مہنگائی نے فریضہ حج کی ادائیگی بھی مشکل بنا دی

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ایک عام پاکستانی کے لیے حج کا فریضہ ادا کرنا بھی خواب بنتا چلا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے برس کی طرح اس سال بھی حج اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے 11 فروری کو حج پالیسی 2020 کی منظوری دی جس کے تحت گزشتہ برس کی نسبت حج اخراجات میں تقریباً ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اخراجات میں نئے اضافے کے بعد اس برس حج چار لاکھ 90 ہزار میں ادا کیا جا سکے گا۔ تاہم عوام نے حج اخراجات میں مزید اضافے کو مسترد کردیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس حج اخراجات چار لاکھ 56 ہزار تھے۔ جبکہ سعودی عرب نے 5 ہزار اضافی عازمین کی اجازت دی تھی جس کے تحت ایک لاکھ 84 ہزار 210 پاکستانیوں نے حج ادا کیا تھا۔ اس برس ایک لاکھ اسی ہزار پاکستانی حاجی ادا کر سکیں گے۔
فریضہ حج ادا کرنے کے متمنی روالپنڈی کے رہائشی 61 سالہ عمیر درانی نے حج اخراجات میں اضافے پر حکومت وقت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کم از کم حکومت کو اللہ کے گھر جانے والے پاکستانیوں کی جیب صاف کرتے ہوئے تو شرم آنی چاہیے۔ عمیر نے گذشتہ برس سرکاری حج سکیم میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ درخواست دی تھی اور اس برس بھی حج کی سعادت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے حکومت کی جانب سے حج پالیسی 2020 کے اعلان کے بعد اپنا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے حج کو غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔‘ عمیر درانی کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ برس بھی حج درخواست جمع کروائی تھی لیکن نام نہ آیا تو سوچا کوئی بات نہیں اگلے برس چلے جائیں گے، لیکن اب اتنا مہنگا کر دیا گیا ہے کیا کریں جیسا بھی ہے کوشش کریں گے کچھ نہ کچھ انتظام کریں لیکن بہت مشکل لگ رہا ہے۔‘
عمیر بتاتے ہیں کہ ’حج کے لیے ہم پورا سال پیسے جمع کرتے ہیں، کچھ رقم بچے دے دیتے ہیں لیکن پھر بھی ہر بار کچھ نہ کچھ پیسے کم پڑ جاتے ہیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ ‘اس برس میری اور اہلیہ کی حج فیس میں فی کس کم از کم 40 ہزار روپے کا فرق پڑا ہے اور وہ اضافہ الگ ہے جو روپے کی قدر میں کمی کے باعث سعودی عرب جا کر برداشت کرنا پڑیں گے۔’ عمیر درانی ایک نجی کمپنی میں ماہانہ 50 ہزار روپے تنخواہ پر ملازت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’ آپ بتائیں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا کیسے حج کر سکتا ہے؟ حج کو سستا کرنا حکومت کی پالیسی میں ہونا چاہیے۔
عمیر درانی کہتے ہیں کہ ‘حکومت کی حج پالیسی کا دوسرا بڑا مسئلہ سرکاری حج اور نجی حج ٹور آپریٹرز کا کوٹہ ہے۔’ ‘نجی حج آپریٹرز بہت مہنگے ہیں وہ لوٹ مار کرتے ہیں، گذشتہ برس پرائیویٹ حج 13 لاکھ روپے تک کا تھا، عام آدمی تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا۔’ ان کے نزدیک ‘حکومت کو اس کوٹے کو کم کرنا چاہیے، 40 فیصد نجی آپریٹرز کو دینا غریب آدمی کے ساتھ زیادتی ہے، یہ کوٹہ صرف 20 فیصد ہو۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ متوسط کے صاحب استطاعت افراد حج کا فریضہ ادا کر سکیں۔’
دوسری طرف وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے حج اخراجات میں اضافے کے حوالے سے کہس کہ اس کی بنیادی وجہ سعودی ائیر لائن کے کرائے میں اضافہ اور کرنسی کی قیمت میں کمی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’حکومت نے خود سے ایک روپے کا اضافہ بھی نہیں کی لیکن سعودی عرب نے چند فیسوں کو لازمی قرار دیا ہے جن میں 300 ریال ویزا فیس اور 110 ریال ہیلتھ انسورنش فیس شامل ہے۔‘ ’منیٰ میں ٹرین کی فیس 250ریال سے بڑھ کر 500ریال ہو گئی ہے۔ مکہ مکرمہ میں بلڈنگز کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ‘ہم نے گذشتہ برس ساڑھے پانچ ارب روپے حاجیوں کو واپس کئے۔’ حج پالیسی 2020 کے تحت دس ہزار نشتیں 70 برس کی عمر سے زائد بزرگوں کے لیے مختص کی جائیں گی۔ ایسے افراد جوگزشتہ تین برسوں میں سرکاری سکیم کے تحت حج کی سعادت حاصل نہیں کرسکے ان کو یہ سعادت فراہم کی جائے گی بشرطیکہ انھوں نے ان برسوں میں نجی سیکٹر کے ذریعے حج کی سعادت حاصل نہ کی ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button