فوج کی ضرورت نہیں، عوامی طاقت سے نااہل کو گھر بھیجیں گے

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ہمیں کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں کہ حکومت کو گھر بھیجو۔ اپوزیشن کو حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوج کی ضرورت نہیں۔ عوامی طاقت سے نااہل کو گھر بھیجیں گے
سکھر میں پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہمارے دو ارکان قومی اسمبلی کے استعفے کسی نے شرارت کر کے اسیپکر کے پاس بھیج دیے ہیں، میں اسپیکر سے کہتی ہوں کہ ان دونوں شیروں کو بلا کر پوچھ لو اور ان کے استعفے منظور کرلو۔ مریم نواز نے کہا کہ ‘جب بھی ملک نے ترقی کی وہ نواز شریف کا دور تھا، ترقی کا سفر وہاں سے شروع ہوگا جہاں سے نواز شریف کے جانے کے بعد ٹوٹا تھا، جبکہ سونامی پہلے بدنامی میں تبدیل ہوا اور اب گمنامی میں تبدیل ہوگا’۔انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان کی حکومت چلانے کی تیاری نہیں تھی مگر ان کی چوری کرنے اور دوستوں کو نوازنے کی تیاری پوری تھی، جب پتہ تھا کہ نالائق ہو، تیاری نہیں تو کیوں 22 کروڑ عوام کی قسمت کے ساتھ کھلواڑ کیا، سیاسی مخالفین کو چور کہنے والا ڈھائی سال بعد کہتا ہے کہ حکومت چلانے کی تیاری نہیں تھی’۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ بٹن دبانے سے تبدیلی نہیں آتی یے اور وہ ایسا بٹن کہاں سے لائیں جس سے تبدیلی آئے، جب آر ٹی ایس کا بٹن دبانے سے اتنی بڑی ووٹ چوری ہونے کی تبدیلی آسکتی ہے تو ڈھائی سال میں تبدیلی کیوں نہیں آسکتی ہے’۔
مریم نواز نے کہا کہ ‘ہمیں کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کو نکالو، تم خود ہی کافی ہو خود کو نکالنے کے لیے، پی ڈی ایم ، مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ساتھ عوام ہیں اور جن کے پاس عوام کی طاقت ہوتی ہے وہ کسی ادارے کی طرف نہیں دیکھتے، جبکہ ہم عوام کی طاقت سے تمہارا محاسبہ کریں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان کی ایک ہی کوالیفکیشن ہے وہ ہے تابعداری، اگر یہی کوالیفکیشن ہے تو نواز شریف اور مریم نواز کو اس کی ضرورت نہیں، نواز شریف بہت بڑا لیڈر ہیں جنہوں نے عمران خان سے پہلے ہی دن کہہ دیا تھا کی بچے تم بیچ میں سے ہٹ جاؤ، ہمارا مقابلہ تم سے نہیں ہے، تمہیں تو مریم نواز کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے جیل میں بند کرنا پڑتا ہے، ٹی وی پر اس کی آواز کو بند کرنا پڑتا ہے اور ایک باپ کے سامنے اس کی بیٹی کو گرفتار کرنا پڑتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے ہمارے تمام 160 ارکان کے استعفے ہمارے پاس آچکے ہیں، قومی اسمبلی کے چند رہ گئے ہیں وہ بھی ایک، دو دن میں آجائیں گے’۔
لیگی نائب صدر نے کہا کہ ‘ہمارے دو ارکان قومی اسمبلی مرتضیٰ عباسی اور سجاد علی کے استعفے کسی نے شرارت کر کے اسیپکر کے پاس بھیج دیے ہیں، میں اسپیکر سے کہتی ہوں کہ ان دونوں شیروں کو بلا کر پوچھ لو اور ان کے استعفے منظور کرلو، ہمارے شیر خود ہی ان سے کہیں گے کہ ہاں یہ استعفے انہوں نے دیے ہیں، پی ٹی آئی کے ارکان کی طرح نہیں کہ جب استعفے دیے اور اسپیکر نے بلایا تو کہا کہ ہم سے عمران خان نے زبردستی استعفے لیے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ اپنے قائد کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے، ہم سب نواز شریف اور ووٹ کی عزت کے لیے جان بھی دے دیں گے، عمران خان تم ہماری فکر چھوڑو اپنی اور اپنے ارکان کی فکر کرو کیونکہ مسلم لیگ (ن) کا ہر رکن قومی و صوبائی اسمبلی اور کارکن نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان رخصت ہوا اور الیکشن ہوئے تو مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت کے ساتھ واپس آئے گی اور لوگ جان چکے ہیں کہ عمران خان جا رہا ہےانہوں نے اس موقع پر کارکنوں سے سوال کیا کہ کیا ہمیں ان جعلی اسمبلیوں سے استعفے دے کر باہر آجانا چاہیے اور کیا نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور پی ڈی ایم لانگ مارچ کی کال دے گی تو وہ اسلام آباد آئیں گے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ عمران خان کو گھر بھیجنے کے لیے ہمیں لانگ مارچ کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔
قبل ازیں مریم نواز نے کہا کہ جعلی حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، حکومت پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہی ہے، حکمران کچھ بھی کرلیں اب انہیں گھر جانا ہوگا، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر نظر رکھنے والوں پر رحم آتا ہے۔
مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ شہباز شریف اپنے بھائی اور پارٹی کے ساتھ بہت وفادار ہیں اور اگر وہ وفادار نہ ہوتے تو اس نالائق کو وزیر اعظم بنانے کی ضرورت نہ پڑتی، وہ وزیر اعظم ہوتے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج بی بی شہید کی برسی کے موقع پر ان کے پاس جا رہی ہوں، ان کی جمہوریت کے لیے جدوجہد تھی اور انہوں نے اس ملک کے لیے بہادری سے جان دی، تو یہ میرے لیے فخر کا مقام ہے کہ مجھے ان کی برسی میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ میاں صاحب اور بی بی شہید نے اس ملک کو جو میثاق جمہوریت دیا تھا اس کے بعد پاکستان کی تاریخ تبدیل ہو گئی، یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم سنگ میل تھا، میں، بلاول اور تمام سیاسی جماعتیں اس کو لے کر آگے بڑھیں گے اور مضبوط بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان میں بہت ضروری ہے کیونکہ پاکستان میں تقسیم بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور پاکستان کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، ہم سب جماعتیں مختلف ہیں اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شریک تمام جماعتوں کے الگ الگ منشور اور نظریات ہیں لیکن کچھ چیزیں پاکستان کی خاطر ایسی ہیں جس پر ہم سب اکٹھے ہیں۔
محمد علی درانی کی جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صرف یہ دورہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ہمیں حکومتی وزرا کی جانب سے بھی کئی پیغامات موصول ہوتے رہے ہیں، جب ان کو جواب نہیں دیا گیا تو اور لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے۔مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ میاں صاحب نے بہت اٹل فیصلہ کر یا ہے اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں بھی اس معاملے پر بالکل کلیئر ہیں کہ اس جعلی حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، مذاکرات کی کوشش کر کے یہ پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہے ہیں جو ان کو نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ جب آپ جیل میں ہوتے ہیں تو آپ کو نہیں پتہ ہوتا کہ کون ملاقات کے لیے آنے والا ہے اور اچانک آپ کو بتایا جاتا ہے، آپ اس وقت انکار کرنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں ہوتے کیونکہ یہ نہیں پتہ ہوتا کہ جو آ رہا ہے کیا کہنے آ رہا ہے، یہ بات آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے کہ جہاں خاندان کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی وہاں اس طرح کی شخصیات بغیر کسی رکاوٹ کے مل بھی لیتی ہیں اور ان کے لیے راستے بھی کھل جاتے ہیں.ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ہی دھاندلی کی پیداوار ہے، اس کی کارکردگی اتنی بری ہے کہ اگلا الیکشن ووٹ سے تو نہیں لے سکتے، 2018 کا نہیں لے سکے تو اتنی بری کارکردگی کے بعد 2023 کا کیسے لیں گے، یہ چاہے جتنی بھی کوششیں کر لیں، ناکام ہوں گے اور اس حکومت کو گھر جانا پڑے گا۔
مریم نواز نے حکومت پر تنقید کا سسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اس حکومت پر رحم آتا ہے جو پی ڈی ایم پر نظریں گاڑ کر بیٹھے ہیں، یہ شکست خوردہ آدمی کی ذہنیت کی نشانہ ہے کہ کوئی پی ڈی ایم لیڈر جلسے میں نہیں پہنچا تو امید لگا کر بیٹھ گئے کہ شاید دراڑ پڑ گئی ہو، یہ ایسے شخص کی ذہنیت ہے جس کو پتہ ہے کہ میں جا رہا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ شہباز شریف اپنے بھائی اور پارٹی کے ساتھ بہت وفادار ہیں اور اگر وہ وفادار نہ ہوتے، اگر دھوکا دے سکتے تو اس نالائق کو وزیر اعظم بنانے کی ضرورت نہ پڑتی، وہ وزیر اعظم ہوتے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اپنے بھائی اور پارٹی کے وفادار ہیں، انہوں نے ساری ایسی پیشکشوں کو ٹھکرایا جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج وہ اپنے بیٹے سمیت جیل بھگت رہے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ کوئی استعفے دینے سے دستبردار نہیں ہو رہا، مرتضیٰ جاوید عباسی اور سجاد اعوان سے تو کوئی گمان کر بھی نہیں سکتا کہ وہ دستبردار ہوں گے، وہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے استعفے جمع کرائے، وہ خود حیران ہیں کہ ان کے استعفے اسپیکر تک کیسے پہنچے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کا حکم ہے کہ 31دسمبر تک اپنے استعفے پارٹی قیادت کو جمع کرائیں، پارٹی قیادت اور پی ڈی ایم جب فیصلہ کرے گی کہ اسپیکر کو استعفے جمع کرانے ہیں، تو وہ پارٹی خود کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ 160 میں سے 159 صوبائی اراکین اسمبلی کے استعفے مجھے موصول ہو گئے ہیں اور ایک استعفیٰ اس لیے نہیں آیا کہ وہ خاتون وینٹی لیٹر پر ہیں، اسی طرح قومی اسمبلی کے بھی 95فیصد استعفے مجھے موصول ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اس چیز سے امید لگا کر بیٹھا ہے کہ لوگ پیچھے ہٹ رہے ہیں تو وہ خود کو بہت بے وقوف بنا رہا ہے کیونکہ اب لوگ تحریک انصاف نہیں بلکہ مسلم لیگ(ن) اور پی ڈی ایم کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہمارے سارے اراکین اور پی ٹی آئی کے اراکین کو بھی پتہ ہے کہ تحریک انصاف کا مستقبل نہیں ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ اگر کوئی اس خام خیالی میں ہے کہ جماعت کے لوگوں کو توڑ لے گا تو وہ غلط ہے، ابھی انہوں نے جمعیت علما اسلام(ف) کے لوگوں کو توڑنے کی کوشش کی تو وہ بیک فائر ہوا۔انہوں نے کہا کہ صرف مجھے نہیں بلکہ پورے پاکستان کو غیرمحسوس کردار نظر آ رہے ہیں اور پورے پاکستان کو یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ غیرمحسوس کردار اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے بارے میں سوال کے جواب میں مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر نے کہا کہ اس بارے میں گفتگو ہو رہی ہے، پارٹی میں دو قسم کی رائے ہے، اکثریتی رائے پارٹی میں یہ ہے کہ الیکشنز میں حصہ نہیں لینا چاہیے اور اگر یہ حکومت جا رہی ہے تو ہم اپنی ایک دو سیٹ قربان کر سکتے ہیں لیکن اس حوالے سے حتمی فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ہم انتخابات نہیں لڑیں گے، تو ہم نہیں لڑیں لیکن اگر قیادت بیٹھ کر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ الیکشنز میں جانا چاہیے تو یقیناً اس پر عمل کیا جائے گا۔
قبل ازیں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ پوری قوم کا فیصلہ ہے کہ اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کو کسی طرح کا این آر او نہیں ملے گا۔مریم نواز نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ، مسلم لیگ ن کے قائد پوری طرح اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں ، اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کو کسی طرح کا این آر او نہیں ملے گا یہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔
پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد پوری طرح اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں۔ اس جعلی اور کٹھ پتلی حکومت کو کسی طرح کا این آر او نہیں ملے گا۔ یہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) December 25, 2020
علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ اتحاد ، ایمان ، تنظیم یہ وہ رہنما اصول ہیں جو بانی پاکستان نے اس ملک کے عوام کو سمجھائے ۔ اپنے ٹویٹ میں انہوںنے کہا کہ قائد اعظم کی یوم پیدائش پر وعدہ کرتے ہیں کہ ان اصولوں پر چلتے ہوئے ہم پاکستان کو فلاحی اور جمہوری ریاست بنائیں گے ، جہاں آئین بالادست ہوگا اور عوام کو حقِ حکمرانی حاصل ہوگا۔
دریں اثناء مریم نواز نے اپنے والد اور پارٹی قائد و سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی بیٹی بھی ہوں اور آپ کے سیاسی نظریے ، بصیرت کی پیرو کار بھی ہوں۔ٹوئٹر پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ آپ کی بیٹی ہونا میرے لئے اعزازبھی ہے اور عظیم ذمہ داری بھی ، ایک بیٹی کی حیثیت سے اپنے والد اور ایک کارکن کے طور پر اپنے قائد کیلئے دعا گو ہوں۔
