویزات سے معلوم ہوا کہ مونس الہی نے اپنے غیر ملکی اثاثوں میں پیسے نہیں ڈالے اور نہ ہی ان کو الیکشن کمیشن میں ڈکلیئر کیا، تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کا کیش کدھر گیا؟ اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ لیکن اب ہم لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے ایک خوبصورت اپارٹمنٹ بلاک ’رِیور لائیٹ کی‘ کا رخ کرتے ہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ فلیٹ اسی رقم سے خریدا گیا ہو۔
پینڈورا پیپرز کی ایک دستاویز دکھاتی ہے کہ ماضی میں سات ہزار ڈالر کا بل ادا کرنے والی کمپنی L089 نے کئی ملین پاؤنڈ مالیت کی یہ پراپرٹی 2015 میں خریدی تھی۔ بعد ازاں 23 جون سنہ 2017 کو دریائے ٹیمز والا گھر ایک اور کمپنی JSR 81 Ltd کو منتقل ہو گیا۔ لیکن قیمت والی دستاویز پر لکھا ہے کہ ’یہ منتقلی پیسے یا کسی ایسی چیز کے بدلے نہیں کی گئی جس کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے۔‘ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لینڈ رجسٹری کے ایک اور دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اپارٹمنٹ کی لیزہولڈ کی قیمت سنہ 2015 میں تقریباً 54 لاکھ پاؤنڈ ہے۔ اب اندازوں کے مطابق اس اپارٹمنٹ کی قیمت تقریباً 80 لاکھ پاؤنڈ ہے۔ جو چیز ان دستاویزات کو اہم بناتی ہے وہ یہ ہے کہ JSR 81 Ltd نامی کمپنی جس نے پچاس لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے لندن کے اس اپارٹمنٹ کو بغیر کسی ادائیگی کے حاصل کیا اس کمپنی کی مالک مونس الہی کی اہلیہ تہریم الہی ہیں۔ اس دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ تہریم الہی 2018 میں اس پراپرٹی کی مالک تھیں۔ برطانیہ میں کمپنیز ہاؤس کے ریکارڈ کے مطابق وہ مارچ 2017 سے اس کمپنی کے 75 فیصد شیئر کی مالک تھیں۔ اسکے علاوہ کمپنی کے انکارپوریشن ڈاکیومنٹ کے مطابق 2017 میں کمپنی کی ابتدائی مالکن بھی وہی تھیں۔ اس دستاویز میں ملنے والی معلومات تب اہم ترین ہو جاتی ہیں جب اسے کچھ اور دستاویزات کے ساتھ ملا کر پڑھا جاتا ہے جن کا عنوان ہے ’اثاثوں اور واجبات کی تفصیل‘ جس پر جون 2018 میں دستخط ہوئے اور لکھا گیا کہ یہ 30 جون 2017 تک بالکل درست ہے۔
اثاثوں کے بارے میں 30 جون 2017 کی تفصیل میں رحیم یار خان شوگر ملز کے ان حصص کا ذکر نہیں جس کے بارے میں مونس الہی نے ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کو بتایا تھا کہ وہ ایک پراکسی کے ذریعے ان کی ملکیت ہیں اور نہ لندن کی اس پراپرٹی کا جو ان کی اہلیہ کی ایک کمپنی کی تھی۔ بی بی سی نے مونس الہی سے ان اثاثوں کو ڈکلیئر نہ کرنے کے بارے میں پوچھا لیکن انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا تھا۔ لیکن اب ایف آئی اے ان تمام معاملات کی تحقیقات کرنے جارہا ہے۔
