آئین شکن مشرف کی چاپلوسی پر خواجہ آصف کا رگڑا

دو دفعہ آئین شکنی کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے مفرور بھگوڑے کمانڈو جنرل پرویز مشرف کی چاپلوسی کرنے پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور انہیں شرم دلائی جا رہی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ جس کا باپ، خواجہ محمد صفدر، خود فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کا چئیرمین رہا ہوں، وہ پرویز مشرف کی چاپلوسی کر کے شرمناک خاندانی روایت آگے نہیں بڑھائے گا تو اور کیا کرے گا۔ اس سے پہلے ایک ٹویٹ میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی خرابی صحت کے پیش نظر ان کے وطن واپس آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے واقعات کو اس سلسلے میں رکاوٹ نہیں بنبے دینا چاہیے، اللہ مشرف کو صحت دے اور وہ عمر کے اس حصے میں وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں’۔
پی ٹی آئی اپنا جھوٹا بیانیہ سچا کیسے ثابت کرتی ہے؟
خواجہ آصف نے یہ بیان تب دیا جب مشرف کے اہل خانہ نے واضح کیا تھا کہ سابق جنرل شدید علالت کے باعث تین ہفتوں سے ہسپتال میں زیر علاج ہے، لیکن سوشل میڈیا پر چلنے والی وفات کی خبر درست نہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ عسکری حکام نے آئین شکن جنرل مشرف کو باعزت طریقے سے پاکستان لانے کے لیے شہباز شریف حکومت سے رابطہ کرلیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وطن واپسی پر وہ جیل کی بجائے ہسپتال جائے۔ ایسے میں مشرف بارے خواجہ آصف کا بیان معنی خیز ہے اور سوشل میڈیا صارفین ان پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کو مشرف کے لیے باوقار زندگی گزارنے اور صحت کی دعائیں کرنے پر کوئی شرم اور کوئی حیا کرنی چاہیئے کیوں کہ اس نے دو مرتبہ پاکستان کا آئین توڑا اور منتخب حکومتیں ختم کیں۔ اس کے علاوہ وہ بے نظیر بھٹو شہید اور نواب اکبر بگتی شہید کے قتل کیسوں میں بھی نامزد ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ خواجہ آصف کے والد خواجہ صفدر نے جنرل ضیاء الحق کی کاسہ لیسی کی اور اب بیٹا پرویز مشرف کی چاپلوسی کر رہا ہے جسکا بنیادی مقصد اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنا اور وزارت دفاع سے چمٹے رہنا ہے۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے دسمبر 2019 میں سابق صدر پرویز مشرف کو آئین سے غداری کے الزامات کے تحت پھانسی کی سزا سنائی تھی اور حکم دیا تھا کہ اسے اسلام آباد کے ڈی چوک میں میں لٹکایا جائے۔ اس فیصلے پر عمران خان دور میں عسکری قیادت نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا اور حکومت نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں جسٹس وقار سیٹھ کرونا سے انتقال کر گئے تھے۔ جب مشرف کے وکلا نے سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو کورٹ نے یہ کہہ کر درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ قانون کے مطابق سابق فوجی ڈکٹیٹر کو پہلے وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا۔ لیکن مشرف ایسا کرنے سے انکاری رہا اور اب اسکی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت ختم ہو چکی یے۔ لہذا اگر مشرف وطن واپس آتا ہے تو اسے ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرنا ہوگا تاکہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کروایا جا سکے۔
لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف قانونی راستہ اپنانے کی بات کرنے کی بجائے ڈکٹیٹرز کی خوشامد کی خاندانی روایت برقرار رکھتے ہوئے بے نظیر بھٹو اور اکبر بگتی کے قتل کیسوں میں نامزد مشرف کی صحتیابی اور زندگی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں کیوں کہ دوسروں کو شرم اور حیا دلوانے والے کو خود ذرا بھی شرم نہیں اتی۔
