موٹروے زیادتی کیس: ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک خصوصی عدالت نے موٹر وے پر خاتون کو ڈکیتی کے بعد ریپ کا نشانہ بنانے والے دو ملزموں کو موت کی سزا سنا دی ہے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیمپ جیل لاہور میں دونوں ملزموں کی موجودگی میں فیصلہ سنایا۔ ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل پنجاب عبدالجبار ڈوگر کے مطابق ملزمان کو ریپ کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت، یرغمال بنانے کے جرم میں عمر قید، اور ڈکیتی کے جرم میں 14 سال کی قید سنائی ہے۔ دونوں مجرموں کو جان سے مارنے کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر دفعہ 440 کے تحت پانچ پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔اس کے علاوہ دفعہ 337 ایف ون میں 50 پچاس ہزار روپے اور 337 ایف ٹو میں بھی 50 پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ دفعہ 382 بی کے تحت ملزمان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں اور اُن کے پاس لاہور ہائی کورٹ اور وہاں سے اپیل مسترد ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ تک کیس لے جانے کا آپشن موجود ہے۔ سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کی صورت میں ملزمان پاکستان کے صدر کے پاس رحم کی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 ستمبر کو لاہور کے قریب موٹر وے پر رات کے وقت دو ملزموں نے ڈکیتی کے بعد بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا تھا۔ پولیس نے پہلے ایک ملزم شفقت کو گرفتار کیا اور پھر دوسرے ملزم کی گرفتاری ہوئی۔ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے مقدمے کا ٹرائل سکیورٹی کی وجہ سے جیل میں کیا گیا۔ اس کے بعد میڈیا پر یہ معاملہ شہ سرخیوں میں رہا اور پنجاب حکومت پر اس حوالے سے کارروائی کےلیے بہت دباؤ تھا۔ پہلے پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا تھا تاہم دوسرا ملزم متعدد چھاپوں کے باوجود پولیس کی پہنچ سے نکلنے میں کامیاب رہا تھا۔ دوسرے ملزم کو ایک ماہ کے بعد گرفتار کرنے میں پولیس کامیاب ہوئی تھی۔ پولیس نے چار ماہ کی تاخیر سے تین فروری کو مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جس کے بعد اس پر ٹرائل شروع ہوا۔ عدالت نے متاثرہ خاتون سمیت مقدمے میں تین درجن سے زائد گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ دونوں ملزمان عابد ملہی اور شفقت نے اپنی صفائی میں بیانات ریکارڈ کروائے، جس کے بعد عدالت نے وکلا کے حتمی دلائل سننے اور ان کے مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ستمبر 2020 میں لاہور کے تھانہ گجرپورہ میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ گوجرانوالہ کے رہائشی درخواست دہندہ کی رشتے دار خاتون کی گاڑی کا لاہور کے علاقے گجرپورہ کے قریب جنگل کے قریب پیٹرول ختم ہو گیا تھا اور وہ مدد کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ ایف آئی آر کے مطابق درخواست دہندہ کی عزیزہ نے بتایا کہ جب وہ پیٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں تو 30 سے 35 سال کی عمر کے دو مسلح اشخاص آئے، انہیں اور ان کے بچوں کو گاڑی سے نکال کر ان کا ریپ کیا اور ان سے نقدی اور زیور چھین کر فرار ہو گئے۔ ایف آئی آر کے مطابق خاتون سے ریپ کا واقعہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا اور متاثرہ خاتون کے رشتے دار نے بدھ کی صبح 10 بجے پولیس سٹیشن گجر پورہ میں مقدمہ درج کروایا۔ مدعی نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں پر پیٹرول ختم ہونے کی وجہ سے روک گئی تو انہوں نے دیکھا کہ گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس پر خون کے دھبے تھے، جس کے بعد انہوں نے رشتے دار خاتون کو کرول کے جنگل کی جانب سے بچوں کے ساتھ آتے دیکھا۔ موٹروے پولیس نے کہا تھا کہ جس جگہ خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا وہ موٹروے پولیس کی حدود میں شامل نہیں ہے۔ ترجمان کے بقول رنگ روڈ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں ہے۔ اس وقت کے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بعد متعدد ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ: ’تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے اپنے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہیے ناں؟ اور یہ بھی چیک کرنا چاہیے کہ گاڑی میں پیٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔۔۔‘ اس کے بعد انہیں سی سی پی او لاہور کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد انہوں نے معافی مانگ لی تھی تاہم ان کے بیان کا معاملہ پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق تک بھی جا پہنچا جہاں انہیں قانون سازوں کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔ پیر 14 ستمبر کی شام ٹوئٹر پر تفصیل بتاتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کہا تھا سیالکوٹ موٹروے کے دلخراش واقعے میں خاتون سے زیادتی میں ملوث شخص گرفتار ہو چکا ہے۔ ان کے بقول گرفتار شخص کا ‘ڈی این اے بھی میچ کر چکا ہے اور اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ پنجاب پولیس کے سربراہ انعام غنی نے بھی ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے ملزم کا تعلق بہاولنگر سے ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل سنیچر 12 ستمبر کو وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں اعلیٰ حکام کی پریس کانفرنس میں جن دو ملزمان کی تفصیلات اور تصاویر جاری کی گئی تھیں، گرفتار ملزم ان میں شامل نہیں تھا۔ حکام نے جن دو افراد کی تصاویر اور معلومات جاری کی تھیں ان میں سے ایک نے اتوار 13 ستمبر کی صبح لاہور میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا اور خود پر عائد تمام الزامات کی تردید کی تھی۔ اُس ملزم کا کہنا تھا کہ اس کے جس موبائل نمبر کی بنیاد پر اسے واقعے میں ملوث قرار دیا گیا وہ اس کے زیرِ استعمال نہیں بلکہ اسے اس کے برادرِ نسبتی استعمال کرتے ہیں۔ پیر 14 ستمبر کی صبح مذکورہ برادرِ نسبتی نے بھی شیخوپورہ میں پولیس کو گرفتاری دے دی تھی اور واقعے سے کسی قسم کا تعلق نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سیالکوٹ موٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کے ملزم کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ دیتے ہوئے انہیں جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
