موٹر وے پر خاتون سے زیادتی، حکمران استعفیٰ دیں

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے موٹروے زیادتی کیس کی ذمہ داری پی ٹی آئی حکومت پر ڈالتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے موٹر وے پر گینگ ریپ کے معاملے پر حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان نے دنیا میں پہلی مثال قائم کردی جہاں مظلوم خاتون کے سر پر شفقت کی چادر رکھنے کے بجائے ان کی حکومت نے متاثرہ خاندان کا مذاق اڑایا۔
لاہور میں پارٹی رہنما مریم اورنگزیب کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کا واقعہ قابل مذمت ہے جبکہ موجودہ حکومت میں انگلی مجرم پر نہیں بلکہ خاتون پر اٹھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ دو برس سے کہہ رہے ہیں کہ موجودہ ‘نااہل’ حکمران معیشت کو برباد کرچکے ہیں اور اب پاکستان کو انتظامی انارکی کے دھانے پر پہنچا چکے ہیں۔احسن اقبال نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں گزشتہ دو برس کے دوران 5 آئی جیز، 4 چیف سیکریٹریز، 6 ڈویژن، متعدد صوبائی سیکریٹریز تبدیل کردیے گئے، کیا اس طرح صوبے کے نظام چل سکتے ہیں؟ ان حالات میں انتظامیہ کیسے کام کرے گی؟
ن لیگی رہنما احسن اقبال کہتے ہیں موٹر وے زیادتی کیس کے معاملے پر حکمرانوں کو مستعفی ہونا چاہیے، سی سی پی او کو بھی تبدیل کیا جائے۔ جیسے عمران خان اناڑی تھے ویسے ہی عثمان بزدار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجرم کوسنگین سےسنگین سزا دینے اور کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے اہلیت چاہیے جو ان میں نہیں ہے، ہم نےانتظامی و قانونی طریقے سے دہشتگردی کا مقابلہ کیا۔ ملزموں کی نشاندہی کا سہرا پنجاب فرانزک لیب کے سر جاتا ہے، واقعہ پرحکومت نے کیا کیا۔ انہوں نے میڈیا پر خبریں چلائیں اور ایکشن کرنے کی بجائے مجرم کو بھگا دیا۔ کس کس واقعے کا ذکر کروں، ہر دوسرے دن اندوہناک واقعہ ہوتا ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی صبح بھی انتقام سے ہوتی ہے اور شام بھی۔ بیس ستمبر کو اپوزیشن حکومت کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل بنائے گی۔ حمزہ شہباز کورونا کا شکار ہیں، انہیں طبی سہولت فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو پنجاب کے انتخابات میں ناکامی کا سامنا رہا اور آج تحریک انصاف کی حکومت صوبے کو نشانہ بنا رہی ہے۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ‘عثمان بزدار کی حکومت’ مسلط کردی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ‘عثمان بزدار اچھے انسان ہوں گے لیکن پنجاب جیسے صوبے کو چلنے کے لیے جو انتظامی صلاحیت درکار ہے، وہ ہی ان کے پاس نہیں ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘جیسے عمران خان خود اناڑی ہیں، ویسے ہی صوبہ پنجاب میں وہ حکومت لے کر آئے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت انتظامی کارروائیوں کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی اور نیب کی زیر حراست مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کئی دن سے بخار میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے اور انہیں کوئی طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حمزہ شہباز کو علاج کے لیے فوری ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور وہ گزشتہ 3 روز سے شدید بخار میں مبتلا ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ بگڑتی ہوئی صحت کو دیکھتے ہوئے انہیں کوٹ لکھپت جیل سے فوری ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے علاج کی تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کی جائیں۔ان کا کہنا تھاکہ علاج میں سستی یا بے پرواہی سے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی صحت خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے۔
