مہنگی بجلی کیخلاف ملک بھر میں احتجاج، مظاہرے

مہنگی بجلی کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے، احتجاج، ریلیاں، جماعت اسلامی ہفتہ دو ستمبر سے شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان کرے گی۔جماعت اسلامی نے بجلی کے بھاری بلوں کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان بھی کیا ہے جبکہ ریلیف کے معاملے پر آئی ایم ایف نے دو ٹوک جواب دیا ہے کہ بجلی کے بل جتنے بھی آئیں ادائیگی کرنا پڑے گی۔
لاہور میں ہربنس پورہ پل جانب جلوموڑ کی طرف 200 سے زائد مرد و خواتین نے بجلی بلز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کینال روڈ کو بلاک کر دیا، سی ٹی او لاہور نے سرکل آفیسر کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو متبادل راستے فراہم کیے جائیں۔گوجر خان میں بجلی کے اضافی بلوں کے خلاف جی ٹی روڈ پر مظاہرہ کیا گیا جس میں مظاہرین نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بجلی کے بلوں میں کیا گیا اضافہ فوری واپس لیا جائے اور بجلی کے بلوں میں لگائے گئے بے تحاشا ٹیکسسز بھی واپس لینے کا اعلان کیا جائے۔
مظاہرین نے جی ٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کر دی اور آئیسکو کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ جی ٹی روڈ بند ہونے سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، گوجر خان مظاہرے میں تحصیل بار نمائندے، تاجر اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔اوکاڑہ میں بھی احتجاج جاری ہے۔ صدر انجمن تاجران اوکاڑہ شیخ ریاض انور کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے بجلی کے بلوں میں اضافے کو فوری واپس لیا جائے۔بجلی بلوں کے خلاف مری میں بھی مکمل شٹر ڈاون ہڑتال ہے۔مرکزی انجمن تاجران مری کی کال پر بجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافے اور طوفانی مہنگائی کے خلاف مری میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔مری کے ٹرانسپوٹرز نے بھی مرکزی انجمن تاجران مری کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔
وہاڑی میں انجمن تاجران کی کال پر پورا وہاڑی بند ہے جبکہ چشتیاں میں بجلی بلوں میں اضافے پر شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔ ملتان میں انجمن تاجران کی کال پر مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسز کیخلاف مکمل شٹر ڈاون ہڑتال ہے۔ چوک کچہری پر بڑھتی مہنگائی کے خلاف وکلا اور جماعت اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔مرکزی انجمن تاجران کی ہدایت پر حویلی لکھا میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان یں آل پاکستان انجمن تاجران کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر شہر کی مارکیٹیں بند ہیں۔
شہر میں بجلی کے بلوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف اسکول کے بچے بھی روڈ پر آگئے۔ چک مدرسہ میں بچوں نے مظاہرہ کیا۔ ننھے طلبہ نے کہا کہ ہمارے والدین فیس دے یا اتنے بڑے بڑے بل ادا کریں۔بجلی بلوں میں ظالمانہ اضافے کے خلاف آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی جاری ہے۔ شہر بھر میں بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔
