میری گھڑی میری مرضی

تحریر : حماد غزنوی ، بشکریہ:روزنامہ جنگ
کچھ برس پہلے ایک کتاب بہت معروف ہوئی،’ وائے نیشنز فیل‘ (اسبابِ زوالِ اقوام) گو کہ پوری کتاب میں پاکستان کا نام یا حوالہ ایک بار بھی استعمال نہیں ہوا لیکن معجزہ یہ ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے ایک ایک صفحہ پر پاکستان کا خیال آتا ہے، اشرافیہ کا مگر مچھ کس طرح ملکی وسائل کو اپنے طاقت ور جبڑوں میں دبوچ لیتا ہے اور کروڑوںلوگ بھوک، بیماری اور جہالت کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں، اشرافیہ کےلئے ایک قانون اور عوام کے لئےدوسرا، طاقت ور قتل کرے تو کہتا ہے ’میری بندوق میری مرضی‘ ، حکمراں اشرافیہ غریب شہریوں کے ٹیکس کا پیسہ اللّے تللّوں میں اڑا دے اور حساب مانگا جائے تو جواب آئے ’میری حکومت میری مرضی‘ ۔یہ ہے خلاصہ اس کتاب کا، قومیں ایسے برباد ہوتی ہیں، ملک ایسے ناکام ہوتے ہیں۔
اس کتاب کا خیال سابق وزیرِ اعظم جناب عمران خان کے ایک بیان سے آیا جس میں انہوں نے توشہ خانے کی گھڑیاں بیچنے کے حوالے سے فرمایا کہ’’ گھڑی (در اصل گھڑیاں) مجھے تحفے میں ملی تھی اور میں نے بیچ دی‘‘ یعنی ’میری گھڑی میری مرضی‘۔ کیا مسٹر صادق و امین درست فرما رہے ہیں؟ یہ واقعی اتنی سادہ سی بات ہے؟ یا یہ ’وائے نیشنز فیل‘ کی موزوں ترین تفسیر ہے؟سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ گھڑی ’مجھے‘ تحفے میں نہیں ملی تھی، وہ وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تحفے میں ملی تھی۔ کیا آپ کو پچھلے آٹھ مہینے میں کسی ملک نے تحفے میں گھڑی پیش کی ہے؟ لہٰذا ’مجھے‘ کا استعمال ہی غلط ہے۔عمران خان اگر واقعی توشہ خانے کے تحائف کی خرید وفروخت کو اتنا ہی معمولی عمل سمجھتے تھے تو پھر انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو کیوں کہا تھا کہ انہیں ملنے والے تحفے ایک ’قومی راز‘ ہیں اور اس بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی جائیں گی، حضرت عمرؓ کی دو چادروں پر سوال ہو جاتا تھا، یہ مثال خان صاحب سے ہم نے درجنوں بار سنی تھی مگر جب عمل کی باری آئی تو ریاستِ مدینہ کا ورد کرنے والے نے دوسری چادر کو ـ
’قومی راز‘ قرار دے دیا۔ جس رپورٹر (رانا ابرار)نے 2019 میں یہ خبر بریک کی تھی، اس کا ناطقہ کیوں بند کیا گیا؟ اسے نوکری سے کیوں نکلوایا گیا؟ اس کو اور اس کے اہلِ خانہ کو دھمکیاں کیوں دی گئیں؟عمران خان کے فینز کہتے ہیں کہ گھڑی فروشی ایک غیر اخلاقی بات تو ہو سکتی ہے، غیر قانونی عمل تو نہیں ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ اس گھڑی کی خرید و فروخت کے باب میں کم از کم درجن بھر قوانین توڑے گئے ہیں، گھڑی ملی تو توشہ خانے میں جمع نہیں کروائی گئی، قیمت کے تعین کے لئے کمیٹی بنائی گئی تو اس میں متعلقہ ماہر جواہرات کو شامل نہیں کیا گیا، خود ہی تحفہ لینے کی رقم بیس فی صد سے بڑھا کر پچاس فی صد کی اور پھر خود ہی سب سے پہلے اس قانون کو پامال کیا، جس رقم سے گھڑی خریدی وہ کہاں سے آئی؟ کچھ نہیں بتایا، دو سال تک اپنے گوشواروں میں تحفے بیچ کے حاصل ہونے والی رقم ظاہر نہیں کی، گھڑی بیچنے کی جعلی رسید بنوائی، گھڑی دبئی اسمگل کی، دبئی سے پیسے پاکستان غیر قانونی طریقے سے لائے گئے اور پھر خان صاحب نے وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے گھڑی فروشی کا کاروبار منفعت کی غرض سے کیاجو کہ بذاتِ خود ایک غیر قانونی عمل ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ توشہ خانہ قانون کے تحت رقم جمع کروا کر تحفہ ’ری ٹین‘ کرنے کا ذکر ہے، نہ وہ تحفہ ’خریدا‘ جاتا ہے، نہ بیچا جا سکتا ہے۔اس خریدوفروخت کا غالباً سب سے دلچسپ پہلو خان صاحب کی ’کیش‘ سے الفت ہے، یعنی خان صاحب نے توشہ خانے میں دو کروڑ روپے کیش جمع کروائے،
ادھر فرح گوگی صاحبہ نے دبئی کے ایک تاجر کو دو ارب روپے کی گھڑی تقریباً پچاس کروڑمیں اس لئے بیچ دی کیوں کہ وہ رقم کیش میں لینا چاہتی تھیں۔کروڑوں روپے کی خرید و فروخت کیش میں یا تو چوری کے مال کی ہوتی ہے یا منشیات میں، خان صاحب توکوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے تھے، پھر کیش پر اصرار کیوں؟ یہ کوئی راز تو نہیں ہے کہ کروڑوں روپے کی ادائیگی کیش میں منی ٹریل چھپانے کے لئے کی جاتی ہے۔خان صاحب کو دوسروں سے منی ٹریل مانگنے کا بہت شوق تھا مگر اپنے لئے وہ مختلف قانون چاہتے ہیں، خان صاحب آپ ہر تقریر میں بتاتے ہیں کہ جس معاشرے میں طاقت ور اور کم زور کے لئےالگ الگ قانون ہو، وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں اور جب آپ سے سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتے ہیں میری گھڑی میری مرضی۔
اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کا یہ رویہ صرف گھڑی تک محدود نہیں ہے، ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے عوام کے ٹیکس کے پیسے میں سے 250ارب روپے عارف نقوی اور 50ارب روپے ملک صاحب کو کیوں تحفہ دیے اور اس کے بدلے کیا وصول کیا؟ تو جواب آتا ہے ’میری مرضی‘، ان سے فارن فنڈنگ کا حساب مانگا جائے تو کہتے ہیں’’ میرا فنڈ میری مرضی‘‘، ان سے فنانشل ٹائمز کی خبر کا جواب مانگا جائے تو ارشاد ہوتا ہے’’ میری خیرات میری مرضی‘‘، خان صاحب آپ نے ’وائے نیشنز فیل‘ تو پڑھی ہوگی؟