یاد رہے کہ پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا اور سابق وزیراعظم اور ان کے بھائی شہباز شریف کو حراست میں لے لیا تھا، اسخے بعد جنرل مشرف نے 2008 تک حکومت کی اور شریف خاندان کو جلا وطن کر دیا گیا۔ 2008 میں آصف زرداری کے برسراقتدار آنے کے بعد مواخذے سے بچنے کے لیے مشرف استعفی دینے پر مجبور ہو گیا تھا۔ 2013 کے الکیشن کے بعد جب نواز شریف برسر اقتدار آئے تو 30 مارچ 2014 کو اس پر آئین معطل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ 17 دسمبر 2019 کو شرف کو خصوصی عدالت نے سنگین غداری کے کیس میں سزائے موت سنائی۔ لیکن سابق فوجی حکمران کو اس سے پہلے ہی مارچ 2016 میں دبئی فرار کروا دیا گیا جس کے بعد سے وہ پاکستان واپس نہیں آیا اور اب بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔
اپنے سیاسی مخالفین کو جلسوں میں مکے لہرا لہرا کر دکھانے والا پرویز مشرف ایک پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہیں جس میں اس کا بچنا محال ہے کیونکہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں نکل پایا۔ پرویز مشرف کے اہلِ خانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں لاحق بیماری لا علاج ہے جسے کہ میڈیکل زبان میں ایمولائی ڈوسس کہتے ہیں۔ اس بیماری میں انسانی اعضاء ایک ایک کرکے کام چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں اور جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ مشرف کے حق میں خواجہ آصف کے بیان کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ کیا موت کی صورت میں اسے واپس لا کر سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا یا نہیں۔ سینئیر صحافی وقار ستی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی اتحاد کے لیے بڑی آزمائش شروع ہو چکی ہے کیونکہ اس معاملے پر فیصلہ کرنا مشکل ہو گا۔ اگر حکومت مشرف کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کرے گی تو اسکے منہ پر کالک ملی جائے گی اور اگر حکومت ایسا کرنے سے انکار کرے گی تو اسٹیبلشمنٹ ناراض ہو جائے گی۔ وقار ستی نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے جنرل مشرف کے انتقال کی صورت میں اُنہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کرنے پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ لیکن اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کوئی ایسا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں جو نواز شریف اور آصف زرداری کو ناراض کرے۔ یاد رہے کہ مشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے نکال کر جیل میں ڈالا تھا جب کہ آصف زرداری کی اہلیہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام بھی مشرف پر ہے۔ لیکن مشرف کی حالت تشویش ناک ہونے پر پاکستان فوج کا ردِعمل اب تک سامنے نہیں آسکا۔
دوسری جانب نواز شریف کے داماد اور مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن محمد صفدر نے مطالبہ کیا ہے کہ وطن واپسی پر پرویز مشرف کو جسٹس وقار سیٹھ کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں پھانسی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی آئین شکن کے لیے کسی قسم کی کوئی معافی نہیں ہونی چاہیے اور خواجہ آصف کو اپنے بیان پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ کیپٹن صفدر نے کہا کہ مہذب معاشروں میں ایسی روایتیں بھی موجود ہیں کہ کہ آئین شکن ملٹری ڈکٹیٹرز کو قبروں سے نکال کر لٹکایا گیا۔ لہذا مشرف کے ساتھ بھی عدالتی فیصلے کی روشنی میں شروع کیا جائے۔ یاد رہے کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین کو توڑنا اور اس کام میں مدد کرنا ریاست سے سنگین غداری کا جرم ہے جس کی سزا موت ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 26 جون 2013 کو مشرف کے خلاف آئین شکنی کی کارروائی شروع کرنے کے لئے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا جس پر ایف آئی اے کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی تھی۔ اس ٹیم نے 16 نومبر 2013 کو اپنی رپورٹ جمع کرائی۔ 13 دسمبر 2013 کو مشرف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی جس میں سب سے سنگین جرم متعدد مواقع پر آئین معطل کرنا قرار پایا تھا۔ مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ 6 سال سے زائد چلا۔ وہ صرف ایک دفعہ عدالت میں پیش ہوا اور پھر سزا سے بچنے کی خاطر ملک سے فرار ہو گیا۔
