عوام پر پٹرول بم گرانے والی حکومت نے بجلی بھی گرا دی


عمران دور میں آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساٹھ روپے فی لیٹر اضافہ کر کے پٹرول بم گرانے والی شہباز شریف حکومت نے اب عوام پر بجلی بھی گرا دی ہے تاکہ ان کا مکمل طور پر کریا کرم ہو جائے۔ صارفین کے ماہانہ بلوں میں شامل ہونے والے بجلی کے چارجز میں 46 فیصد حیران کن اضافے کے بارے میں معاشی تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ اسکا پاکستانیوں کی بڑی اکثریت پر تباہ کن اثر پڑے گا۔
یاد رہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا نے پہلے ہی بجلی کی موجودہ 16.91 روپے سے 24.82 روپے فی یونٹ کی بنیادی قیمت میں 7.91 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے جسکے بعد شہباز حکومت نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ اس کے اطلاق کا نوٹی فکیشن جاری کرنے والی ہے۔ بجلی کے بلوں پر عام ٹیکس کی شرح تقریباً 22 فیصد ہے جس سے فی یونٹ لاگت میں مزید 5.46 روپے کا اضافہ ہو جائے گا، اس کے نتیجے میں گھریلو صارفین کے لیے یہ شرح 30.28 روپے فی یونٹ ہو جائے گی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کے اتنا زیادہ مہنگے ہونے کے بعد ملک کی سماجی اور اقتصادی تباہی ہونے جارہی ہے، لوگ غربت کی لکیر سے مزید نیچے دھکیل دیے جائیں گے، جس سے متوسط طبقے میں کمی اور نچلے متوسط میں اضافہ ہو گا، جرائم کی شرح بڑھے گی اور سماجی انتشار مزید گہرا ہوگا۔ ان کے مطابق ہو سکتا ہے کہ حکومت کو بھی اس عمل کا کوئی فائدہ نہ ہو کیونکہ بجلی کی چوری اور کرپشن میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد گیس اور بجلی کی قیمتوں میں کیے جانے والے اضافے کا بوجھ اٹھانا اکثریتی متوسط طبقے کے لئے ممکن نہیں ہوگا گا جس کا نتیجہ سماجی افراتفری کی صورت اختیار میں سامنے آ سکتا ہے۔ انکے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے کثیر الجہت اثرات ہوں گے، دکاندار زیادہ بل ادا کریں گے اور گاہکوں سے زیادہ نرخ مانگیں گے، ہوٹل مالکان اب اضافی بلز ادا کریں گے اور انہیں کسٹمر کے چارجز میں شامل کریں گے۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سے بچنا ممکن تھا، اگر یکے بعد دیگرے حکومتیں گزشتہ چند برسوں میں اپنے بل کی وصولی کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتیں تو وہ نقصانات کو کم کر سکتی تھیں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے قرض دہندگان کے دباؤ سے بچ سکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وصولیاں بل میں طے کی گئی رقم کے 90 فیصد پر پھنسی ہوئی ہیں اور وصول نہ کی جاسکنے والی ادائیگیاں 10 فیصد یعنی 150 ارب روپے سالانہ پر ہیں، اس میں مزید 300 ارب روپے کی بجلی چوری کو شمار کریں تو یہ شعبہ تجارتی حیثیت کھو دیتا ہے۔ ڈاکٹر فرخ سلیم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ المیہ سامنے آ رہا ہے کہ ہم بحیثیت قوم جائزہ نہیں لے سکے، کارکردگی کو بہتر بنانے کی بجائے ہم نے ہمیشہ ٹیرف میں اضافے پر انحصار کیا جو کہ تیزی سے اپنی افادیت کھو دیتا ہے کیونکہ ریکوری میں کمی اور چوری بڑھ جاتی ہے جس سے شعبہ واپس اسی مقام پر آکھڑا ہوتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی یعنی پیپکو کے سابق سربراہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا کے پاس بجلی کے نرخوں کو ایڈجسٹ کرنے کا تین جہتی طریقہ کار ہے جس میں ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قیمت کا فیصلہ کرتے وقت نیپرا 9 متغیرات پر غور کرتا ہے جن میں ایندھن کی قیمت، ڈالر کی برابری، آپریشن اور مینٹیننس چارجز شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈالر کی قیمت میں ابھی اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا بعد میں ہونے والی ایڈجسٹمنٹ پر صفر سے کم اثر پڑے گا، تیل کی قیمتوں کا بھی یہی حال ہے، اگر موجودہ تعین میں بنیادی قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے تو مستقبل میں فیول لاگت کی ایڈجسٹمنٹ اسی طرح کم ہو جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بنیادی طور پر ان تمام ایڈجسٹمنٹس کو آئندہ مالی سال میں دوبارہ ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
بجلی ٹیرف کے تعین کے عمل میں شامل پیپکو کے ایک سابق افسر نے بتایا کہ ’اس قسم کا غیر معمولی اور تیز اضافہ نیپرا کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، یہ عوامی مفادات کے محافظ کے طور پر اس کے کردار پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ان کے پاس ماہانہ، سہ ماہی اور سالانہ اضافے کے آپشن تھے تو انہوں نے ان سب کو ایک ہی قدم میں ختم کر کے ایک ہی بار میں قیمت کیوں بڑھا دی؟ یہ ایک سال یا اس سے زائد عرصے میں اضافے کو روک سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے معاشی دباؤ کا سامنا کرنے والے بجلہ صارفین پر یہ اضافی بوجھ نیپرا کی مکمل ناکامی کا مظہر ہے۔

Back to top button