بنگلہ دیش کا مودی سرکار سے پیار کی پینگیں بڑھانے کا فیصلہ

بنگلہ دیش میں خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان نے وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان سے دوری اختیار کرتے ہوئے اسی مودی حکومت سے پیار کی پینگیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جس نے ان کی والدہ خالدہ ضیا کی ازلی مخالف سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو ملک سے فرار کے بعد بھارت میں سیاسی پناہ دے رکھی ہے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مودی سرکار سے کئی مرتبہ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کرچکی ہے لیکن اس پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں اس حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان برسراقتدار آنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر پہلی بار بھارت جارہے ہیں، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم ترین پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ دوسری طرف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی حکومت مزید مستحکم ہونے جارہی ہے کیونکہ 20 اگست 2026 کو صدارتی انتخابات ہورہے ہیں۔
بلال غوری کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر اہم تبدیلیوں کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت ایک طرف بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے سفارتی رابطے بڑھا رہی ہے تو دوسری جانب نئی دہلی میں موجود سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا معاملہ بدستور لٹکا ہوا ہے۔ بلال غوری کے مطابق طارق رحمان کا بھارت کا ممکنہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، اگرچہ موجودہ حالات میں اسے محض بھارت نواز پالیسی کا حتمی ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
بھارت نے طارق رحمان کو رواں سال نئی دہلی میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی جب شیخ حسینہ واجد کے بھارت میں قیام کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت نے اس سے قبل حسینہ واجد کی واپسی اور حوالگی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ درخواست کا جائزہ اس کے قانونی طریقہ کار کے تحت لیا جارہا ہے۔ بلال غوری کے مطابق طارق رحمان کے لیے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ایک پیچیدہ سفارتی توازن کا معاملہ ہے۔ ایک طرف نئی دہلی کے ساتھ تجارت، سرحدی امور، علاقائی رابطوں اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے تو دوسری طرف بنگلہ دیشی عوام اور سیاسی حلقوں میں شیخ حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ چنانچہ طارق حکومت بیک وقت بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ جاری رکھنے کی پالیسی پر گامزن دکھائی دیتی ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی حکومت سیاسی طور پر مزید مستحکم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ فروری 2026 کے عام انتخابات میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے واضح اکثریت حاصل کی۔ بنگلہ دیشی انتخابی نتائج کے مطابق بی این پی نے 209 نشستیں جبکہ اس کے اتحادیوں نے مزید تین نشستیں حاصل کیں، یوں اتحاد کو مجموعی طور پر 212 نشستیں ملیں۔ اسی سیاسی پس منظر میں صدر محمد شہاب الدین کا استعفیٰ بھی انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ شہاب الدین نے 24 جولائی 2026 کو صحت کی خرابی کو استعفے کی وجہ قرار دیتے ہوئے منصب چھوڑ دیا، جس کے بعد پارلیمنٹ کے سپیکر حفیظ الدین احمد نے نئے صدر کے انتخاب تک صدارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ شہاب الدین سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور میں صدر منتخب ہوئے تھے اور ان کا استعفیٰ بنگلہ دیش کے موجودہ سیاسی نظام میں ایک اہم تبدیلی سمجھا جارہا ہے۔
بلال غوری بنگلہ دیش کی بری فوج کے سربراہ جنرل وقار الزماں کے کردار کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش کے موجودہ حالات میں سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ فوج کا سربراہ سیاسی تبدیلیوں کے دوران کس حد تک غیر سیاسی اور آئینی کردار برقرار رکھتا ہے اور مستقبل میں اس کا طرزِ عمل کیا ہوگا۔ جنرل وقار الزماں نے گزشتہ برس ہندوؤں کے مذہبی تہوار جنم اشٹمی کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی سیکولر شناخت اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ برابری پر زور دیا تھا۔ انہوں نے مذہبی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کو ملک کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔ تاہم بلال غوری کے مطابق بعد کے عرصے میں ان کے بعض خطابات میں اسلامی اقدار اور اسلامی معاشرے کے قیام پر زیادہ زور نمایاں ہوا۔
