نئے صوبے بنائیں مگر سندھ اور پنجاب کی شناخت نہ چھینیں

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ ساز نئے صوبے ضرور بنائیں لیکن دشمن کے منصوبوں سے بھی ہوشیار رہیں جو مختلف علیحدگی پسند تحریکوں کی پشت پناہی کرکے پاکستانی قوم کو آپس میں لڑوانے اور اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کسی کی مخالفت نہیں بلکہ آئین اور تاریخی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہونی چاہیے اور ایسے کسی فیصلے سے گریز کیا جائے جس سے سندھ، پنجاب یا کسی دوسرے صوبے کی تاریخی شناخت متاثر ہو۔
حامد میر نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دوست نے ان سے سوال کیا کہ وہ نئے صوبوں کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں، جس پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ نئے صوبوں کے مخالف نہیں بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ نئے صوبے 1973ء کے آئین کی دفعہ 239 کی ذیلی شق 4 کے مطابق بنائے جائیں۔ ان کے مطابق جس صوبے کی اسمبلی نئے صوبے کے قیام کے حق میں فیصلہ دے، وہاں نیا صوبہ ضرور بنایا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ اسی دوست نے انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی نئے صوبوں کی مخالفت کرے گا، اسے نقصان اٹھانا پڑے گا۔ حامد میر کے بقول اسی گفتگو کے دوران ان کے دوست، جو اتفاق سے مسلم لیگ ن کے وزیر بھی ہیں، نے ہنستے ہوئے سوال کیا کہ اگر نئی آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام کا کوئی راستہ نکال لیا جائے تو کیا انہیں پھر بھی اعتراض ہوگا؟ حامد میر نے جواب دیا کہ اعتراض کرنے والے وہ کون ہوتے ہیں، حکومت اپنی مرضی سے آئین میں تبدیلی کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق وزیر دوست نے اس پر کہا کہ حکومت اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرتی بلکہ جو کچھ کرتی ہے قومی مفاد میں کرتی ہے، جس کے بعد یہ گفتگو ختم ہوگئی۔
انہوں نے بتایا کہ چند روز بعد انہوں نے ایک وی لاگ میں صرف اتنی گزارش کی کہ پاکستان میں نئے صوبے ضرور بنائے جائیں لیکن سندھ اور پنجاب سے ان کی شناخت نہ چھینی جائے۔ حامد میر کے مطابق لفظ ’’پاکستان‘‘ کی تشکیل کے حوالے سے تاریخی بحث کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ اس نام میں پنجاب، افغانیہ یعنی موجودہ خیبر پختونخوا، کشمیر، سندھ اور بلوچستان کی نمائندگی کا تصور موجود تھا۔ حامد میر نے ان لوگوں کو بھی جواب دیا جنہوں نے ان کے مؤقف پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر لفظ پاکستان چار خطوں کی نمائندگی کرتا ہے تو قیام پاکستان کے وقت مشرقی بنگال بھی پاکستان کا حصہ تھا، پھر پاکستان کے نام میں بنگال کی نمائندگی کیوں نظر نہیں آتی؟ انہوں نے کہا کہ ایسا سوال وہی شخص اٹھا سکتا ہے جو تاریخ سے ناواقف ہو لیکن خود کو عقلِ کل سمجھتا ہو۔
ان کے مطابق ’’پاک ستان‘‘ کے تصور کو ایک علیحدہ ریاست کے نام کے طور پر چوہدری رحمت علی نے 1933ء میں اپنے مشہور پمفلٹ ’’Now or Never‘‘ میں پیش کیا۔ ابتدا میں یہ نام ’’PAKSTAN‘‘ تھا اور بعد میں اسلام کی نمائندگی کے لیے اس میں ’’I‘‘ شامل کرکے ’’PAKISTAN‘‘ بنایا گیا۔
حامد میر کے مطابق چوہدری رحمت علی کے تصور میں ’’پاک ستان‘‘ میں دہلی سمیت پورا پنجاب شامل تھا جبکہ افغانیہ، کشمیر، سندھ اور بلوچستان کو بھی اس مجوزہ ملک کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق چوہدری رحمت علی نے بنگال اور آسام کے لیے ایک الگ ملک ’’بنگستان‘‘ کا تصور بھی پیش کیا تھا۔ حامد میر نے لکھا کہ 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں منظور ہونے والی قرارداد میں لفظ پاکستان استعمال نہیں ہوا تھا بلکہ شمال مغربی اور مشرقی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ’’ریاستوں‘‘ کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
حامد میر کے مطابق آل انڈیا مسلم لیگ بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے حق میں نہیں تھی، تاہم جب مسلم لیگ کو یہ یقین ہوگیا کہ برطانوی حکومت اور کانگریس کے درمیان سیاسی سمجھوتے کے نتیجے میں بنگال کی تقسیم ہوسکتی ہے تو 1946ء میں دہلی میں ایک قرارداد منظور ہوئی جس میں متحدہ بنگال کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے بنگال کو پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق 1947ء میں مشرقی بنگال پاکستان کا حصہ بن گیا، لیکن 1971ء میں پاکستان سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ ان کی گزارش صرف یہ ہے کہ نئے صوبے ضرور بنائے جائیں لیکن ان صوبوں کی