نئی فوجی قیادت کا طالبان کا دباؤ نہ لینے کا فیصلہ

جنرل قمر باجوہ کی جگہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے ساتھ ہی تحریک طالبان کی جانب سے سیز فائر ختم کرتے ہوئے پاکستان بھر میں حملے شروع کرنے کے اعلان کا اصل مقصد نئے فوجی سربراہ کو کو دوبارہ مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی قیادت دہشت گردوں کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور نہ ہی ان کا دباؤ لے گی۔ یاد رہے کہ جنرل باجوہ کے دور میں فوج نے فیض حمید کے ذریعے تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا عمل شروع کیا تھا جو ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئی مطالبات کے باعث ناکامی کا شکار ہو گیا۔ مذاکرات کی ناکامی کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ تحریک طالبان نے معاہدے کے باوجود پاکستانی سکیورٹی فورسز پر دہشت گرد حملے جاری رکھے۔
اب تحریک طالبان پاکستان نے فوج کے ساتھ جون 2022 میں طے پانے والا سیز فائر ختم کرتے ہوئے اپنے دہشت گردوں کو ملک بھر میں حملے شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’تحریک طالبان کی وزارت دفاع تحریک کے تمام گروپ لیڈرز، مسئولین تحصیل اور والیان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ملک بھر میں جہاں بھی آپ کی رسائی ہوسکتی ہے حملے کریں‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بنوں کے ضلع لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں عسکری اداروں کی طرف سے مسلسل آپریشنز ہو رہے ہیں اور اقدامی حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے‘۔پاکستان کے عوام کو مخاطب کرکے کالعدم ٹی ٹی پی نے کہا کہ ’ہم نے بارہا آپ کو خبردار کیا اور مسلسل صبر سے کام لیا تاکہ مذاکراتی عمل کم از کم ہماری طرف سے سبوتاژ نہ ہو، مگر فوج اور خفیہ ادارے باز نہ آئے اور حملے جاری رکھے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اب پاکستان بھر میں ہمارے انتقامی حملے بھی شروع ہوں گے‘۔
دوسری جانب حکومت اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔ لیکن عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی فوجی قیادت تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی لیکر نہیں چلے گی کیونکہ اس کا نقصان ہوا ہے اور دہشت گردوں نے ایک بار پھر پاکستان کا رخ کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستانی حکومت کے مذاکرات اکتوبر 2021 میں شروع ہوئے تھے لیکن دسمبر میں معطل ہوگئے تھے۔بعد ازاں مئی 2022 میں یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے لیکن اختلاف رائے کی وجہ سے ناکامی ہوئی کیونکہ ان کا مطالبہ تھا کہ فاٹا کے علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا پارلیمنٹ کا فیصلہ واپس لیا جائے۔
مذاکرات میں ناکامی کے نتیجے میں ٹی ٹی پی نے حملے شروع کردیے جن میں ستمبر 2023 میں اضافہ ہوا۔ اکثر حملے خیبرپختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسمٰعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں ہوئے۔
وفاقی وزارت داخلہ نے اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک برس سے زائد عرصے تک رہنے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ٹی ٹی پی کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں۔اس حوالے سے ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بنیادی مطالبات پورے کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے ساتھ سابق فاٹا کا انضمام ختم کردیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کے گرفتار اراکین کو رہا کردیا جائے حالانکہ اس وقت مذاکرات جاری تھے۔ وزارت داخلہ نے ٹی ٹی پی کے ذیلی گروپس کی نشان دہی بھی کی تھی جو داعش سے الگ ہوگئے ہیں اور دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لیے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ مل رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے رواں ماہ کے شروع میں مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو دہشت گرد گروپ کے ساتھ اپنی مذاکرات کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے فیصلوں کا جائزہ لیں۔ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم چند چیزوں میں غلطی پر تھے جن میں سے ایک تو دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ بھی تھا۔
