پاکستانی انقلابی نعروں کی گونج اب بھارت میں کیوں؟

پاکستان کے درودیوار اور سڑکوں پر سنائی دینے والے اسٹیبلشمنٹ مخالف انقلابی نعرے اب بھارت میں بھی گونجنا شروع ہو گئے ہیں حالانکہ وہاں نہ کبھی کوئی مارشل لاء لگا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جرنیل منتخب حکومت الٹا کر اقتدار میں آیا ہے۔
‘یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے’ ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے’ جس دیس کے حاکم ظالم ہوں’ ‘سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے’ سمیت کئی انقلابی نعرے حال ہی میں پاکستان بھر میں ہونے والے گرینڈ سٹوڈنٹس الائنس کے مظاہروں میں سنائی دیے تھے۔ پاکستانی طلبا نے ڈفلی کی تھاپ پر لاہور کراچی اسلام آباد پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں یہ انقلابی نعرے لگاتے اور گاتے ہوئے سٹوڈنٹس یونین پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہی نعرے اب بھارت میں متنازعہ شہریت کا قانون نافذ ہونے کے بعد انڈیا کے مختلف شہروں میں سنے جا رہے ہیں۔
پاکستانی لیفٹ کی طلبہ تحریک کے دوران بنائے جانے والے انقلابی نعرے تمام تر پابندیوں کے باوجود سوشل میڈیا کے ذریعے ٹرانسفر ہو کر بھارت اور کشمیر کی گلی گلی میں گونج رہے ہیں۔ پاکستان میں مختلف ادوار کے دوران آمر بر سر اقتدار رہے ہیں، آمرانہ دور حکومت میں غلط اور جابرانہ پالیسیوں کے تحت ملک کو دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے والی آمرانہ سوچ کے خلاف لگایا جانے والا مقبول ترین نعرہ ‘یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے’ اب بھارت اور کشمیر میں بھی سنائی دے رہا ہے، اگرچہ بھارت میں کبھی بھی فوج برسر اقتدار نہیں رہی لیکن مودی سرکار کے حالیہ شہریت کے متنازع قانون کے بعد مسلمانوں کو بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنانے پر اب یہ نعرے کشمیر اور انڈیا کی سڑکوں، چوکوں اور چوراہوں پر سنائی دے رہا ہے اور ٹوئٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔
فیض احمد فیض کی نظم ‘ہم دیکھیں گے، حبیب جالب کی نظم ‘دستور’ اور “ بسمل نظیر آبادی” کی نظم “سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے” بھارت میں ترانوں کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ پاکستان میں طلباء تحریک کے دوران طالبہ عروج عالمگیر اور اس کے ساتھیوں نے نظم سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے اس نئے انداز سے پڑھی جو طلباء تحریک کا ترانہ بن گئی۔ اب یہی نظم بھارت کے طلبا کا ترانہ بن چکی ہے اور شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خون کو گرما رہی ہے۔
انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون سی اے اے کے خلاف جاری عوامی تحریک میں پاکستان سے منتقل ہونے والے نعرے اور نظمیں احتجاج میں نئی روح پھونک رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوتے دکھائی دیتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button