ریٹائرڈ فوجی افسران اور تحریک انصاف کا بیانیہ ایک کیوں ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریٹائرڈ فوجی افسران نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فوج کے حوالے سے ایسی باتیں کی ہیں جو کہ تحریک انصاف کے بیانیے کے عین مطابق تھیں۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرح ریٹائرڈ فوجی افسران بھی رانا ثنا اللہ کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دونوں عالمی سازش کا ڈھول بجا رہے تھے۔ دونوں نے فوری الیکشن کو اپنا نصب العین بنا کر پیش کیا۔ کچھ نے فوج کی قیادت کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ ان میں بہت سے اپنے ہی ادارے پر تنقید کرتے پائے گئے، اسی ادارے پر جس کی وجہ سے انہیں عزت، وقار اور عمر بھر کی سہولتیں ملیں۔

باپ اور بیٹے کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنانے کی اصل وجہ کیا؟

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ ملکی حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ معمولی اور غیر معمولی کے درمیان فرق ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ بسا اوقات کوئی بہت معمولی خبر سامنے آتی مگر اس کے اثرات بہت غیر معمولی ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہوا کہ کسی خبر کو بہت غیر معمولی بنا کر پیش کیا گیا لیکن اس کے پیچھے کوئی بہت معمولی سی بات تھی تاہم گزشتہ ہفتے میں تین واقعات ایسے ہوئے جن کو ہر حال میں غیر معمولی کہا جا سکتا ہے۔ شیخ رشید کا یہ بیان کہ عمران خان کو چار مہینے سے پتہ تھا کہ ان کی حکومت جانے والی ہے، ایک بہت غیر معمولی بات ہے۔ اس اعتراف سے عمران خان کے بیرونی سازش کے بیانیے کی قلعی کھل بھی گئی۔ اگر یہ بات موجودہ حکومت کی جانب سے ہوتی تو اس پر کسی نے یقین نہیں کرنا تھا۔ مگر شیخ صاحب تو عمران کے چار برس تک یار غار بنے رہے۔ اپنی پسند کی وزارتوں پر براجمان رہے۔ عمران کے ایما پر جلائو گھیرائو کی تلقین کرتے رہے۔ ہر سہولت کا لطف اٹھاتے رہے۔ انکی جانب سے یہ بیان بہت حیرت انگیز تھا۔
بقول عمار مسعود، شیخ رشید کے اس بیان کے معنی تو یہ ہوئے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی اس گھر کے چراغ سے۔ اس بیان کے بعد اب ان لوگوں پر غصہ نہیں بلکہ ترس آتا ہے جنہوں نے بیرونی سازش والے عمرانی بیانیے پر یقین کیا۔ جنہوں نے اس بنا پر افواج پاکستان کے خلاف ایک قبیح مہم چلائی، جنہوں نے جلسوں میں شرکت کی اور جلوس نکالے، جنہوں نے جلسوں اور احتجاجی مظاہروں میں اپنے بچے مروائے، اب انکے پاس کہنے کو کیا ہے۔ اب وہ کس امریکہ کےخلاف احتجاج کریں گے، اب وہ کیسے یورپین یونین کے خلاف جلوس نکالیں گے۔ عمران خان نے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ پہلی دفعہ ایسا نہیں کیا۔ ان بیچاروں کے ساتھ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔ کبھی انکو 35 پنکچر کی گولی دی گئی، کبھی وزیر اعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے کی افیون فراہم کی گئی، کبھی انکو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر خودکشی کی نوید سنائی گئی۔ ہر دفعہ عمران خان نے اپنے جانثاروں کے سر شرم سے جھکا دیئے۔ اب لوگ رفتہ رفتہ خان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان۔ کیونکہ اسے میڈیا سے کھیلنا آتا ہے۔ چند دنوں تک یہی لوگ ایک نئے جھوٹ کے ساتھ سامنے آئیں گے، لوگوں کو بیوقوف بنائیں گے اور تھوڑے دن بعد اس جھوٹ سے مکر جائیں گے۔ یہی ان کا طرز سیاست ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس ہفتے کا دوسرا بڑا واقعہ سلیم صافی کا طیبہ فاروق کے ساتھ انٹرویو ہے۔ اس خاتون کا نام چیئرمین نیب کے قابک اعتراض سکینڈل کے حوالے سے بہت معروف ہوا۔ یہ ان کا پہلا باقاعدہ انٹرویو تھا۔ خوشی اس بات کی ہے کہ سلیم صافی نے اس دشوار موضوع پر بات کرتے ہوئے اخلاقیات کا مکمل خیال رکھا۔ ہر سوال میں ایک خاتون کا احترام ملحوظ خاطر رکھا۔ جو انکشافات اس انٹرویو میں ہوئے وہ ہوش ربا ہیں۔ ہمیں پہلی دفعہ یہ پتا چلا کہ کس طرح ان خاتون نے وزیر اعظم عمرسن خان کے پورٹل پر شکایت درج کروائی۔ کس طرح وزیر اعظم کے دست راست اعظم خان نے ان سے رابطہ کیا۔ انصاف دلانے کا جھانسہ دلا کر ان سے وڈیوز وصول کی گئیں۔ ان کی اجازت کے بغیر وزیر اعظم کے دوست کے ایک چینل پر یہ بریکنگ نیوز چلوائی گئی اور ساتھ ہی تردید بھی چلوا دی گئی۔ کس طرح اس خاتون کو اور انکے شوہر کو حراست میں رکھا گیا۔ ہر دفعہ وزیر اعظم کے مشیروں کی جانب سے مزید وڈیوز کا مطالبہ کیا گیا۔ پھر جب چیئرمین بلیک میل ہو گئے تو ہر وہ شخص جس نے چیئرمین نیب کی اخلاق باختگی پر سوال اٹھایا اسکو جیل یاترا کروا دی گئی۔ صرف اس وڈیو کی بنیاد پر تحریک انصاف کے کتنے کیسوں پر پردہ ڈال دیا گیا۔
کیسی کیسی کرپشن کو چھپایا گیا۔ کس طرح ایک بلیک میل ہو جانے والے شخص کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اس کی ذاتی غلطی کو پہلے دنیا بھر میں تماشا بنایا گیا، پھر اسکی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر کتنے اہم سیاسی فیصلے کئے گئے۔ کتنی سیاسی شخصیات کو بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا۔ کتنے جرائم کو چھپایا گیا۔ کتنوں سے سیاسی انتقام لیا گیا۔ اس انٹرویو کو دیکھ کر اس مجرمانہ ذہنیت کی سمجھ آتی جو تحریک انصاف میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ جس کے نتیجے میں اس ملک کا یہ حال ہوا اور جس کی وجہ سے ایک طبقے کو مجرم اور ایک طبقے کو مومن بنا کر پیش کیاگیا ۔ اس انٹرویو کو دیکھیں تو اس ملک کی سیاست کے کئی باب کھل جائیں گے کئی راز فاش ہو جائیں گے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ تیسرا اہم واقعہ فوج کے ریٹائرڈ افسران کی انجمن وِٹرنز آف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ایک پریس کانفرنس ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ریٹائرڈ فوجی افسران کی جانب سے اس طرح کی پریس کانفرنس کی گئی ہو۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ انکے بیانیے اور پی ٹی آئی کے بیانیے میں ذرا فرق نہیں تھا۔ دونوں رانا ثنا اللہ کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دونوں عالمی سازش کا ڈھول بجا رہے تھے۔ دونوں نے فوری الیکشن کو اپنا نصب العین بنا کر پیش کیا۔ کچھ نے فوج کی قیادت کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ ان میں بہت سے اپنے ہی ادارے پر تنقید کرتے پائے گئے، اسی ادارے پر جس کی وجہ سے انہیں عزت، وقار اور عمر بھر کی سہولتیں ملیں۔ پریس کانفرنس کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان اور لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک جیسے بڑے بڑے نام تھے جو اس ملک کے طاقتور ترین لوگ رہ چکے ہیں، جنکے ناموں اور کاموں سے ایک زمانہ تھر تھر کانپتا تھا۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جب ان طاقتور لوگوں سے صحافیوں نے سوالات کئے تو سارے بہادر سپوت تتر بتر ہو گئے۔ اس بات کا دکھ ہے کہ وہ اب سوالوں کا جواب نہیں دے سکے جو صحافیوں کی زبان پر تھے۔ مریم نواز نے اس موضوع پر بات کی اور صرف اتنا کہا کہ ایسے افراد اگر سیاسی جماعت بنائیں اور اسکے پلیٹ فارم سے پریس کانفرنسز کریں تو زیادہ بہتر ہو گا۔
عمار مسعود کے بقول اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ایسے ریٹائیرڈ فوجی افسران کوئی سیاسی جماعت بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا صرف عمران کی محبت میں سیاسی خلفشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس بات کا فیصلہ فوج کے ادارے پر چھوڑ دینا چاہئے جن کی یہ ساری عمر چاکری کرتے رہے ہیں۔

Back to top button