بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن فرح گوگی کی ہاتھ کی صفائی

سابق وزیراعظم عمران خان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن کہلانے والی فرح خان عرف گوگی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کی کرپشن کی تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے اور وزیر اعظم ہاؤس کا ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔ لیکن ابتدائی رپورٹس کے مطابق بشری بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا کے ذاتی دوست احسن جمیل گجر اور اسکی بیوی گوگی نے کرپشن کرتے وقت کمال مہارت دکھائی اور اپنے پیچھے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں چھوڑا۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ فرح گوگی اور ان کے شوہر نے پیشہ وارانہ مہارت دکھائی اور اتنی زیادہ احتیاط برتی کے پونے چار برس کے دوران وزیراعظم ہاؤس قراردیے گئے بنی گالا کے ملاقاتیوں کے ریکارڈ میں دونوں میاں بیوی کی ایک بھی انٹری موجود نہیں حالانکہ فرح گوگی اکثر وہیں قیام پذیر ہوتی تھی۔روزنامہ جنگ کے قاسم عباسی کی رپورٹ کے مطابق فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے ساتھ ’وزیراعظم ہاؤس بنی گالہ کے رہائشیـوں جیسا رویہ اپنایا گیا اور ان کے آنے اور جانے کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ایجنسیوں نے پی ایم ہاؤس بنی گالہ کے اسپیشل برانچ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کیا کہ فرح ʼ’گوگی‘ اور ان کے شوہر احسن گجر کے نام آنے والوں کے ریکارڈ میں نہیں پائے گئے۔ لہٰذا وزارت داخلہ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ سیکورٹی ایس او پیز پر عمل کیوں نہیں کیا گیا اور فرح اور اسکے شوہر کے آنے جانے کو اسپیشل برانچ کے رجسٹر میں درج کیوں نہیں کیا گیا۔ انکوائری کے دوران اسپیشل برانچ کے اہلکاروں نے، جنہوں نے پی ایم ہاؤس بنی گالہ میں ڈیوٹی سرانجام دی، اپنے سینئرز کو بتایا کہ فرح اور اسکے شوہر احسن گجر بنی گالہ پی ایم ہاؤس میں اکثر آتے تھے اور وہاں قیام بھی کیا کرتے تھے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جوڑے کا داخلہ کبھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اسپیشل برانچ کو ہدایت تھی کہ گجر اور گوگی کے ساتھ ’وزیراعظم ہاؤس کے رہائشیون جیسا رویہ اپنایا جائے کیونکہ وہ خاندان کا حصہ ہیں۔ اسپیشل برانچ اسلام آباد پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اسی لیے ان کے پی ایم ہاؤس بنی گالہ میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کو کبھی ریکارڈ پر نہیں لایا گیا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی سیکورٹی کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ اسلام آباد پولیس کی اسپیشل برانچ وزیراعظم ہاؤس کے اندر اور باہر تمام نجی اور سرکاری مہمانوں کے داخلے اور باہر جانے کو کنٹرول کرتی ہے۔وزیراعظم ہاؤس آنے والے تمام افراد کا مکمل ریکارڈ رکھنے کیلئے وزیراعظم ہاؤس کا عملہ انٹری گیٹ پر آنے والے ہر آنے والے کی گاڑی کے نمبر کے ساتھ رجسٹر میں اندراج کرواتے ہیں۔ یہ پالیسی دورہ کرنے والے تمام وزراء، ارکان پارلیمنٹ، سیاست دانوں، سرکاری افسران اور نجی افراد پر لاگو ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن فرح گوگی اور پراپر ٹی ٹائیکون ملک ریاض کی بیٹی امبر ریاض کی ایک آڈیو کال بھی حال ہی میں منظر عام پر آئی تھی جس میں فرح کی طرف سے بشری کیلئے 5 قیراط کے ہیرے کی انگوٹھی کے تقاضے بارے گفتگو سنی جا سکتی ہے۔ امبر ریاض اورملک ریاض کی ٹیلی فونک گفتگو میں سنا جا سکتا ہے کہ فرح خان فون پر ملک ریاض کے ایک کام کے بدلے میں انکی بیٹی امبر سے بشریٰ بی بی کیلئے ہیرے کی انگوٹھی مانگ رہی ہیں۔ آڈیو ٹیپ میں امبر نے فرح گوگی سے شکایت کی کہ کافی ر دن ہو گئے لیکن جو تالے لگائے گئے تھے وہ ابھی تک نہیں کھلے اور لیٹر بھی نہیں آیا ، اس پر فرح نے امبر کو یقین دہانی کرائی کہ لیٹر جلد مل جائے گا کیونکہ عمران خان نے یقین دہانی کروا دی ہے۔
