مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے جنرل عاصم منیر کی کہانی

جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ لینے والے نئے فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کا تعلق راولپنڈی کے ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ ان کے والد سید سرور منیر درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے اور راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں واقع ایک سکول کے پرنسپل تھے۔ جنرل عاصم منیر، پاک فوج کے پہلے حافظ قرآن، چیف آف آرمی اسٹاف ہیں۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ عاصم منیر کے والد بھی انکی طرح حافظ قرآن ہیں۔ عاصم منیر کے دونوں بھائی قاسم منیر اور ہاشم منیر بھی حافظ قرآن ہیں۔
جنرل عاصم منیر آفیسرز ٹریننگ سکول منگلا سے تربیت مکمل کر کے پاک فوج کا حصہ بنے۔ تربیت کے دوران انہیں بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا تھا جو کہ قابل ترین افسران کو ہی عطا کی جاتی ہے۔ عاصم منیر نے تربیت مکمل کرنے کے بعد پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ ان کے فوجی کیریئر کا آغاز 1986 میں ہوا تھا۔ بے داغ فوجی کیریئر کے حامل جنرل عاصم منیر نے شروع سے ہر کورس میں ٹاپ کیا۔ سال 2014 میں انہوں نے کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریا کے طور پر اہم ترین رول ادا کیا۔ تب وہ میجر جنرل تھے اور بھارت کی ریشہ دوانیاں عروج پر تھیں۔ چنانچہ سیاچن کا علاقہ خاصا اہمیت کا حامل تھا۔ دسمبر 2016 میں جنرل عاصم منیر نے ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں تو تب طالبان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ عروج پر تھی۔ یوں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن ردالفساد میں انہوں نے کلیدی رول ادا کیا۔ وہ اکتوبر 2018 تک ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر فائز رہے۔ دہشت گردوں کے خلاف ردالفساد آپریشن خالصتاً اندرونی امن و امان سے متعلق تھا۔ داخلی امن و امان کے حوالے سے بنیادی رول ایم آئی کا ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی زیادہ تر خارجی معاملات پر توجہ رکھتی ہے۔
میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد جنرل عاصم منیر اکتوبر 2018 سے جون 2019 تک ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ یوں وہ پہلے آرمی چیف ہیں جو کہ ایم آئی اور آئی ایس آئی دونوں پرائم انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ 2019 میں ہی انہیں کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا تھا۔ آرمی چیف بننے سے قبل جنرل عاصم منیر اکتوبر 2011 سے جی ایچ کیو میں بطور کوارٹر ماسٹر جنرل فرائض ادا کر رہے تھے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ نئے آرمی چیف بننے والے جنرل سید عاصم منیر اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی تمام تر سازشوں کے باوجود فوجی سربراہ کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم منیر کو نہ صرف عمران کی مخالفت کا سامنا تھا بلک فیض حمید کا دھڑا بھی انکی مخالفت کر رہا تھا۔ عمران خان اور فیض حمید دھڑے کی جانب سے عاصم منیر کی مخالفت کی ایک تاریخ ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ سخت گیر طبیعت کے حامل افسر قرار دیے جانے والے عاصم منیر اپنے فوجی کیریئر کے دوران اصولوں پر سمجھوتا کرنے سے انکاری رہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے چند ہی مہینوں بعد انہیں ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو خفیہ ایجنسی کا سربراہ مقرر کردیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ عاصم منیر نے وزیر اعظم کو بطور آئی ایس آئی چیف انکے سسرالی مانیکا خاندان کی کرپشن بارے آگاہ کیا تو خان صاحب نالاں ہو گئے۔ خفیہ ایجنسی کی سربراہی سے ہٹاتے وقت جنرل عاصم کو اس عہدے پر تعینات ہوئے صرف آٹھ ماہ گزرے تھے۔
جنرل عاصم منیر زیادہ تر جرنیلوں کی طرح پاکستان ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل نہیں۔ ان کا تعلق آفیسرز ٹریننگ سکول منگلا یا او ٹی ایس کے اس کورس سے ہے جس نے فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ آفیسرز ٹریننگ سکول میں گریجویشن کے بعد فوج میں آنے والے کیڈٹس ایک سال کی تربیت کے بعد کمیشن حاصل کرتے تھے۔ لیکن او ٹی ایس پروگرام 1989 کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اور 1990 میں آفیسر ٹریننگ سکول کو جونئیر کیڈٹ اکیڈمی کا درجہ دے دیا گیا۔ پی ایم اے لانگ کورس اور او ٹی ایس کے کمیشنڈ افسران آپس میں مسابقت رکھتے ہیں اور خود کو ایک دوسرے سے بہتر تربیت یافتہ افسران سمجھتے ہیں۔ او ٹی ایس سے کمیشن حاصل کرنے والے افسران کی آخری کھیپ اپنے کیرئیر کے اختتامی مراحل میں سروس کر رہی ہے، البتہ جنرلز میں اس وقت صرف جنرل عاصم منیر ہی او ٹی ایس افسر ہیں۔
