میر حسن کی موت کا ذمہ دار کون؟ کپتان یا ہم لوگ خود

وزیر اعظم عمران خان کو ایک خط کے ذریعے اپنی بے روزگاری اور مشکلات سے آگاہ کرنے کے بعد کوئی جواب نہ ملنے پر خود سوزی کر کے مرنے والے کراچی کے غریب رہائشی اور پانچ کمسن بچوں کے باپ میر حسن کی المناک موت کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا اس کی موت کا ذمہ دار کپتان ہے یا پاکستانی معاشرہ؟
اپنے سردی سے ٹھٹھرتے بچوں کا گرم کپڑوں کامطالبہ پورا نہ کر سکنے پر میر حسن نے خود کشی کر لی، غریب باپ نے خود کشی کرنے سے پہلے ادھر ادھر کافی ہاتھ پاؤں مارے تا کہ کہیں سے کوئی ادھار مل جائے یا کوئی ہمسایہ کوئی رشتہ دار ہی اسے بچوں کے لیے کچھ گرم کپڑے دے دے لیکن ہر طرف سے جواب ملنے کے بعد اس نے وزیراعظم عمران خان کے نام خط لکھا اور اپنی بے روزگاری اور غربت کا ذکر کرتے ہوئے روٹی اور کپڑا حاصل کرنے کے لیے ایک نوکری کا مطالبہ کیا۔ تاہم کوئی جواب نہ ملنے پر وہ بچوں کا سامنا نہیں کر پا رہا تھا چنانچہ کراچی کورنگی ابراہیم حیدری سے تعلق رکھنے والے میر حسن نے خود کشی کا فیصلہ کیا۔ ایک قریبی قبرستان میں اس نے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لی، لوگوں نے زخمی حالت میں میرحسن کو ہسپتال پہنچایا لیکن جسم کا 70 فیصد حصہ جل جانے سے وہ شدید جھلس چکا تھا۔ اسے سول ہسپتال میں داخل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا اور اس دنیا کے مسائل سے سدا کے لئے چھٹکارا پا گیا۔
ملک بھر میں سردی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں شہر قائد میں بھی سردی اپنے عروج پر ہے، ایسے میں بچوں نے گرم کپڑوں کی فرمائش کی اور شاید اس سرد موسم میں یہ ان کا حق بھی بنتا تھا لیکن والد ان کی فرمائش تو پوری نہ کر سکا لیکن دل میں ارمان لئے خود اس دنیا سے رخصت ہو گیا، اس حوالے سے اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ تین ماہ سے بے روزگار تھا اور انہی حالات نے اسے ایسا قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ اس نے خودکشی سے قبل وزیر اعظم سے اپیل کی کہ اہل خانہ کو گھر اور روزگار فراہم کیا جائے لیکن اس کی آواز ایوان وزیر اعظم تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی روح آسمان کی بلندیوں تک پہنچ گئی۔ سوشل میڈیا صارفین کا میر حسن کی المناک موت پر کہنا ہے کہ عمران خان ریاست مدینہ بنانے کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن انھیں یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ چوبیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی۔ آج یہاں ایک انسان نے بھوک اور افلاس کے ہاتھوں تنگ آ کر موت کو گلے لگا لیا لیکن حکمران اپنے اقتدار کے نشے میں مدہوش ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button