شناخت نہ چھینی جائے جن کی اسمبلیوں نے قیام پاکستان کے حق میں فیصلے کیے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ اسمبلی نے 1943ء میں جبکہ پنجاب اسمبلی نے 23 جون 1947ء کو پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے میں بھارت کی مثال پیش کرتے وقت دونوں ملکوں کی آبادی اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں 1947ء میں نو ریاستیں تھیں جبکہ آج وہاں 28 ریاستیں اور آٹھ وفاق کے زیر انتظام یونٹ موجود ہیں، لیکن انڈیا کی آبادی پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے جو پاکستان کی مجموعی آبادی کے برابر بنتی ہے، جبکہ بہار کی آبادی 13 کروڑ اور مہاراشٹرا کی آبادی 12 کروڑ کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی آبادی 12 کروڑ سے زائد جبکہ سندھ کی آبادی تقریباً چھ کروڑ ہے۔
حامد میر نے خبردار کیا کہ پاکستان کے دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو پہلے ہی سنگین مسائل کا سامنا ہے جبکہ آزاد کشمیر میں بھی بے چینی پیدا ہوچکی ہے، اس لیے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی بھی قدم انتہائی احتیاط سے اٹھایا جانا چاہیے۔ ان کے بقول ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے دشمن فائدہ اٹھائے اور پاکستان کے اندر مختلف قوموں اور صوبوں کے درمیان نفرتوں کو ہوا دینے میں کامیاب ہوجائے۔ انہوں نے چوہدری رحمت علی کے تصور پاکستان کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے مجوزہ پاکستان میں بھارتی پنجاب بھی شامل تھا جبکہ ’’بنگستان‘‘ میں مغربی بنگال اور آسام کے علاقے شامل تھے۔ حامد میر نے اس تناظر میں بھارت کے قومی ترانے میں سندھ کے لفظ کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے تصور کی تاریخ قیام پاکستان سے بھی پرانی ہے اور اس تناظر میں پاکستان کو اپنے گردوپیش کے سیاسی عزائم سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ چوہدری رحمت علی نے 1943ء سے 1946ء کے دوران پاکستان اور بنگستان سمیت جنوبی ایشیا میں متعدد مسلم ریاستوں کے قیام کا تحریری تصور پیش کیا تھا۔ انکے مطابق چوہدری رحمت علی نے مختلف مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے حیدرستان، فاروقستان، صدیقستان، معینستان، عثمانستان، ماپلستان، صفستان اور نثارستان جیسے نام تجویز کیے، جبکہ سکھوں کے لیے الگ ریاست ’’سکھستان‘‘ اور ہندوؤں کے لیے ’’ہندوستان‘‘ کا تصور بھی پیش کیا تھا۔
حامد میر کے مطابق چوہدری رحمت علی جنوبی ایشیا میں ان مختلف مسلم ریاستوں کو ایک مشترکہ کامن ویلتھ میں منظم کرکے ’’اکھنڈ بھارت‘‘ اور ’’رام راج‘‘ کے تصورات کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہدری رحمت علی کی سوچ کو آج بعض لوگ غیرحقیقت پسندانہ قرار دے سکتے ہیں، تاہم وہ دراصل برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ایک مخصوص تصور پیش کر رہے تھے۔ حامد میر نے موجودہ بھارتی سیاست اور مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں مذہبی انتہاپسندی کے عزائم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ویب سیریز ’آپریشن سفید ساگر‘ : مشرف نے واجپائی کو سلیوٹ کیوں نہیں کیا؟
حامد میر نے طاقتور پاکستانی فیصلہ سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں ملک میں نئے صوبے بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ضرور بنائیں، لیکن اس عمل میں آئین، تاریخ، عوامی رضامندی اور صوبوں کی شناخت کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے دشمن ایسے کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے پاکستانی قوم کو آپس میں لڑایا جاسکے۔ ان کے بقول نئے صوبوں کی تشکیل انتظامی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ہونی چاہیے، ایسا سیاسی اقدام نہیں بننا چاہیے جس سے سندھ، پنجاب یا کسی دوسرے صوبے کے عوام میں محرومی، عدم تحفظ یا علیحدگی پسندی کے جذبات کو تقویت ملے۔
حامد میر نے واضح کیا کہ ان کا مؤقف نئے صوبوں کی مخالفت نہیں بلکہ اس بات پر زور ہے کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کے قیام کا عمل آئینی طریقہ کار اور تاریخی حساسیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ ان کے مطابق فیصلہ ساز اگر نئے صوبے بنانا چاہتے ہیں تو ضرور بنائیں، تاہم انہیں اس بات سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا کہ اندرونی اختلافات اور صوبائی شناخت کے معاملات سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کے مخالف عناصر ملک میں نئی تقسیم اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش نہ کریں۔