ان کے مطابق جنرل وقار الزماں نے ایک حالیہ تقریب میں معاشرے سے بدعات کے خاتمے، اسلامی اقدار کے فروغ اور ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت پر بات کی جس میں اسلامی اقدار کے ساتھ جدید تعلیم بھی شامل ہو۔ بلال غوری کے نزدیک جنرل وقار الزماں کے ان بیانات کی وجہ سے بعض حلقوں میں ان کا موازنہ پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق سے کیا جانے لگا ہے۔
تاہم بلال غوری اس موازنے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی فوج میں مذہبی نوعیت کی اصطلاحات یا نعروں کا استعمال کوئی نئی چیز نہیں اور محض ایک بٹالین کے جنگی نعرے میں ’’اللہ اکبر‘‘ شامل کیے جانے کو بنگلہ دیش کے پاکستان کی طرف جھکاؤ کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بنگلہ دیش ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور اس کی مسلح افواج میں پہلے بھی اسلامی تاریخ سے وابستہ نام استعمال ہوتے رہے ہیں۔ اسی طرح ان کے مطابق بھارت، جو خود کو سیکولر ریاست قرار دیتا ہے، اس کی فوج کی مختلف رجمنٹس میں بھی مذہبی اور ثقافتی نوعیت کے جنگی نعرے استعمال ہوتے ہیں، جن میں ہندو، سکھ اور دیگر مذہبی روایات سے وابستہ اصطلاحات شامل ہیں۔
اس تناظر میں بلال غوری کا استدلال ہے کہ اگر بنگلہ دیشی فوج کی کسی نئی بٹالین میں ’’اللہ اکبر‘‘ کو بطور نعرہ اختیار کیا گیا ہے تو اسے لازماً پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے جوڑنے کی کوئی مضبوط وجہ نہیں۔ ان کے مطابق اصل اہم سوال مذہبی نعرہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ جنرل وقار الزماں بنگلہ دیش کے مستقبل کے سیاسی نظام میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ جنرل وقار الزماں نے 23 جون 2024 کو بنگلہ دیشی بری فوج کے سربراہ کا منصب سنبھالا تھا۔ بنگلہ دیشی فوج کی سرکاری ویب سائٹ بھی ان کی تعیناتی کی یہی تاریخ بتاتی ہے۔ بلال غوری کے مطابق ان کی مدت ملازمت جون 2027 میں مکمل ہونی ہے اور موجودہ حالات میں ان کی مدت میں توسیع کے امکانات واضح نہیں ہیں۔ بلال غوری اس سلسلے میں بنگلہ دیش کی سابقہ فوجی اور سیاسی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ ملک میں کئی مرتبہ فوجی حکمران اقتدار میں آئے، تاہم سویلین حکومتوں کے ادوار میں فوج کے سربراہ کو مدت ملازمت میں توسیع دینے کی روایت مضبوط نہیں رہی۔ ان کے خیال میں جنرل وقار الزماں کے معاملے میں بھی اس وقت کسی غیر معمولی توسیع کے امکانات دکھائی نہیں دیتے۔
تجزیے کا سب سے دلچسپ حصہ وہ ہے جہاں بلال غوری جنرل وقار الزماں کا موازنہ جنرل ضیاء الحق کے بجائے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ مرزا سے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جنرل اسلم بیگ کو بھی ایک موقع پر قیادت کا خلا پیدا ہونے کے باعث اقتدار سنبھالنے کا امکان حاصل تھا لیکن انہوں نے براہ راست اقتدار پر قبضہ نہیں کیا، اگرچہ بعد کے برسوں میں ان کے بارے میں ایسے خدشات موجود رہے کہ وہ کسی بھی وقت منتخب حکومت کو برطرف کرکے مارشل لا نافذ کرسکتے ہیں۔
نئے صوبے بنائیں مگر سندھ اور پنجاب کی شناخت نہ چھینیں
بلال غوری کے خیال میں بنگلہ دیش کے موجودہ حالات کو اسلام آباد کے سیاسی حالات کے ساتھ براہ راست ملانا درست نہیں ہوگا۔ ڈھاکا کی سیاسی، عسکری اور آئینی صورتحال اپنی مخصوص تاریخ رکھتی ہے اور موجودہ حکومت بھی پارلیمانی طور پر خاصی مضبوط پوزیشن میں ہے۔
یوں بنگلہ دیش کی موجودہ سیاست میں بیک وقت تین بڑے سوالات اہمیت اختیار کرگئے ہیں: طارق رحمان بھارت کے ساتھ تعلقات کو کس حد تک آگے بڑھاتے ہیں، نئی دہلی شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے معاملے پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور جنرل وقار الزماں اپنی مدت ملازمت کے اختتام تک کس نوعیت کا سیاسی و آئینی کردار ادا کرتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں طارق رحمان کی بھارت سے قربت بڑھانے کی کوشش ضرور نمایاں ہے، لیکن اسے حسینہ واجد کی حوالگی کے مطالبے سے دستبرداری قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا، کیونکہ ڈھاکا خود کہہ چکا ہے کہ دونوں معاملات کے درمیان اہم سفارتی پیچیدگیاں موجود ہیں۔
